پروفیسر محمد حسین
یہ ان حکایات میں سے ایک حکایت ہے جو کبھی پرانی نہیں ہوتیں ان کے دامن میں بصیرت و نصیحت کا سامان ہوتا ہے منزل کی طرف اشارے ہوتے ہیں نشاندات راہ کی نشاندہی ہوتی ہے اہل بصیرت ان حکایات کو پلے باندھ لیتے ہیں اور اپنی اولاد کو سنا کر سبق کو یاد رکھنا رکھتے ہیں بے بصیرت ان حکایات کو اگلوں کے افسانے قرار دے کر اپنی ہلاکت پر خود ہی مہر ثبت کردیتے ہیں یہ حکایت چند زمین دار نوجوانوں کی ہے جو اانسانیت کا درد رکھنے والے باپ کی بگڑی ہوئی اولاد تھے باپ جب تک زندہ رہا زمین کی پیدوار میں ناداروں ،غریبوں کو بھی حصہ دیتا رہا بیٹے جانشین ہوئے تو انھوں نے باپ کی سخاوت اور غریب پروری کو سادگی پر محمول کیا بھلایہ کیا بات ہوئی کہ کمائے کوئی اور کھائے کوئی ؟طے کر لیا کہ اب ایسا نہیں ہو گا ہمارے خون پسینے کی کمائی میں ایک دانہ بھی کبھی کسی کو نہیں ملے گا اس کا حل یہ سوچا یہ صبح سویرے باغ کا پھل توڑا جائے کسی کوکانوں کاں خبر ہی نہیں ہو سکے گا اس فیصلے کی رازداری پر سب بھائیوں نے قسمیں کھائیں اور سو گئے مگر رب تو نہیں سوتا نیند اور اونگھ اس کے قریب نہیں پھٹکتی وہ سوجائے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے انسان ہی نہیں حیوانات ،چرند پرند اور حشرات بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں باغ والوں نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی امن کی تدبیر اتنی اچانک اور خفیہ تھی کہ انھوں نے اس کا تصور بھی نہ کیا تھا باغ والوں نے غریبوں ناداروں ،محتاجوں ،بیواوں ،یتیموں کو محروم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ جس کھیت سے بھوکوں کو روزی میسر نہ ہوگی اس کھیت کے ہرخوشہ گندم کو جلا دیا جائے گا جب رات نے اپنی سیاہ زلفیں پھیلا کر زمین کی ہر چیز کو اندھیرے کی لپیٹ میں لے لیا تو دست قدرت نے بھیجے ہوئے کچھ سائے حرکت میں آگئے انھوں نے آناً فاناً باغ کو تباہ و برباد کر دیا اپنی ناقص عقل کے مطابق منصوبہ بنانے والے نوجوان صبح سویرے اٹھے اور انھوں نے اییک دوسرے کو چپکے چپکے آواز دی ’’پھل توڑنا چاہتے ہو تو اٹھو اور جلد کرو لوگوں کے بیدار ہونے سے پہلے سارا سمیٹ کر اپنے گھر میں لے آؤ‘‘وہ نہایت دھیمی آواز سے بات کر رہے تھے تاکہ کوئی سن نہ لے اورا ن کی تدبیر پوری طرح کامیاب ہوجائے وہ سارا پھل توڑ کر لے آئیں اور مساکین و غرباء کو کلی طور پر محروم کر یں انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ دست قدرت کے بھیجے ہوئے سائے رات کی تاریکی میں کیا آفت ڈھا چکے ہیں وہ نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے اور سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے اپنے باغ کی طرف جار ہے تھے یہ راستہ ان کا سالہ سال سے دیکھا ہوا تھا شب و روز آمد و رفت رہتی تھی لیکن یہ کیا ؟جب انھوں نے باغ دیکھا تو کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں ہمارا باغ تو پھل سے لدا ہوا تھا شاخیں جھکی جارہی تھیں مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں آنکھیں ملتے ہیں دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں مگر سامنے چٹیل میدان کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا پھر وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے اور اپنے کیے پر پچھتانے لگے اس حکایت کے کئی کردار ہمیں اپنے دائیں بائیں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں حب مال انسان کی بنیادی کمزوری ہے اور اس کی تاریخ بہت قدیم ہے وہ صفت و زراعت اور تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی ذہانت ،محنت اور قوت بازو کا نتیجہ سمجھتا ہے اوراسے سوسائٹی کے نادار افراد پر خرچ کرتا بڑا بوجھ محسوس کرتا ہے وہ پیداوار اور آمدنی سے اپنا اکاؤنٹ اور اپنی تجوریاں بھرتا چلاجاتا ہے لیکن وہ کبھی نہیں بھرتی ہیں ھل من مزید کی صدابلند سے بلند تر ہوجاتی ہے متمول اور صاحب ثروت انسان کے پاس یہ سوچنے کی فرصت نہیں ہوتی کہ ممکن ہے کہ مجھے جو کچھ دیا جارہا ہے اس میں غریبوں کا بھی حق ہو وہ جب ان کا حق ادا نہیں کرتا تو خود اسے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جب کوئی سعادت مند انسان مفلسوں اور مظلوموں کی مدد کرتاہے تو ان کے دل سے نکلی ہوئی دعائیں تجارت میں برکت فیکٹریوں میں حرکت اور کھیتوں کی مدد کرتا ہے توان کے دل سے نکلی دعائیں تجارت میں برکت فیکٹریوں میں حرکت اور کھیوں کھیلانوں میں رحمت کا باعث بنتی ہیں عشر کو اگر ایک مٹا ہوا فریضہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا عشر ادا کرنے والے لوگ بہت کم ہیں اگر پاکستان جیسے زرعی ملک میں عشر دیانتداری سے ادا کیا جائے تو ملک کے طول و عرض میں پھیلے غربت و افلاس کے مہیب سائے چھٹ سکتے ہیں اور پھر خصوصاً یتیموں کی کفالت بے سہارا بیوہ خواتین کی دیکھ بھال اور شہداء و غازیوں کے گھرانے اور معذور افراد کی آنکھوں میں چمک ،سوکھے ہونٹو ں پر تازگی لاغر چہروں پر بشاشت اور غربت و افلاس سے تھکی زندگی میں شادمانی و فرحانی آسکتی ہے ذرا سوچئیے اگر چند اصحاب عزیمت عشر جیسے مٹے ہوئے فریضہ کو زندہ کرنے کا عزم کر لیں تو کیا بعید ہے کہ ایک چراغ سے کئی کئی چراغ روشن ہو جائیں۔