
چودھری خان محمد صاحب کی رہائش گاہ میرے پڑوس میں تھی، آپ کے اور میرے آبائی گھر میں صرف ایک گھر حائل تھا جو حاجی چودھری محمد حنیف صاحب معلم گورنمنٹ ہائی سکول چک بیلی خان کی ملکیت تھا میرا کبھی کبھار ان گھروں میں آ نا جانا لگا رہتا تھا۔ میں چار پانچ سال کی عمر کو پہنچا تو مجھے گورنمنٹ پرائمری سکول چک بیلی خان میں داخل کروا دیا گیا جو اس وقت گاوں کے وسطی تالاب کے کنارے چودھری باز خان کے مکان میں قائم تھا، مجھے فخر ہے کہ ابتدائی جماعت سے ہی میں چودھری خان محمد کی صحبت میں رہ کر حرف شناسی اور ہندسوں کی پہچان کرنے کے قابل ہو گیا کیوں کہ آپ سب بچوں کو بڑی محبت اور شفقت سے پڑھاتے تھے، جہاں تک ممکن ہوتا سزا سے اجتناب کرتے تھے اس وجہ سے بچے ان سے جلد مانوس ہو جاتے، آپ نے لکڑی سے بنی تختی پر ہمیں لکھنا سکھایا اور لوہے کی چادر سے بنی سلیٹ پر اعداد کی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم سے آشنا کروایا۔
تمام بچے تختی پر سیاہی سے سرکنڈوں سے بنے قلم سے اپنا آموختہ لکھا کرتے تھے اور پھر اس سیاہی سے تحریر شدہ حروف کو حذف کرنے کیلئے قریبی تالاب پر جا کر پہلے پانی سے حروف مٹاتے اور پھر وہیں تالاب میں کنارے کے قریب بھربھرے پتھر جنہیں دیہی علاقوں کی زبان میں پوچا کہا جاتا،تختی کے دونوں طرف لگا کر تختی کو تھوڑی دیر خشک ہونے کے لیے رکھ دیتے اور خشک ہونے کے بعد اٹھا کر جماعت میں لے جاتے،آپ کے یاد کروائے گئے پہاڑے میرے ذہن سے اب تک محو نہیں ہوئے، آپ کے انداز تدریس کی بدولت میں نے بہت جلد لکھنا، پڑھنا اور سبق کو سمجھنا شروع کر دیا۔
استادِ محترم چودھری خان محمد سخت جاڑے میں سردی سے بچنے کے لیے گرم چادر اوڑھ کر سکول تشریف لاتے،جب سورج نکلنے کے بعد سردی میں کمی محسوس ہوتی تو مجھے آواز دیتے اور کہتے،اوئے ڈیموں! ادھر آو،وہ مجھے سیموں کہہ کر بلاتے تھے میں فوراً اٹھ کھڑا ہوتا اور کہتا جی استاد جی، آپ مجھے گرم چادر دے کر کہتے کہ یہ چادر ہمارے گھر دے دواور پھر تفریح کرو، میں خوش ہو جاتا کہ تفریح جلد مل گئی۔
چودھری خان محمد صرف سبق ہی یاد نہیں کروایا کرتے تھے بلکہ اپنی جماعت کے ہر بچے کو شجرہ نصب بھی یاد کرواتے تھے، مجھے رائے بلوچ خان تک اپنا شجرہ ازبر تھا، آپ اکثر بچوں سے شجرہ نصب سنتے رہتے تھے، آپ کسی بھی بچے کو کہتے کہ اوئے فلاں! ذرا اپنی سات پیڑھیاں تو سنا، مجھ سے جب بھی آپ نے پیڑھیاں سنیں تو میں نے جھٹ سے سنا دیں۔ میں جس وقت جماعت پنجم کا طالب علم تھا اس وقت راولپنڈی تعلیمی ضلعی دفتر کی جانب سے وظیفہ کے امتحان کے لیے تین بچوں کے نام مانگے گئے تو آپ نے ان میں میرے علاوہ رانا سرفراز عظیم اور مظہر اقبال کے نام بھیج دئیے،میں نے امتحان میں شرکت کی مجھے وظیفہ نہ مل سکا۔
استادِ محترم چودھری خان محمد زمین کی پیمائش کا ہنر جانتے تھے، آپ نے مجھے بھی پیمائش سیکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ ہنر سیکھ لو تمہارے کام آئے گا، آپ نے مجھے ایک کاغذ پر پیمائش کے طریقے لکھ کر دئیے جو اب تک میرے پاس محفوظ ہیں البتہ میں نے انہیں سیکھنے میں دلچسپی نہیں لی۔ آپ لکڑی کی پہچان بھی رکھتے تھے اور ایک نظر دیکھ کر بتا سکتے تھے کہ لکڑی اندر سے کیسی ہے۔
آپ نے چک بیلی خان بشیر مارکیٹ میں روئی،سوتر اور چارپائی کی دکان بنا رکھی تھی جس پر زیادہ تر آپ کے بڑے بیٹے بھائی خالد محمود بیٹھا کرتے تھے اور آپ بھی تھوڑی دیر دکان پر جاتے اور اخبار پڑھتے یا قریبی دکان داروں سے گفتگو فرماتے، میں بھی بچوں کا اخبار پڑھنے ہفتے میں ایک بار وہاں جاتا تھا۔ چودھری خان محمد دھیمے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے، صاف ستھرے کپڑے زیب تن فرماتے،آ ہستہ آہستہ چلتے اور ہر چھوٹے بڑے سے مسکرا کر ملتے، آپ کے شاگرد آپ کی اعلیٰ تربیت کی بدولت اعلیٰ مقام پر پہنچے اور جہاں میں اپنا نام روشن کیا۔اللہ تعالیٰ استادِ محترم چودھری خان محمد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاءفرمائے آمین۔