تحریر:عبدالخطیب چوہدری
ماسٹر صاحب کی چند برس قبل ہی سکول میں تعیناتی ہوئی علم دوستی کی وجہ سے میری بھی ان سے ایسی دوستی ہوئی کہ جب کبھی موقع ملے تو دفتر میں بھی چکرلگا لیتے ہیں قوم کے معماروں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا نظر آتا ہے شایدیہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے پر انہیں متعدد محکموں میں ملازمت کی پیشکش اور چند ایک پوسٹس کیلئے کوالیفائی کرنے کے باوجود مدرس بننے کو ترجیح دی گزشتہ روز چھٹی کے بعد دفتر تشریف لائے دعا وسلام کے بعد روٹین سے ہٹ کر خاموشی اختیار کرتے ہوئے اخبار میں مگن ہوگئے میں خاموشی کو بھانپتے ہوئے بات چیت کرنے کی کوشش کی تو گویا ہوئے کہ میں آپ سے ناراض ہوں یہ سنتے ہی میں چونک اٹھا ا اللہ خیر مجھ سے کیوں اور کیا ناراضگی؟چند لمحے مزید خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے کہ ہم آپ کی ہر خوشی اور ایونٹ کو نہ صرف یاد رکھتے ہیں
بلکہ بھر پور انداز میں سیلیبریٹ بھی کرتے ہیں لیکن آپ تو ہمیں بھول گئے میں حیرانگی و پشیمانی میں گوش گزار ہوا کہ مجھے آپ کی خوشی کے بارے میں کوئی علم ناں ہے پھر گویا ہوئے آپ تو میڈیا کے بندے ہیں کیسے بے خبر رہ سکتے ہیں۔اس بار ذہن میں آیا کہ آج تو ٹیچر ڈے ہے اس مناسبت سے وش کرنا میری اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے میں نے معذرت چاہی تو قبول کرتے ہوئے کہا ابھی آپ کی وش کی ضرورت نہیں اس امر نے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ عزیز اوقارب اور دوست و احباب کی زندگیوں میں بے شمار خوشی و غمی کے لمحات آتے ہیں جس میں ہماری شرکت ان کی دلجوئی کے زمرے میں اتی ہے لیکن ہم سوشل میڈیا کی پرلطف زندگی میں محو ہوچکے ہیں کہ اپنوں کو نظر انداز کرکے ان دیکھے دوستو ں پرقیمتی لمحات نچھاورکررہے ہوتے ہیں ماسٹر صاحب کی تعیناتی کے بعد سکول میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں اور بلخصوص طلباء کو عصر نو اور دور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء کو زیور تعلیم سے اراستہ کرنے کے اقدامات سے مجھے انتہائی خوشی ہورہی ہوتی ہے کہ آج معاشرہ اور تعلیمی اداروں میں باکردار استاد کی ضرورت ہے چونکہ استاد ہر دور میں روشنی کے مینارکی مانند ہوتے ہیں
80 کی دہائی میں ہائی سکول ساگری میں انگریزی کے استاد ماسٹر ابراہیم صاحب خوش قسمتی سے ہمارے محلے دار تھے اللہ تعالی غریق رحمت فرمائے شام کو ان کے گھر اخبار آتا وہ محلہ کے بڑوں کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کے لیے پڑھ کر سناتے اور بچوں کومطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے اس زمانہ میں اتوار کی بجائے جمعتہ المبارک کو ہفتہ وار تعطیل ہوتی تو گاوں کے بچوں کو جمع کرکے ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے نشر ہونے والا بچوں کا پروگرام سناتے میزبان کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات کے لیے بچوں سے ہاتھ کھڑا کرواتے تاکہ ان میں خود اعتمادی اور پڑھنے کا ذوق و شوق پیدا ہو ان کی بچوں سے ایسی دوستی اور پیار تھا کہ جب وہ شام کو چھٹی کرکے گھر کی جانب واپس آتے کئی بچے ان کی سائیکل میں سوار ہونے کے لیے انتظار کررہے ہوتے تھے جیسے ہی سائیکل نظر آتی بیٹھنے کے لیے دوڑ لگا دیتے گاؤں میں کسی کا خط آتا تو پڑھانے کے لیے اور چھٹی لکھانے کے لیے ان کے گھر میں آنے والوں کو عزت سے بٹھایا جایا اور دودھ و چائے سے تواضع بھی کرتے آج وہ اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی روشنی سے آج بھی معاشرہ مستفیدہورہا ہے میری ابتدائی تعلیم گاوں کے پرائمری سکول سے ہے نرسری میں داخلہ لیا تو استاد محترمہ مس شائستہ جبین سے والدہ جیسا پیار ملا۔اللہ تعالی درجات بلند فرمائیں۔فروغ تعلیم ہی ان کی زندگی کا مقصدالعین اور اوڑھنا بچھونا رہا صبح گھر سے نکلتیں تو طلباء کی لمبی لائن ان کے پیچھے ہوتی جیسے ایک سپہ سالار کسی بڑے لشکر کو کمانڈ کررہا ہو سارا دن بچوں کی تعلیم و تربیت کے بعد گھر کی جانب واپسی نہیں بلکہ شام گئے تک میرے سمیت غریب بچوں کو پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھنا ان کا آئے روز کا معمول تھا۔ غریب طلباء سے ہمدردی کا یہ عالم کہ ایک دو زیرتعلیم بچوں کا قیام و طعام بھی اپنے ہاں کیے ہوئے ہوتا
استاد کی عظمت کوترازو میں نہ تولو
استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے
پرائمری پاس کرنے کے بعد بھی میرااستاد محترمہ سے ملاقات کا سلسلہ ان کی زندگی تک جارہی رہا آج ان کو پردہ فرمائے ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کوہے لیکن موہڑہ بھٹاں کے باسی گاؤں کے سرکاری سکول کو مس شائستہ کے سکول کے نام سے پکارتے اور جانتے ہیں استاد ہو پھر شاگرد میں اپنی یادیں نقش نہ کرے یہ تو ممکن ہی نہیں۔
فیڈرل ہائیر سیکنڈری سکول روات میں کلاس نہم میں زیر تعلیم تھا کہ ہمارے کلاس ٹیچر اور انگریزی کے استاد ماسٹر مرزا نسیم صاحب کا تعلق بھی ہمارا علاقہ سے تھا وہ جیسے ہی صبح کلاس روم میں طلباء کی حاضری سے فارغ ہوتے کہتے ہاں جی خطیب بیٹا کھڑے ہوجاؤانگلش کا سبق سناؤ۔کام دکھاؤ۔ میں نالائق بندہ روز روز کی توجہ سے تنگ آکر انگلش پر توجہ دینا میری مجبوری بن گئی ایک دن تفریح کے دوران اچانک ہی سکول کے برآمدے میں میرے سامنے سے آ گئے میرے سر پر ہاتھ کر فرمانے لگے مجھے پتہ ہے کہ آپ کلاس میں تنگ ہوتے ہیں لیکن مجھے پتہ ہے کہ ٓاپ غریب و مزدور کے بیٹے ہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ ٓاپ گاؤں میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں گے ان کی یہ بات میرے ذہن میں نقش ہوگئی پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ بندہ ناچیز کو گاؤں سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔میں اپنے اساتذہ کرام کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ ان کی محنت تعلیم وتربیت اور دعاؤں کے صلہ میں آج تک بات بنی ہوئی ہے ورنہ مجھ میں ایسی بات نہیں میں ماسٹر صاحب اور تمام اساتذہ کرام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ محکمانہ پالیسیوں اور مالکان کی سختیوں کے باوجود بھی روشنی کے مینار ثابت ہورہے ہیں بقول شاعر
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں۔