(پنڈی پوسٹ نیوز)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے “بیٹری اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف مخصوص اوقات میں سستی بجلی کی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا، تاہم اسے راضی کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور اپریل میں پہلا جامع توانائی پلان سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد ہو چکا ہے جسے 2035 تک 90 فیصد کرنے کا ہدف ہے، اور اس مقصد کے لیے ملک میں بیٹریوں کی درآمد کے بجائے مقامی مینوفیکچرنگ اور بیٹری اسٹوریج انڈسٹری کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔