اخلاص کا پیکر رفعت سعید اعوان

آج کا انسانوں لاکھوں نعمتیں حاصل ہو جانے کے باوجود مایوسی کا شکار ہے ، اپنی ذات سے مایوس ہے ، اپنی اہلیہ کے رویہ سے مایوس ہے ، اولاد کے رویوں سے مایوس ہے ،اپنے قریبی رشتوں سے مایوس ہے ، اپنے ارد گرد کے ماحول سے مایوس ہے، کلمہ پڑھنے کے باوجود، اللہ تعالیٰ کی لاکھوں نعمتیں حاصل ہونے کے باوجود، ایک صحت مند جسم رکھنے کے باوجود، ایک خدمت کرنے والی زندگی کی ساتھی ہونے کے باوجود، اولاد جیسی نعمت ہونے کے باوجود، اپنا آشیانہ ہونے کے باوجود ، مخلص بہن بھائیوں کے رشتوں کے باوجود، مخلص دوستوں کا ساتھ ہونے کے باوجود طرح طرح کی مایوسیوں کا شکار ہے ، آج ایک ایسی شخصیت کی زندگی کے چند اوراق کھول کر آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں، جو سب کے لیے سراپا خیر تھے ،

وہ پر امید رہتے تھے ، محبت کرنے والے تھے، سب کا احترام کرنے والے تھے، وہ شخصیت میرے بھائی رفعت سعید اعوان ہیں ، رفعت سعید اعوان 28 اگست 1954 کو کمانڈر فتح خان کے گھر پنڈ جھاٹلہ تحصیل راولپنڈی میں پیدا ہوئے، رفعت سعید اعوان کے والد گرامی پاکستان نیوی میں بوائے کے طور بھرتی ہوئے، وہ ایڈمرل شریف صاحب کے کورس میٹ تھے ، فتح خان پاکستان نیوی بوائے سے ترقی کرتے ہوئے کمانڈر رینک تک پہنچے ، گورنمنٹ آف پاکستان نے ان کی عظیم خدمات کے عوض زندگی کے آخری سانس پاکستان نیوی کی یونیفارم ریکمنڈ کی ،

اس طرح وہ اپنی عظیم خدمات کے عوض اپنی زندگی پاکستان نیوی کی یونیفارم میں رہے ، اور یونیفارم میں 1985میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اللہ ان کی خدمات قبول فرمائے، کمانڈر فتح خان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ، سب سے بڑے بیٹے عظمت جمیل اعوان ہیں جو IB اسٹنٹ ڈائریکٹر ریٹائر ہوئے ،اس کے بعد رفعت سعید اعوان تھے ، ان سے چھوٹے ہمارے محترم بھائی بلال عبد الناصر اعوان صاحب ہیں جو پاکستان نیوی سے کموڈور ریٹائر ہوئے ہیں ، آج کل ان کی رہائش نیول اینکریج میں ہے سب سے چھوٹے بیٹے عاطف رشید صاحب پاکستان نیوی سے کیپٹن ریٹائرڈ ہوئے، کمانڈر فتح خان صاحب کی چار بیٹیاں تھیں ، چاروں بیٹیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں سب اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار رہی تھیں ،

ان میں ایک اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں ، کمانڈر فتح خان صاحب کی سب سے چھوٹی بیٹی برگیڈیئر اخلاق صاحب کی اہلیہ ہیں ، برگیڈیئر اخلاق صاحب کی بیٹی اور کمانڈر فتح خان کی نواسی اور چار ماموں کی لاڈلی بھانجی سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کی زندگی کی ساتھی تھیں سکواڈرن عثمان یوسف 11 مئی 2025 دشمن کے بزدلانہ حملے میں اپنے جہازوں کی حفاظت کرتے ہوئے، شہید ہو گئے تھے، سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف صاحب کی دو معصوم بچیاں تھیں ، الحمد اللہ اس ناچیز کو اعزاز حاصل ہے میں اس خاندان کا ایک فرد سمجھا جاتا ہوں، محترم بھائی رفعت سعید اعوان صاحب کی شادی اپنی پھوپھو کی بیٹی کے ساتھ ہوئی تھی , ان کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹا عطا کیا تھا جو چوبیس گھنٹے زندہ رہنے کے بعد اللہ کو پیارا ہو گیا تھا، اس کے بعد محترم بھائی رفعت سعید اعوان کی ایک بیٹی ہے ،

ان کی بیٹی مریم سعید 14 فروری 1989 کو پیدا ہوئی ، مریم سعید اپنے ابو اور امی کی بہت ہی لاڈلی بیٹی تھی ، دونوں میاں بیوی نے اپنی بیٹی مریم سعید کو بڑے لاڈوں اور نازو نعم سے پالا تھا، رفعت سعید اعوان صاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نیول کالونی اسلام آباد میں گزارا وہاں ان کی سٹیشنری کی دکان تھی ، وہ مارکیٹ کے صدر بھی رہے ان کی رہائش لالہ زار راولپنڈی میں تھی اور دوکان نیول کالونی اسلام آباد میں تھی ، وہ بہت ہی شفیق انسان تھے ، صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے، ہمیشہ سچ بولتے ، سب سے مسکرا کر بولتے تھے، بچوں اور بڑوں سے شفقت سے پیش آتے تھے ، بہت ہی ملنسار تھے ،

ان کے والد صاحب کمانڈر فتح خان جماعت اسلامی کو پسند کرتے تھے، رفعت سعید اعوان صاحب نے سید مودودی رحمہ اللہ کو پڑھا ، وہ جماعت اسلامی کے متحرک کارکن تھے ، وہ ہمیشہ پُرامید رہتے تھے، مایوسی ان کے قریب نہیں آتی تھی ، وہ سب کے لیے سراپا خیر تھے ، بھائیوں اور بہنوں سے جذباتی محبت کرتے تھے، پھر بھائیوں اور بہنوں کی اولادوں سے جذباتی محبت کرتے تھے، 2017 وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی مریم سعید کے ساتھ گاؤں پنڈ جھاٹلہ میں منتقل ہوگئے تھے ، اس سے پہلے ان کی اہلیہ محترمہ سخت بیمار تھیں ، ان کی اہلیہ آٹھ سال بستر پر رہیں ، وہ اپنی اہلیہ کی خود خدمت کرتے تھے ، وہ اپنے گھر کا سارا کام خود کرتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے پروگرامات میں بھی شرکت کرتے تھے،

وہ مایوس سے دور رہتے تھے، ان کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور بھروسہ تھا ، انھوں نے اپنی پیاری بیٹی مریم سعید کی شادی عدنان کے ساتھ کی ، عدنان پنجاب پولیس میں سروس کررہیں ہیں، وہ بہت ہی سلجھا ہوا میچور نوجوان ہے ، مریم سعید کو اللہ تعالیٰ نے معاذ عدنان 18 دسمبر 2018 کو عطا کیا اس کی بعد ایک بیٹی 24 مئی 2020 کو عطا کی ، میرے بھائی رفعت سعید اعوان نواسے اور نواسی کی پیدائش پر بہت خوش تھے ، اس کے بعد اللہ تعالٰی ہماری بیٹی مریم سعید کو اور اس کی امی کو ایک اور آزمائش میں ڈال دیا ، محترم بھائی رفعت سعید اعوان 17 مارچ 2022 کو اللہ کو پیارے ہوگئے ، ان حالات میں مریم سعید کے تایا ابو عظمت جمیل صاحب اور چچا بلال عبد الناصر صاحب، عاطف رشید صاحب نے اپنی زمہ داریاں احسن انداز میں ادا کئیں ، ان کی وفات کے بعد اس کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ نے مزید دو سال بیماری کے حالت میں بستر پر گزارے ہیں

اور دو سال بعد 22 جون 2024 کو ان کی اہلیہ بھی اپنے محبت کرنے والے شوہر کے پاس پہنچ گئی ہیں ، مریم سعید بیٹی کا خاوند بہت کیئرنگ ہے ، تایا ابو ، دو چچا اور تینوں پھوپھو بھی اپنی بیٹی کا پورا خیال رکھتے ہیں، میری بیٹی اپنے اس کمزور چچا سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے ، اللہ تعالیٰ میرے بھائی رفعت سعید اعوان صاحب کو ان کی اہلیہ محترمہ کو ، ان کے والد کمانڈر فتح خان کو والدہ محترمہ کو ، لاڈلی بہن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ثم آمین، ہماری بیٹی مریم سعید کو اس کے خاوند اور بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے ، اللہ تعالیٰ سب کو آزمائشوں سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین، سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کی عظیم شہادت کو قبول فرمائے آمین ثم آمین