علم، تحقیق اور کامیابی کی ایک خوبصورت داستان

بحر یہ یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس میں راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی طالبات کا اعزازتحقیق صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک طاقتور وسیلہ بھی ہے۔ جب نوجوان محققین اپنی صلاحیتوں، محنت اور علم کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنے ادارے اور ملک کا نام روشن کرتے ہیں تو یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں رہتی بلکہ پورے تعلیمی معاشرے کے لیے باعثِ فخر بن جاتی ہے۔

اسی جذبۂ تحقیق اور علمی سفر کی ایک خوبصورت مثال اس وقت سامنے آئی جب Bahria University کے شعبۂ Humanities & Social Sciences کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس “Society, Sustainability and Social Transformation in Digital Era” میں Rawalpindi Women University کی طالبات نے اپنی شاندار تحقیقی کاوش پیش کی اور “Best Presenter Award” حاصل کر کے ایک نمایاں اعزاز اپنے نام کیا۔

اس بین الاقوامی کانفرنس میں مختلف قومی و بین الاقوامی جامعات کے اسکالرز، محققین اور ماہرین نے شرکت کی، جہاں جدید دور میں سماجی تبدیلی، پائیداری، ٹیکنالوجی اور انسانی رویّوں سے متعلق تحقیقی موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کا ماحول علمی مباحث، تحقیقی بصیرت اور فکری ہم آہنگی سے بھرپور تھا۔ اسی علمی پلیٹ فارم پر راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے MS Scholar حفضہ اقبال اور ان کی Co-Presenter عروصہ جاوید نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔

تحقیقی مقالے کا عنوان تھا:“Organizational Justice and Employee Performance: The Mediating Role of Emotional Intelligence”

یہ تحقیق اداروں میں انصاف کے رویّوں، ملازمین کی کارکردگی اور جذباتی ذہانت کے باہمی تعلق پر مبنی تھی۔ مقالے میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ جب کسی ادارے میں ملازمین کے ساتھ منصفانہ رویّہ اختیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ جذباتی ذہانت اس تعلق کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس تحقیقی کام کی نگرانی اور رہنمائی Dr. Muhammad Ahsan Iqbal نے کی، جن کی علمی سرپرستی اور تحقیقی رہنمائی طلبہ کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔ اس مقالے کے Co-Authors میں MS Scholar حفضہ اقبال، عروصہ جاوید اور ارم غفار شامل تھیں، جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور تحقیقی صلاحیتوں کے ذریعے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

کانفرنس میں مقالے کی پیشکش کے دوران حاضرین نے موضوع کی اہمیت، تحقیق کے معیار اور Presenters کے اعتماد کو بے حد سراہا۔ خاص طور پر حفضہ اقبال اور عروصہ جاوید کی پُراعتماد اندازِ گفتگو، تحقیقی سمجھ بوجھ اور Professional Presentation نے ججز اور شرکاء پر گہرا اثر چھوڑا، جس کے نتیجے میں
Arosa javed department of mass and media
Ms scholar Hufza Iqbal department of business administration
کو Best Presenter Award سے نوازا گیا۔

یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی جامعات کی طالبات تحقیق، علم اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل اگر علم اور تحقیق کے میدان میں اسی جذبے سے آگے بڑھتی رہی تو مستقبل میں پاکستان علمی ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔

یہ اعزاز نہ صرف حفضہ اقبال، عروصہ جاوید، ارم غفار اور ڈاکٹر محمد احسن اقبال کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ Rawalpindi Women University کے لیے بھی ایک قابلِ قدر کامیابی ہے، جو طالبات کو تحقیق، قیادت اور بین الاقوامی معیار کی علمی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔


خصوصی مبارکباد Dr. Shahzad Hussain، Rawalpindi Women University کو بھی پیش کی جاتی ہے، جن کی قیادت اور بہترین تعلیمی ماحول نے طلبہ کو تحقیق، علم اور کامیابی کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے طلبہ کی جانب سے “Best Presenter Award” حاصل کرنا پورے Department of Business Administration کے لیے باعثِ فخر اور کامیابی کی علامت ہے۔


خصوصی طور پر Dr. Muhammad Ahsan Iqbal کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے طلبہ کو تحقیق کی جانب راغب کیا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں یہ یقین دلایا کہ محنت، علم اور مستقل مزاجی کے ذریعے ہر طالب علم اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔ آج اگر ان کے طلبہ بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں تو اس میں ان کی بہترین رہنمائی، اعتماد اور خلوص شامل ہے۔

علم کی یہ روشن شمعیں یقیناً آنے والے وقت میں معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی اور فکری روشنی کا سبب بنیں گی۔