سرکنڈے کے پودے نے خطہ پوٹھوارکی خوب صورتی میں کیا اضافہ کیا ہوا اور اسے ہماری ماضی کی کونسی یادیں وابستہ ہیں ؟

تحریر: سلیم اختر راجپوت
میرے شہر چک بیلی خان کو اللّٰہ تعالیٰ نے بہت خوب صورت بنایا ہے اس میں جا بجا فطرت کے خوب صورت رنگ دکھائی دیتے ہیں،سر سبز و شاداب کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں،خوش بودار پھولوں اور میٹھے پھلوں سے آراستہ باغات،آنکھوں کو فرحت بخشتے حسین نظارے،بلند وبالا درختوں پر چہچہاتے پرندے چک بیلی خان کی خوب صورتی کے لوازمات ہیں،ستمبر کے آغاز سے دسمبر کے آخری ایام تک چک بیلی خان میں جس طرف نگاہ اٹھائیں اس طرف کھیتوں،راستوں اور پگڈنڈیوں کے ساتھ ساتھ سات آٹھ فٹ بلند ایک خوب صورت پودا نظر آتا ہے جسے سرکنڈہ کہا جاتا ہے،جب دھیرے دھیرے ہوا چلتی ہے تو اس پودے پر سنہری مائل سفید پھول اس طرح دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے سفید لباس میں ملبوس کئی اجسام خوشی سے جھوم کر رقص کر رہے ہوں .
سرکنڈے پر پھول اس بات کی علامت ہیں کہ گرم موسم کے گزر جانے کے بعد سرد موسم کی آمد آمد ہے، یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ فصل کاشت کرنے کا مناسب وقت آ گیا ہے اسی لیے کسان کھیتوں میں بیج بونے کو ترجیح دیتے ہیں .


چک بیلی خان کی خوب صورتی میں سرکنڈے کے پودے کا حصہ تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پودے کو اور بھی مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی کیا جاتا ہے،میرے زمانہء طالب علمی میں سرکنڈے سے تیار کردہ قلم کا استعمال عام تھا جسے دوات میں موجود سیاہی میں ڈبو ڈبو کر لکڑی سے بنی تختی پر حروفِ تہجی لکھنے کی مشق کی جاتی تھی،گورنمنٹ پرائمری سکول چک بیلی خان کے قریب ہی واقع دکان پر سرکنڈے سے بنا قلم دستیاب تھا ، جس کا قلم ٹوٹ جاتا وہ چاقو کی مدد سے اسے گھڑ لیتا یا گھر سے بنا کر لایا گیا دوسرا قلم استعمال کر لیتا یا دکان سے خرید لیتا .
سرکنڈے سے تیار کردہ جھاڑو اکثر گھروں میں صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،جھاڑو بنانے کے لیے نرم روشیں درانتی سے کاٹی جاتی ہیں اس کے لیے بڑی احتیاط کی جاتی ہے کیوں کہ ان روشوں کی تیز دھار کی وجہ سے ہاتھوں سے خون بہہ سکتا ہے .


آج سے تقریباً پچیس سال قبل جب میں شہر اقتدار میں ملازمت کے دوران مقیم تھا تو میرا ایک ہم پیشہ مظہر نامی لڑکا جو بارہ کہو کے قریب کسی گاؤں کا رہائشی تھا،سرکنڈوں سے بڑے خوب صورت فن پارے تیار کرتا تھا وہ فارغ وقت میں سرکنڈے کے پودے کاٹ کر لایا کرتا جن سے پتلے،درمیانے اور موٹے کانے الگ الگ کر لیتا اور انہیں حسب ضرورت استعمال میں لاتا،بعض کانوں کو وہ آگ کے استعمال سے سیاہی مائل کر لیتا اور سفید اور سیاہ رنگ کے امتزاج سے ایسے فن پارے تخلیق کرتا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے، وہ سرکنڈے کے کانوں سے راکھ دان تیار کرتا،آئینہ کودیوار پر آ ویزاں کرنے کے لیے خوب صورت ڈیزائن بناتا،روٹی ڈھانپنے کے لیے چنگیریں اور بہت کچھ،وہ بڑا ہنر مند اور محنت کش تھا .


یہ نومبر کا آغاز ہے،چک بیلی خان میں سرکنڈوں کے پودوں کی خوب صورتی نے ہمیشہ کی طرح میری توجہ اپنی جانب مبذول کروالی اور میں سرکنڈوں کے پودوں کے بیچ سے گزر کر قدرت کی جانب سے عطا کردہ نشانیوں پر غور کرنے لگا کہ ان پودوں نے میرے سوہنے شہر چک بیلی خان کی خوب صورتی میں کتنا اضافہ کر دیا ہے .
سرکنڈے کے پودے کو کاٹ کر میرے گاؤں میں بنائے جانے والے گھروں کی چھتوں پر ڈالا جاتا جس کے اوپر مٹی ڈالی جاتی اور اس کے بعد اوپری سطح پر چکنی مٹی کا لیپ کیا جاتا تھا، اب یہ طریقہ ختم ہو چکا ہے اس کی جگہ سیمنٹ سے تیار کردہ چھت پر ڈالنے والے لوازمات کا استعمال کیا جاتا ہے .
سرکنڈے سے تیار کردہ مزید اشیاء بھی دستیاب ہیں جنہیں بوقت ضرورت استعمال میں لایا جاتا ہےان اشیاء میں سخت سردی اور تیز دھوپ کی تمازت سے بچاؤ کے لیے چق بنائی جاتی ہے،چارپائیاں بننے کے لیے بان،کرسی کی طرح بیٹھنے کے لیے موڑھے،چٹائیاں،جھونپڑیوں کے چھپّر اور دیگر بے شمار اشیاء تیار کی جاتی ہیں .