
اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے خاص ومقرب بندے ہوتے ہیں جو اپنے ایمان، اطاعت الہی، تقویٰ اور پرہیزگاری سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرلیتے ہیں اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلیتے ہیں تو اللہ کے ان مقرب بندوں پر انوارو کرامات کی بارش ہونے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اعزاز وکرامات سے نوازتاہے اور انہیں عزت وسربلندی کا مقام عطا فرماتا ہے۔ایسے ہی پاکباز نفوس کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ترجمہ،بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اورنہ کوئی غم، جولوگ ایمان لائے وہی پرہیزگار ہیں۔ پارہ 11 سورہ یونس62) ان ہاشمی النسب پاک نفوس کے قافلے میں شامل ایک نیک و پاک طینت روحانی ہستی حضرت خواجہ پیر شاہ صدرالدین قریشی الہاشمی المعروف پیر خواجہ نوریؒ سرکار بھی شامل تھے
جنہیں اپنے آباءو اجداد کا پیغام پہنچانے کیلئےکوہستان نمک کی طرف خروج کرنے کا حکم ملا اور آپؒ نے اس ویران وبیابان خطے میں توحید ورسالت کی شمع روشن کی اور عام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور سیرتِ نبویکے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیا۔ اس خوش نصیب ہستی کا نسلی تعلق خاندان قریش بنو ہاشم اور نسبی تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے تھا۔ آپؒ کا شجرہ نسب حضرت بہاوالدین زکریاؒجیسی باکمال ہستی سے ہوتا ہوا مکہ مکرمہ کے خاندانِ سادات بنی ہاشم کے چشم وچراغ حضرت مہیارؒ (المعروف حضرت عمرانؒ)سے جا ملتا ہے جوحضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کے پردادا حضرت ہاشم کے صاحبزادے تھے۔
حضرت خواجہ پیرعلی قتالؒ کے فرزند مخدوم ملت حضرت پیرخواجہ نوری سرکارؒ جن کا اسم گرامی اصلاً مخدوم شاہ صدرالدین قریشی الاسدی الہاشمی تھا، ہی سے اپنے والدگرامی قدر کے سلسلہ طریقت ومعرفت کو فروغ نصیب ہوا جنہوں نے زہدوتقویٰ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت سے روشناس کروا کر ان کی خدمت کو اپنے شعار کے طورپر اپنا کر اپنے آباءکی سنت کو ازسرنو زندہ کیا۔ آپؒ کی پوری زندگی اللہ کریم اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزری اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار فضائل وکمالات سے نواز کر اپنے قرب خاص سے سرفراز فرمایااور ان کے سر پر روشن ومنور تاج ِولایت مزین فرمایا۔ آپؒ نے پیل غازی جیسے دشوار گزار پہاڑی خطے کو انسانیت کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے مرکز بنایا۔
آپؒ نے ایسی جگہ اسلام کی شمع روشن کی جہاں ظلمت و جاہلیت کاراج تھا اور آپ کے وجودِمسعود سے عام لوگ راہ ہدایت پر گامزن ہوئے۔ آپؒ کے بلند اخلاق، عالی نسب اور بلاامتیاز خدمت خلق نے علاقے کے عوام کو اپناگرویدہ بنا لیا کہ آپؒ کے وصال مبارک کے 60 سال بعد بھی آپؒ کے فیض کے چشمے متلاشیانِ حق کیلئے اسی طرح جاری ہیں اور لوگ ابھی تک آپؒ پر اپنی محبتیں اور چاہتیں نچھاور کر رہے ہیں۔ آپؒ کی بے پناہ خدمات پرآپؒ کو خراج ِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ہر سال عرس مبارک کے موقع پر اہلیا ن ِعلاقہ اور صوفی المشرب زائرین کی ایک کثیر تعداد عقیدت ومحبت سے شرکت کرتی ہے اور یہ اس علاقے کا سب سے بڑا علمی اور روحانی اجتماع ہوتا ہے۔
آپؒ کے دم قدم سے ہی اس سرزمین کے افق ومیدان روشن ومنور ہوئے اور اس علاقے کو نئی زندگی، نئی امنگ اور نئی پہچان ملی۔ آپؒ نے اپنے حسن اخلاق اور حسن کردار سے عام آدمی کو اپنا گرویدہ بنایا اور آپؒ کے فیوض وبرکات کے باعث اس علاقے میں شمعِ حق ابھی تک روشن وفروزاں ہے گوکہ آپؒ کے وصال مبارک کو کئی سال ہوچکے ہیں لیکن آج بھی آپؒ کا آستانہ مرجع خلائق ہے اور صاحبان طریقت ومعرفت کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے لیے بھی آپؒ کا روحانی فیضان ِ کرم جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔