راجہ شاہد محمود پکھڑال گاوں پنگ لڑ راولپنڈی

راجہ شاہد محمود پکھڑال اس وقت پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ مگر یہ روایتی پولیس کا فرد لگتا ہی نہیں۔ آپ کے اندر انسانیت سر تا پا سمندر کی لہروں کی طرح گھوم رہی ہوتی ہیں اور شاہد راجہ کا یہ بڑا پن ہے جو ساری زندگی ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ایک بار میں راجہ قدوس، راجہ ریحان قمر، راجہ چنگیز راجہ زبیر اور دیگر فیملی کے رشتے دار ان کے گھر افطاری پر گئے تو افطاری کے بعد کافی گپ شپ رہی، سب سے آخری جملہ ان کی زبان سے یہ نکلا کہ ”میں اپنی برادری کیلئے جان دینے میں سب سے آگے کھڑا ہوں“ انکے اس جملے نے میرے دل ودماغ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

راجہ شاہد محمود میری والدہ کے جنازے میں بھی آئے بعد میں میرے گھر بھی تشریف لائے۔ میں نے شاہد صاحب سے کہا کہ آپ ہمارے قبیلے کے سربراہ چوہدری راسب خان پکھڑال منہاس جنہوں نے ہم سب کو اکٹھا کیا انہیں بتائے بغیر ان کے گھر تشریف لے جائیں، یہ جملہ بولنا تھا توکہنے لگے کہ میں کل ہر حال میں جاوں گا۔ اس کے بعد کہنے لگے میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ جب شاہد صاحب ان کے گھر گئے تو ہم سب کو اطمینان سا ملا۔ پھر کیا ہوا کہ زندگی یکسر بدل گئی ،جب راجہ شاہد محمود پنگ لڑ والے عمرہ کر کے آئے تو چوہدری راسب پکھڑال منہاس، راجہ خالد محمودپکھڑال، پروفیسر راجا امجد منہاس اور دیگر افراد ان کے گھر عمرے کی مبارک باد دینے پہنچ گئے۔

اللہ پاک ہم سب کو ایسے ہی اتحاد و اتفاق میں جوڑے رکھے آمین۔ راجہ شاہد محمود کے پردادا کا نام راجہ قائم خان،دادا کا نام راجہ محمد اکبر خان اور والد کا نام راجہ محمد منیر خان ہے۔ آپ کو اللہ پاک نے دو بیٹیوں سے نوازا ہے۔ آپ کے پانچ بھائی اور ایک بہن ہے۔ انکے نام راجہ محمد اخلاق، راجہ قیصر محمود، راجہ فیصل محمود،راجہ عمران محمود ہیں۔ یہ سب راجہ شاہد محمود سے چھوٹے ہیں۔ اللہ پاک سب کو اتحاد و اتفاق کے بندھن میں جوڑے رکھے، آمین۔ اب چلتے ہیں راجہ شاہد محمود کی زندگی کی جانب۔ آپ پولیس کی وردی میں بھی نماز نہیں چھوڑتے۔ آپ کے چہرے اور داڑھی کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اندر رب سے محبت اور انسانیت دل ودماغ کے چاروں طرف گھوم رہی ہوتی ہے۔

جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو مجھے پروفیسر شاہد بھائی کہہ کر گلے لگا لیتے ہیں یہی انکا بڑا پن ہے۔ راجہ شاہد بھائی مجھے ڈانٹنا مت مگر یہ بات میں ارد گرد کے افراد کو سبق دینے کیلئے کہہ رہا ہوں۔ مجھے کسی نے بتایا کہ مستحق افراد کی اس طرح سے مدد کرتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں لگنے دیتے،مگر یاد رکھیں آپ جو کام منفی یا مثبت کرتے ہیں وہ سب کو معلوم ہو جاتا ہے۔آپ کے اندر انسانیت مرتے دم تک رہے گی انشاءاللہ۔آپ کے خاندان سے جو افراد یہ فانی دنیا چھوڑ گئے انہیں جنت میں اعلیٰ مقام اور ہم سب کو اسی دنیا میں بہترین کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ جاتے جاتے ایک شعر راجہ شاہد محمود پکھڑال کیلئے۔ خدا نے آج تک آس قوم کے حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا