
ہمارے یہاں کی سیاست کسی عذاب سے کم نہیں کیونکہ سیاست دانوں نے اپنا اصل کام(قانون سازی)چھوڑ کر محکموں کے کام۔سنبھال رکھے ہیں جو کہ سول محکموں کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ محکمے تباہ ہوچکے ہیں ترقی یافتہ ملکوں میں ہر محکمہ سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد رہ کر اپنے فرائض کی ادائیگی کرتا ہے جس کے باعث محمکہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتا ہے ہمارے یہاں ہر محکمے کو سیاسی قوتوں نے رکھیل بنا رکھا یے ۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی محکمہ اپنی کارکردگی کے لحاظ قابل قدر کردار ادا کرنے سے قاصر یے ۔نالیوں گلیوں سے شاہراہوں کی تعمیر تک ہر کام حکومت وقت کے ایم۔پی اور اے ایم این اے یا اس جماعت کے شکست خوردہ ٹکٹ ھولڈر کی مرضی اور منشا سے منسلک ہوتی ہے ۔سفید اور بے داغ لباس میں ملبوس ہمارے رہبر ورہنماء تعمیر و ترقی کے حوالے تسیلوں اور خوابوں کے ساتھ بظاہر ہماری فلاح وبہبود نعرے لگاتے نظر آتے ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق یہ مخلوق کسی طور عوام سے مخلص نہیں ۔
ان کی بدولت ہمارا معاشرہ ناہمواریوں کا شکار ہے یہاں انصاف اور توازن عنقا ہیں بدقسمتی سے ہم۔جس معاشرے میں جی رہے ہیں وہاں ناانصافیوں کی تیز وتن آندھیوں نے عوام کو زندہ درگور کررکھا ہے یہاں ایک جانب حرب وضرب کے ماہر ہاتھوں نے کمال مہارت سے سب کچھ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے تو دوسری جانب سیاسی جبر ہمارا شکار کررہا ہے ہم گذشتہ 78 برس کا وقت گذر جانے پر بھی اپنے زخم۔سہلا رہے ہیں ہمارے ملک کی ایلیٹ کلاس ایک ایسی مخلوق ہے جو کبھی بھی مکمل طور پر ہماری سمجھ میں نہیں آسکی اس کی قلابازیاں اس کی بے ثبات زندگی کی چاہ نے انہیں کس کس مقام پررسوا نہیں کیا
اس کلاس کو اس کا ادراک ہوجائے تو مختلف النوع کے تماشے بھی بند ہوجائیں اور یہ عوام۔دشمن تماشہ گر خاک چاٹنے ہر مجبور ہوجائیں لیکن یہ اس لیے مشکل ہے کہ ہم خود اپنے آپ سے مخلص نہیں ہم نے اپنی اپنی پسند کے سیاسی بت تراش رکھے ہیں اور ان بتوں کو پوجنے کی حد تک چاہتے ہیں وہ جو کچھ کرگزریں
ہم ان کا دفاع کریں گے یہی ان کی کامیابی ہے اور وہ ہماری اسی کمزروی اور بے وقوفی کا خراج وصول کرتے ہیں۔ہمارا کام بس تالیاں پیٹنا اور نعرے لگانا ہے ہم بنیادی سہولتوں سے محروم رہ کر بھی ان کی جے جے کار کرتے ہیں ہماری ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہماری گلیاں ہمارے راستے ہماری بے بے بسی اور ہمارے رہبروں کی بےحسی بیان کرتے ہیں۔جس کی ایک بڑی مثال بیول سے کلر سیداں وایا ٹکال چوہا خالصہ ہوسکتی ہے جو گذشتہ کٹی دھائیوں سے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے جو اس سڑک پر سفر کرتے ہیں
اس کرب کو وہی محسوس کرسکتے ہیں ۔سڑک پر موجود گڑھے اور بارش کے بعد ان گڑھوں میں جمع ہونے والا پانی یہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے کی عوام دشمنی کا کھلا ثبوت ہے ۔یہ لوگ الیکشن میں ووٹ مانگنے آتے ہیں بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرتے ہیں لیکن پھر اگلے الیکشن تک دوبارہ نظر نہیں آتے ۔یہاں سے منتخب ہونے والے ایم پی اے راجہ صغیر کا تعلق مرکز و پنجاب کی حکمران جماعت مسلم۔لیگ سے ہے 2018 میں راجہ صغیر آزاد جیتبے کے بعد پنجاب ومرکز کی حکمران جماعت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ۔
لیکن دونوں ادوار میں یہ سڑک ان کی توجہ حاصل نہ کرسکی ۔عوام اور میڈیا کی بار بار نشاندھی پر راجہ صغیر معتدد بار میڈیا ٹاک کے دوران اس سڑک کی تعمیر کاوعدہ کرتے رہے ہیں لیکن افسوس وہ تاحال وعدہ وفا نہ کرسکے ۔اس سے قبل بھی راجہ صغیر کے حلقے کی کچھ سڑکیں عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت باہمی چندے سے بنوائی جس میں بڑا کردار علاقے کے اورسیز پاکستانیوں کا رہا ۔لیکن بیول ۔کلر سیداں سڑک اپنی طوالت کے باعث اپنی مددآپ کے تحت کسی صورت نہیں بنائی جاسکتی ۔اس کے لیے حکومتی سطح پر توجہ ضروری ہے جس کے لیے منتخب ایم پی اے کو حکومت پنجاب سے فوری فنڈ منظور کروانا چاہیے ۔راجہ صغیر عوام کو دریشں اس سنگین مسلے پر عوامی تکلیف کااحساس کریں ۔