ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات قابلیت رکھنے والا شخص مواقع کی تلاش میں دربدر پھرتا ہے، جبکہ کم صلاحیت رکھنے والا فرد محض تعلقات، سفارش یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر آگے نکل جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف کسی ایک ادارے، شعبے یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ تعلیم، ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف مراحل میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں صلاحیت سے زیادہ تعلقات کی اہمیت بڑھ جائے تو پھر محنت کرنے والے نوجوان اپنے مستقبل سے کیا امید وابستہ کریں؟
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک نوجوان برسوں محنت کرتا ہے، امتحانات میں کامیابی حاصل کرتا ہے، اپنی مہارتوں کو بہتر بناتا ہے اور روزگار کے لیے درخواستیں جمع کرواتا ہے۔ وہ انٹرویوز کی تیاری کرتا ہے، اپنے تجربے اور قابلیت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر نئے موقع سے امید وابستہ کرتا ہے۔ لیکن جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کسی آسامی پر انتخاب کا فیصلہ میرٹ کے بجائے ذاتی تعلقات یا سفارش کی بنیاد پر ہوا ہے تو اس کی مایوسی صرف ایک ملازمت نہ ملنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورے نظام پر اس کا اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔
یقیناً ہر ناکامی کے پیچھے سفارش یا ناانصافی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات امیدوار مطلوبہ مہارتوں پر پورا نہیں اترتا، انٹرویو میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا پاتا یا کسی دوسرے امیدوار کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر مسترد ہونے والے امیدوار کے لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ تاہم، جب انتخاب کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہو، معیار واضح نہ ہوں اور متعلقہ قابلیت کے بجائے ذاتی روابط کو اہمیت دی جائے تو میرٹ پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
سفارش بذاتِ خود ہمیشہ غلط نہیں ہوتی۔ کسی قابل امیدوار کے بارے میں مثبت رائے دینا، اس کی صلاحیتوں کی تصدیق کرنا یا اسے کسی مناسب موقع سے متعارف کروانا ایک جائز عمل ہو سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سفارش کسی امیدوار کی قابلیت کا تعارف کرانے کے بجائے اسے دوسروں پر ناجائز ترجیح دلانے کا ذریعہ بن جائے۔ کسی شخص کی اہلیت کو نظرانداز کرکے محض اس کے تعلقات کی بنیاد پر اسے موقع دینا نہ صرف دوسرے امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ اس ادارے کے مفادات کے بھی خلاف ہے جو بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کا انتخاب کرنا چاہتا ہے۔
میرٹ کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ہر شخص کو برابر موقع ملنا چاہیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اداروں کی کارکردگی کا انحصار درست انتخاب پر ہوتا ہے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے میں تقرریاں قابلیت کے بجائے تعلقات پر ہوں، کسی دفتر میں ذمہ داریاں اہل افراد کے بجائے بااثر افراد کو دی جائیں یا کسی تنظیم میں ترقی کا معیار کارکردگی کے بجائے قربت بن جائے تو اس کے اثرات بالآخر پورے نظام پر پڑتے ہیں۔ کام کا معیار متاثر ہوتا ہے، اہل افراد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور اداروں میں جواب دہی کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں کی سوچ پر پڑ سکتا ہے۔ جب محنت اور صلاحیت کے باوجود آگے بڑھنے کے راستے غیر واضح محسوس ہوں تو بعض نوجوان اپنی قابلیت بہتر بنانے کے بجائے تعلقات بنانے کو کامیابی کا بنیادی ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ افراد مایوسی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ نوجوانوں کی نقل مکانی کے پیچھے معاشی حالات، بہتر تعلیم، تنخواہوں اور پیشہ ورانہ ترقی سمیت متعدد عوامل ہوتے ہیں؛ اس لیے اسے صرف سفارش کے مسئلے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
اس مسئلے کا حل محض شکایت یا تنقید میں نہیں، بلکہ ایسے طریقۂ کار کی تشکیل میں ہے جہاں انتخاب کے اصول واضح ہوں اور ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ملازمتوں کے اشتہارات میں مطلوبہ قابلیت اور ذمہ داریوں کی وضاحت، امیدواروں کے لیے یکساں معیار، انٹرویوز کے منظم طریقے اور انتخاب کے فیصلوں کی مناسب دستاویز بندی شفافیت کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ امیدوار کی شناخت یا تعلقات سے متاثر ہونے کے بجائے اس کی مہارت، تجربے اور کارکردگی کو اہمیت دیں۔ اسی طرح شکایات کے لیے مؤثر نظام ہونا چاہیے تاکہ کسی امیدوار کو ناانصافی کا شبہ ہو تو وہ مناسب طریقے سے اپنا مؤقف پیش کر سکے۔
دوسری طرف نوجوانوں کو بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، عملی تجربے، مؤثر ابلاغ اور مسلسل سیکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔ میرٹ کے حق میں آواز اٹھانے کا مطلب ذاتی بہتری کی ذمہ داری سے دست بردار ہونا نہیں۔ ایک منصفانہ معاشرے میں نظام کو بہتر بنانے کی کوشش اور اپنی قابلیت میں اضافہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہل افراد کو مواقع دیں، جبکہ امیدواروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مواقع کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
آخرکار کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی عمارتوں، تعلیمی اداروں یا معاشی سرگرمیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہاں عام شہری کو اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھنے کا کتنا موقع ملتا ہے۔ اگر صلاحیت رکھنے والے افراد کو بار بار یہ احساس ہو کہ ان کی محنت سے زیادہ کسی اور کا تعلق اہم ہے تو معاشرے میں مایوسی اور بے اعتمادی بڑھ سکتی ہے۔ ہمیں ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں سفارش کسی قابل شخص کی صلاحیت متعارف کرانے تک محدود رہے، اس کی جگہ لینے کا ذریعہ نہ بنے۔ کیونکہ جب فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں تو صرف ایک اہل امیدوار کامیاب نہیں ہوتا، بلکہ پورا ادارہ اور بالآخر پورا معاشرہ اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔