ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی عالمی سیاست کا ایک اہم باب رہی ہے، اور ایسے میں پاکستان میں ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد بلاشبہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مختلف عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، مگر موجودہ حالات میں اس نوعیت کے حساس مذاکرات کی میزبانی کرنا نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اس عمل کے ذریعے پاکستان خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اس مثبت سفارتی پہلو کے ساتھ ساتھ جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں نافذ کی گئی سکیورٹی پابندیوں اور طویل بندشوں نے ایک مختلف اور پیچیدہ حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے، جو براہ راست عام شہریوں، مقامی معیشت اور خاص طور پر کم آمدنی والے طبقوں سے جڑی ہوئی ہے۔
بین الاقوامی وفود کی آمد کے پیش نظر حکومت کی جانب سے سکیورٹی کو اولین ترجیح دینا ایک فطری عمل ہے۔ اس مقصد کے لیے شہر کے اہم علاقوں کو سیل کرنا، داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ، اور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا بظاہر ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ مگر جب یہ اقدامات کئی دنوں تک جاری رہیں اور ان کا دائرہ کار وسیع ہو جائے تو ان کے اثرات محض سکیورٹی تک محدود نہیں رہتے بلکہ شہری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ اسلام آباد کے اہم سرکاری اور کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، اور روزمرہ سرگرمیوں سے وابستہ مقامات جب بند یا محدود ہو جائیں تو اس کا براہ راست اثر لاکھوں افراد پر پڑتا ہے۔
سب سے نمایاں اثر ٹرانسپورٹ اور نقل و حرکت کے نظام پر دیکھنے میں آیا۔ جب مرکزی شاہراہیں بند کی جائیں یا ان پر غیر معمولی پابندیاں عائد ہوں تو شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ دفاتر جانے والے ملازمین، طلبہ، مریض، اور دیگر افراد کو نہ صرف طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں بلکہ کئی مواقع پر انہیں اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر منسوخ کرنا پڑتی ہیں۔ اس صورتحال میں وقت کا ضیاع، ذہنی دباؤ اور مالی نقصان ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو روزانہ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، ان کے لیے ایک دن کی رکاوٹ بھی بڑی مشکل کا سبب بن سکتی ہے، چہ جائیکہ یہ صورتحال کئی دنوں تک جاری رہے۔
معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس قسم کی بندشیں مقامی معیشت پر فوری اور براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ جڑواں شہروں کی معیشت بڑی حد تک روزمرہ کاروباری سرگرمیوں، چھوٹے تاجروں، خدمات فراہم کرنے والے افراد اور غیر رسمی شعبے پر انحصار کرتی ہے۔ جب دکانیں بند ہوں، مارکیٹیں غیر فعال ہو جائیں اور گاہکوں کی آمد و رفت رک جائے تو کاروبار کا پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔ یہ سست روی وقتی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بعد میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں، کیونکہ ایک دن کا نقصان اکثر کئی دنوں تک پورا نہیں ہو پاتا۔
خاص طور پر دیہاڑی دار طبقہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے پاس نہ تو بچت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا مالی تحفظ۔ روزگار میں ایک دن کی رکاوٹ براہ راست ان کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔ جب کئی دنوں تک کام نہ ملے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں قرض لینا، بنیادی ضروریات میں کمی کرنا، یا دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پالیسی سازی کے دوران معاشرے کے اس کمزور طبقے کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہی طبقہ کسی بھی معیشت کی بنیاد ہوتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو چھوٹے کاروباری افراد اور سروس سیکٹر سے وابستہ لوگوں کا ہے، جیسے رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی سروس فراہم کرنے والے، ریڑھی بان، اور گھریلو سطح پر کام کرنے والے افراد۔ ان کے لیے بھی نقل و حرکت کی پابندیاں براہ راست آمدنی میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔ جب سڑکوں پر رش کم ہو، گاہک نہ ہوں، یا راستے بند ہوں تو ان کی روزی روٹی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو خواتین جو روزمرہ خریداری کے لیے مارکیٹ جاتی ہیں، انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے گھریلو نظام متاثر ہوتا ہے۔
یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا سکیورٹی اور عوامی سہولت کے درمیان بہتر توازن قائم نہیں کیا جا سکتا؟ دنیا کے کئی ممالک بڑے بین الاقوامی ایونٹس اور حساس مذاکرات کی میزبانی کرتے ہیں، مگر وہاں مکمل یا طویل لاک ڈاؤن کی صورتحال کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مؤثر منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور عوام کے ساتھ بہتر رابطہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر پیشگی منصوبہ بندی کی جائے، متبادل ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جائے، اور شہریوں کو بروقت اور واضح معلومات فراہم کی جائیں تو اس طرح کے مسائل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کی فراہمی کا نظام اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر شہریوں کو پہلے سے معلوم ہو کہ کون سے علاقے کب بند ہوں گے، کون سے راستے متبادل کے طور پر دستیاب ہوں گے، اور کن اوقات میں نقل و حرکت ممکن ہوگی، تو وہ اپنی سرگرمیوں کو اس کے مطابق ترتیب دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا، موبائل ایپلیکیشنز، اور روایتی میڈیا سب کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر ایسے مواقع پر معلومات کا فقدان یا غیر واضح معلومات شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ طبقات کے لیے کسی قسم کا معاشی ریلیف بھی فراہم کرے۔ اگرچہ یہ ایک عارضی صورتحال ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات خاص طور پر کم آمدنی والے افراد کے لیے شدید ہوتے ہیں۔ مختصر مدت کے لیے مالی امداد، ٹیکس میں رعایت، یا دیگر سہولیات ایسے حالات میں عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب اس تمام صورتحال کا ایک مثبت پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ایران اور امریکہ جیسے ممالک کے درمیان مذاکرات کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے پاکستان اپنی سفارتی ساکھ کو مضبوط بنا سکتا ہے اور خود کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوا سکتا ہے۔ مگر اس مثبت پہلو کو مکمل طور پر مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اندرون ملک بھی ایک متوازن اور عوام دوست حکمت عملی اپنائی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔ اگر عوام ہی مشکلات کا شکار ہوں تو بڑی سے بڑی سفارتی کامیابی بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مستقبل میں ایسے مواقع پر ایک جامع اور متوازن پالیسی اختیار کی جائے جس میں سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سہولت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو نہ صرف ایک کامیاب میزبان بلکہ ایک ذمہ دار اور عوام دوست ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔