راشد منہاس شہید: وطن کی حرمت پر جان قربان کرنے والا شاہین

قوموں کی تاریخ صرف واقعات سے نہیں بنتی بلکہ ان کرداروں سے بنتی ہے جو اپنے عمل سے آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ ایسے ہی عظیم سپوتوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے وطن کی سلامتی، عزت اور وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان روشن کرداروں میں پاکستان ایئر فورس کے نوجوان پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نشانِ حیدر کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
راشد منہاس 17 فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں ہوا بازی کا شوق تھا۔ اسی شوق نے انہیں پاک فضائیہ کی طرف راغب کیا اور انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔ مارچ 1971ء میں انہیں 51ویں جی ڈی (پائلٹ) کورس میں کمیشن ملا اور وہ پائلٹ کی حیثیت سے اپنی پیشہ ورانہ تربیت آگے بڑھانے لگے۔


20 اگست 1971ء کا دن ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا، لیکن اسی دن انہوں نے اپنے کردار کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ اس وقت راشد منہاس پاک فضائیہ کے مسرور بیس، کراچی میں زیرِ تربیت تھے۔ وہ ایک T-33 جیٹ ٹرینر طیارے میں پرواز کے لیے روانہ ہو رہے تھے کہ ان کے انسٹرکٹر پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن نے زبردستی طیارے کے پچھلے کاک پٹ میں داخل ہو کر اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔


مطیع الرحمن طیارے کو پاکستان سے باہر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ راشد منہاس کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہوگئے، لیکن جب انہیں ہوش آیا تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ طیارہ بھارت کی سمت لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ ایک نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار پائلٹ تھے جبکہ سامنے ایک تجربہ کار انسٹرکٹر موجود تھا، مگر راشد منہاس نے ہمت نہیں ہاری۔


صورتحال انتہائی نازک ہو چکی تھی۔ طیارہ بھارتی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا اور راشد منہاس کے سامنے وطن کی عزت و سلامتی کا سوال تھا۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ طیارے کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کا واحد راستہ اسے تباہ کرنا ہے تو انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی۔ انہوں نے طیارے کو زمین کی طرف موڑ دیا اور یہ T-33 جیٹ ٹرینر بھارتی سرحد سے تقریباً 32 میل پہلے تباہ ہوگیا۔ اس واقعے میں راشد منہاس اور مطیع الرحمن دونوں ہلاک ہوئے۔


یہ محض ایک فضائی حادثہ نہیں تھا بلکہ وطن سے وفاداری، فرض شناسی اور بے مثال قربانی کی داستان تھی۔ راشد منہاس کے پاس اپنی جان بچانے کا راستہ شاید موجود نہ تھا، مگر ان کے سامنے ایک اور راستہ ضرور تھا: وطن کی حرمت کو اپنی زندگی پر ترجیح دینا۔ انہوں نے اسی راستے کا انتخاب کیا۔


راشد منہاس نے صرف 20 سال کی عمر میں شہادت پائی۔ ان کی عظیم قربانی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے سب سے بڑے عسکری اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔ وہ نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پاکستان کے سب سے کم عمر فرد اور پاک فضائیہ کے واحد افسر ہیں جنہیں یہ عظیم اعزاز ملا۔


ان کی شہادت کا مقام گوٹھ احمد شاہ، ضلع سجاول، سندھ ہے۔ آج بھی ان کا نام پاک فضائیہ کی تاریخ میں غیر معمولی جرأت اور حب الوطنی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پاک فضائیہ اور قومی ادارے ہر سال ان کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔


راشد منہاس شہید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن سے محبت صرف الفاظ کا نام نہیں۔ حقیقی حب الوطنی اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان اپنے ذاتی مفاد، آرام اور حتیٰ کہ اپنی زندگی کو بھی قومی مفاد پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔ آج کی نوجوان نسل اگر راشد منہاس کی زندگی سے ایک ہی سبق حاصل کر لے تو وہ یہ ہے کہ فرض سے وفاداری انسان کو عمر سے نہیں بلکہ کردار سے بڑا بناتی ہے۔


راشد منہاس صرف 20 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی قربانی نے انہیں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ ان کا نام آج بھی پاکستان کے شاہینوں، نوجوانوں اور محبِ وطن شہریوں کے لیے حوصلے کی علامت ہے۔
راشد منہاس شہید نے ثابت کیا کہ زندگی کی طوالت نہیں، بلکہ مقصد کی عظمت انسان کو امر کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ راشد منہاس شہید سمیت وطن کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔