59

غزل

کاش میری طرف
کوئی دیکھا کرے
کوئی غم خوار‘ غم
میرا آدھا کرے
پھر سے اندھا کرے
بارشِِ عشق میں
کوئی پھسلا کرے
چاہ ہے دن کو بھی
چاند نکلا کرے
رات دن ہر گھڑی
کوئی بھٹکا کرے
عشق یاسر سدا
حشر برپا کرے

خبر پر اظہار رائے کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں