سولر پینلز,بیٹریوں اور انورٹرز پر ایک سے بڑھا کر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگنے کا امکان۔

بجٹ کی تیاریوں کے دوران آئی ایم ایف نے حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی، سولر توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو دی گئیں کئی اہم ٹیکس رعایتیں ختم یا محدود کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف، بجٹ 2026-27 میں سیلز ٹیکس استثنیٰ اور رعایتوں میں نمایاں کمی کے مطالبے پر بدستور قائم ہے۔ اسی سلسلے میں سولر پینلز پر عائد سیلز ٹیکس کو موجودہ ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ بیٹریوں اور انورٹرز پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سولر سیکٹر کو دی گئی ٹیکس مراعات کے خاتمے کا خواہاں ہے جس کے باعث یکم جولائی 2026ء سے شمسی توانائی سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر حاصل سیلز ٹیکس چھوٹ بھی ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت 30 جون 2026ء تک برقرار رہے گی۔