ٹریفک حادثے کاشکار کمسن بچے کے لواحقین سے بدسلوکی ٹریٹمنٹ نہ دینے کا الزام ثابت ڈیوٹی ڈاکٹرملازمت سے برطرف

راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال (ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال) کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نے ٹریفک حادثے کا شکار کم سن بچے کے لواحقین سے بدسلوکی اور بچے کو فوری ٹریٹمنٹ نہ دینے کا الزام ثابت ہونے پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے برطرف ہونے والے ڈاکٹر زوہیب حسن ہسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک میں بطور ہاؤس سرجن تعینات تھے 22 اپریل کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ٹریفک حادثے کا شکار 6 سالہ بچے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا بچے کے والدین کا موقف تھا کہ ایکسرے کروانے کے بعد پتہ چلا کہ بچے کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے وہاں پر موجود عملہ نے ہمیں

آرتھوپیڈک ڈاکٹر کے پاس ریفر کیا جب متعلقہ آرتھوپیڈک کے پاس گئے تو موبائل فون میں مصروف ڈاکٹر نے 5 منٹ انتظار کا کہا پھر دوبارہ میں ان کے پاس گئے تو انہوں نے مزید 10 سے 15 منٹ انتظار کا کہا اور اس طرح تقریبا دو سے اڑھائی گھنٹے گزر گئے اور مذکورہ ڈاکٹر موبائل پر مصروف رہا جب بچے کے لواحقین نے اس طرز عمل کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ڈاکٹر نے ان سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے

موبائل چھیننے کی کوشش کی بعد ازاں بچے کے لواحقین نے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر کے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کمشنر راولپنڈی سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی جس پر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دوران ڈیوٹی موبائل استعمال کرنے، بچے کے لواحقین سے بدسلوکی کرنے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گزشتہ روز ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔