
پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے مسائل روزمرہ کی زندگی کا ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں ۔ بڑھتی ہوئی آبادی ناکافی پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم اور نجی گاڑیوں کی کثرت نے سڑکوں پر ٹریفک جام کو معمول بنا دیا ہے جس سے عام آدمی کا وقت اور توانائی ضائع ہو رہی ہے۔ بڑے شہروں میں منظم اور باقاعدہ ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ اپنی ذاتی گاڑیاں اور موٹر سائیکل نکالنے پرمجبور ہیں۔سڑکوں پر گنجائش سے زیادہ گاڑیوں کے دباؤ کے باعث پر ہجوم اوقات میں سڑکیں پارکنگ لاٹ بن جاتی ہیں ۔اکثر روٹس پر خستہ حال بسیں اور ویگنیں چل رہی ہیں ۔
جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ میں رش اور مناسب سہولیات کا فقدان ہے الیکٹرک بسوں میں خواتین کے لیے الگ کمپارٹمنٹ ،سی سی ٹی وی کیمرے اور بزرگوں/طالبعلموں کے لیے مفت سفر کی سہولیات اس علاقے کی خواتین اور طلباء کے لیے بہت بڑا ریلف ثابت ہوں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے دور میں الیکٹرک بسوں کا انتہائی کم کرایہ عوام کی جیب پر بوجھ نہیں بننے دے گا۔اس سے نہ صرف عام آدمی کے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ انھیں محفوظ اور معیاری سواری بھی میسر آئے گی۔
کلرسیداں سے راولپنڈی کے مختلف روٹس پر جانے والے مسافروں کو طویل انتظار اور کرایوں کی من مانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اگر ان بسوں کا نیٹ ورک راولپنڈی سے کلرسیداں کے مین اسٹیشنز اور میٹرو بس روٹس تک جوڑ دیا جائے تو روزانہ سفر کرنے والوں کا وقت ضائع نہ ہو ۔کلرسیدا ں ایک اہم اور تاریخی تحصیل ہے ۔جس کا جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد)سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مسافروں ،طلباء اور ملازمین کا رابطہ رہتا ہے۔پاکستان کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں بسوں کا آغاز ایک تاریخی قدم ہے ۔جو سفر کو سستا،آرام دہ،اور آلودگی سے پاک بنا رہا ہے۔
یہ جدید بسیں نہ صرف عام شہریوں کے سفری مسائل حل کر رہی ہے ۔بلکہ طلباء ،بزرگوں اور خواتین کے لیے بھی زبردست سہولیات فراہم کر رہی ہے ۔پنجاب حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کی جدید کاری کے تحت الیکٹرک بس سروس یورپی شروع کی ہے جو کہ ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے مطابق ہے ۔ ان بسوں میں وائی فائی، یوایس بی، چارجنگ پورٹس اور آرام دہ ایئر کنڈیشنڈ ماحول فراہم کیاگیا ہے ۔
حکومت کی جانب سے طالب علموں اور بزرگوں شہریوں کے لیے ان بسوں میں سفر بالکل مفت یا انتہائی کم کرایہ پر رکھا گیا ہے ۔بسوں میں معذور اور وہیل چیئر کی (ramps) افراد کے لیے سہولت موجود ہے ۔مہنگائی کے اس دور میں ان بسوں کا کرایہ بہت کم(20 روپے) مقرر کیا گیا ہے۔ جس سے عام آدمی کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں کمی ہے۔اس وقت الیکٹرک سروس کو پنجاب کے مختلف اضلاع جیسے لاہور ، سرگودھا ،میانوالی، اور پاکپتن میں کامیابی سے چلایا جا رہا ہے۔اس کے علاؤہ اسلام آباد میں بھی ماحول دوست الیکٹرک بسوں کے روٹس کا آغاز ہو چکا ہے ۔ حکومت پنجاب سے اپیل ہے کہ ان بسوں کی سروس راولپنڈی سے کلرسیداں تک کی جائے۔
تاکہ متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنایا ج سکے۔ طلباء وقت کی پابندی کر سکے۔پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔روزمرہ کے مسافروں ، طلباء اور محنت کشوں کو ٹریفک جام ، غیر معیاری پبلک ٹرانسپورٹ اور مہنگے کرایوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔بڑے شہروں جیسے کراچی اور راولپنڈی میں معیاری سرکاری بسوں کی شدید کمی ہے ۔
پیٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے کرایوں میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔ جس سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہے ۔ راولپنڈی اور کلرسیداں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور سڑکوں کی بندش روزانہ سفر کرنے والے مسافروں ، طلباء کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ سیکیورٹی اقدامات ، ہڑتالوں اور روڈ کی بندش کے باعث ٹویوٹا ویگنیں اور کوسٹرز سروسز کا متاثر ہونا عام شہریوں کی معاشی اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے ۔
حکومت کو میٹرو جیسے منصوبوں کو تمام بڑے (BRT)بس ریپڈ ٹرانزٹ شہروں میں وسعت دینی چاہیے ۔ تعلیمی اداروں کے روٹس پر طلباء کے لیے “اسٹوڈنٹ شٹل سروس” یا مخصوص بسیں چلائی جانی چاہئیں تاکہ وہ محفوظ اور آرام دہ سفر کر سکیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں طلباء کو خصوصی رعایتی پاسز جاری کیے جائیں تاکہ ان پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ اوور لوڈنگ کی لعنت سے چھٹکارا مل سکے ۔لاہور کی اورنج لائن یا راولپنڈی و اسلام آباد کی میٹرو بس سروس جیسے جدید اور سستے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں کا دائرہ کار چھوٹے شہروں اور دیہات تک پھیلایا جائے ۔ طلباء ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی سہولت پر خرچ کیا گیا ہر روپیہ در حقیقت قوم کی ترقی کا باعث ہے،