16مئی کو جب چوہدری نثار علی خان نے کلر سیداں تا راولپنڈی ائیر کنڈیشنڈ بس سروس کا افتتاح کیا تواسی روز شام کو دوست نے پوچھا کہ اس بس سروس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے تو میرا جواب تھا کہ اس بات میں رتی برابر بھی شبہ ء کی گنجائش نہیں کہ یہ سروس اہل علاقہ کے لئے کسی نعمت سے کم ثابت نہیں ہو گی بے شک ایک بہترین سروس کا آغاز ہوا ہے مگر مجھے فکر اس بات کی ہے کہ کہیں اس بس سروس کو مستقل بنیادوں پر چلانے میں مشکلات پیش نہ آئیں دوست نے پوچھا وہ کیوں جناب ؟ جواباََ میں نے اسے ماضی کا ایک مشاہدہ بیان کیا کہ جب میں زیر تعلیم تھا تو کلر سے روالپنڈی روزانہ سفر کرنا پڑتا تھا جو بڑاتکلیف دہ مرحلہ ہوا کرتا تھا انہی دنوں میں واران Varan کے نام سے ایک بہترین بس سروس کا آغاز ہوا خواتین کے لئے الگ حصہ والی آرام دہ کشادہ روشن ائر کنڈیشنڈ بسیں جڑواں شہروں اور گردونواح میں ہر کہیں سڑکوں پر عوام کو سفری سہولت پہنچاتی نظر آتیں پہلے سٹاپ سے آخری سٹاپ تک کا کرایہ بھی انتہائی
مناسب رکھا گیا تھا کچھ عرصہ تک میں بھی روات سے راولپنڈی تک اس سروس کی معیاری سہولیات کا لطف اٹھا تا رہا اور آج تک اُس بس سروس کا معترف ہوں مگر پھر یوں ہوا کہ اس بس سروس سے متاثر ہونے والے ٹرونسپورٹرز کی جارحیت نے بسوں کو اسی بس سٹینڈ جہاں سے وہ چلا کرتی تھیں پر کھڑے کھڑے تباہ حال ڈھانچوں میں تبدیل ہونے پر مجبور کر دیا کیوں کے سڑکوں پر ان بسوں کو چلا کر بسیں جلوانے توڑ پھوڑ کروانے اور جانی و مالی نقصان اٹھانے سے بہتر مالکان کو یہی لگا کہ اس بس سروس کو ہی ختم کر دیا جائے اور ایک بار پھر جڑواں شہروں کی سڑکوں پر ٹو یو ٹا مافیا کا را ج قائم ہو گیا اس اجارہ داری کو ختم کرنے کا واحد حل شائد یہی تھا کہ مکمل طور پر الگ سڑک بنا کر اس پر معیاری بس سروس چلائی جائے جو اب میٹرو بس منصوبے کی صورت میں ممکن ہوتا نظر آرہا ہے ‘ماضی کے اس مشاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے خدشہ ہے کہ یہ بس سروس ایسی ہی مشکلات کا شکار نہ ہو جائے ، اور پھر 27مئی کی صبح مجھے خبر ملی کہ رات گئے دو بسوں کو نظر آتش کر دیا گیا ہے اور عوام مقامی ٹراسپورٹر ز کو موردالزام ٹھہرا رہی ہے اس واقع کے رونماء ہونے میں کئی عوامل شامل ہیں گو معاملہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جارہی ہیں اورجب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں کوئی نتیجہ اخز کرنا اور مقامی ٹرانسپورٹرز کو مورود الزام ٹھہرانا ہرگز مناسب نہ ہو گا لیکن ذکر ان جزئیات کا مقصود ہے جنہیں نظر انداز کیا گیا، بس سروس کے آغاز سے قبل مقامی ٹرانسپورٹرز مقامی انتظامیہ اور بس سروس مالکان کے درمیان باہمی مفاہمت لازم و ملزوم تھی کیونکہ بس سروس کے آنے سے پہلے سے موجود پرائیوٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کا متاثر ہونا لازم تھا سینکڑوں کی تعداد میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سے منسلک گھرانوں کا رزق وابستہ ہے سو ان سینکڑوں لوگوں کے مفادات کو پس پشت ڈال دینا عقلمندی نہیں ، بس سٹینڈ کی سیکیورٹی کے مناسب انتظامات نہیں کئے گئے تھے آگ بجھانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے آلات سرے موجود ہی نہیں تھے بغیر مناسب انتظامات کے سروس کے آغاز پر بھی سوالیہ نشان آتا ہے بحر حال شر پسند عناصر کی اس کاروائی نے عوام میں مقبولیت پانے والی اس بس سروس کو خاک میں ملانے کی کوشش کی ہے قوی امکان ہے کے عوام کو سہولت فراہم کرنے والی بسوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگانے والے ہاتھ جلد ہتھکڑیوں میں جکڑے نظر آئیں گے،بس سروس مالکان کے حوصلہ اور خندہ پیشانی کی بھی داد دینا پڑے گی کہ جن کی دو بسیں جل کر خاک ہو گئیں مگر احتجاجََ ایک تنکہ بھی اپنی جگہ سے نہ ہلایا گیا اور واقع کے وقت سے تا حال بس سروس مکمل طور پر عوام سہولت فراہم کر رہی ہیں۔{jcomments on}