اک مسکراہٹ کی تلاش

تحریر: فخرالزمان سرحدی
زندگی کے تقاضے اور اصول بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ انسانیت ایک مسکراہٹ کی تلاش میں کس قدر مضطرب رہتی ہے، شاید ہم نے کبھی اس پہلو پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔ جدت پسندی کے جنون میں مبتلا انسان کس قدر خود غرضی اور لالچ کے گرداب میں گرفتار ہو چکا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کے لیے گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے۔


سماج افراد کے باہمی تعاون، اخوت اور اتفاق سے تشکیل پاتا ہے۔ اکیلا انسان زندگی کی تمام منزلیں طے نہیں کر سکتا۔ دوسروں کے تعاون، ہمدردی اور مدد سے ہی زندگی کا حقیقی لطف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو لوگ خواہشات کی اندھی راہوں پر چل پڑتے ہیں، انہیں اپنی ذات اور اپنے مفادات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ دوسروں کے درد کی کسک محسوس نہ کرنے والے لوگ درحقیقت احترامِ انسانیت اور خدمتِ آدمیت کے مقام سے بے خبر رہتے ہیں۔ دوسروں کی خاطر جینا اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنا تو معراجِ انسانیت ہے۔
بقولِ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے


زندگی کا اصل مقصد انسانیت کے اصولوں اور تقاضوں کا احترام کرنا ہے۔ جو لوگ اپنی خودی کی پاسبانی کرتے اور معراجِ انسانیت کے راز سے آگاہ ہوتے ہیں، وہی زندگی میں کامیابی کی حقیقی منزلیں طے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسروں کی خوشی اپنی خوشی اور دوسروں کا دکھ اپنا دکھ بن جاتا ہے۔ یہی احساس انسان کو خود غرضی کی تنگ و تاریک حدود سے نکال کر ایثار و محبت کی وسیع دنیا میں لے جاتا ہے۔


علم ایک ایسی روشنی ہے جو نہ صرف دلوں کو منور کرتی ہے بلکہ فکر و شعور کو بھی جِلا بخشتی ہے۔ علم و آگہی انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کا سلیقہ عطا کرتے ہیں۔ دیارِ عشق میں مقام پیدا کرنے والے، دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے والے اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنانے والے لوگ ہی مسکراہٹوں کی دولت تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں مٹھاس، رویّوں میں خلوص اور کردار میں محبت کی خوشبو ہوتی ہے۔


زندگی دراصل زندہ دلی کا نام ہے۔ مسکراہٹ اور تبسم کی دولت ہی سے رونقِ حیات برقرار رہتی ہے۔ جب دلوں میں الفت و محبت کے چراغ روشن ہوں تو نفرت، حقارت اور کدورت کے اندھیروں کو جگہ نہیں ملتی۔ باہمی تعلقات، خلوص، رواداری اور ہمدردی کے جذبات سے زندگی میں ایک ایسی خوش گوار کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے محبت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ محبت ہی ہے جو اجنبی دلوں کو قریب لاتی، بکھرے رشتوں کو جوڑتی اور زندگی کی تلخیوں کو کم کرتی ہے۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ دلوں کے دریچوں میں بہارِ حسنِ اخلاق سے آتی ہے۔ میٹھے بول، نرم رویّے، خندہ پیشانی اور دوسروں کے احترام کا جذبہ انسان کی شخصیت کو دل کش بنا دیتے ہیں۔ بسا اوقات کسی کے چہرے پر بکھری ہوئی ایک مسکراہٹ، محبت سے کہے گئے چند الفاظ یا ہمدردی کے دو بول کسی غم زدہ انسان کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس تلخ لہجے، خود غرضانہ رویّے اور بے حسی دلوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔

معاشرتی زندگی کے تقاضوں سے آگاہی اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے مقام، مرتبے اور ذمہ داریوں کو پہچان سکے۔ قوتِ فکر و عمل سے ایک نیا جہان آباد ہوتا ہے، جبکہ اچھی روایات کا فروغ ایک صحت مند اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ جس قدر انسان علم و تعلیم کی دولت سے بہرہ مند ہوتا ہے، اسی قدر اس کے کردار، فکر اور عمل میں نکھار پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم علم کی حقیقی قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب وہ انسان کے کردار اور عملی زندگی میں بھی نمایاں ہو۔


نیکی اور بدی کی پہچان، حلال و حرام میں تمیز، صداقت کی اہمیت اور خدمتِ خلق کی حقیقت بھی علم و شعور کی روشنی میں واضح ہوتی ہے۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں حاصل کرنا یا معاشی آسودگی کے راستے تلاش کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا انسان تیار کرنا بھی ہے جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، سچائی کو اپنائے، اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرے اور معاشرے کے لیے باعثِ رحمت بنے۔


اسی لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت ایسے خطوط پر کی جائے جن کے ذریعے وہ حقیقی معنوں میں خدمتِ انسانیت کے راز سے آشنا ہو سکے۔ ان کے دلوں میں احترامِ آدمیت، احساسِ ذمہ داری، ایثار، رواداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا کیے جائیں۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی غم زدہ کو تسلی دینا، کسی مایوس شخص کو امید دلانا اور کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنا بھی عظیم انسانی اقدار کا حصہ ہے۔


سماج کے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویّوں میں خلوص، اپنے کردار میں سچائی اور اپنے معاملات میں انصاف پیدا کریں۔ جب معاشرے میں محبت، اعتماد اور باہمی احترام کو فروغ ملے گا تو اطمینان و سکون کی برکھا برسے گی۔ دلوں کی ویران بستیاں آباد ہوں گی اور زندگی کی تلخیوں میں بھی امید کے پھول کھلنے لگیں گے۔
یاد رکھیے! حقیقی مسکراہٹ دولت، شہرت یا ظاہری شان و شوکت سے نہیں، بلکہ خلوص، سچائی، حسنِ اخلاق اور بے لوث محبت سے جنم لیتی ہے۔ سچائی کے پھولوں کی خوشبو، خدمتِ خلق کے جذبے اور انسانیت کے احترام سے ہی مسکراہٹ کی حقیقی ثروت حاصل ہوتی ہے۔
آئیے! ہم اپنے حصے کی روشنی بانٹیں، اپنے حصے کی محبت تقسیم کریں اور اپنی ذات کو دوسروں کے لیے باعثِ سکون بنائیں۔ شاید ہماری ایک مسکراہٹ کسی کے غم کا بوجھ ہلکا کر دے، ہمارا ایک محبت بھرا جملہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دے اور ہمارا ایک نیک عمل کسی مایوس انسان کے لیے امید کا چراغ روشن کر دے۔
کیونکہ زندگی کی سب سے بڑی خوب صورتی یہی ہے کہ ہم خود بھی مسکرائیں اور دوسروں کے لبوں پر بھی مسکراہٹ سجانے کا سبب بنیں۔ یہی احترامِ انسانیت ہے، یہی خدمتِ خلق ہے اور یہی ایک خوب صورت، پُرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔