معروف صنعت کار میاں ریحان اشرف کا قتل ایک بڑا سانحہ

فیصل آباد کی فضا آج ایک ایسے المناک سانحے کے باعث سوگوار ہے جس نے نہ صرف ایک معزز کاروباری خاندان کو غم میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ شہر میں امن و امان کی صورتِ حال پر بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف صنعت کار اور جمسا ایلفی کمپنی کے مالک میاں محمد اشرف قادری کے جواں سال صاحبزادے، حافظِ قرآن میاں ریحان اشرف کی المناک موت نے ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو افسردہ کر دیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

میاں ریحان اشرف محض ایک معروف صنعت کار اور کاروباری شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ ایک شریف النفس، ملنسار اور باوقار نوجوان تھے۔ ان کے کاروبار سے وابستہ متعدد افراد کے روزگار کا سلسلہ بھی جڑا ہوا تھا۔ ان کی اچانک اور المناک موت نے ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب اور کاروباری حلقوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

چناب کلب کے باہر پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ اطلاعات کے مطابق میاں ریحان اشرف اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ چناب کلب میں ڈنر کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی لینڈ کروزر گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی، لیکن کچھ دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ ان کی گاڑی چوری کی جا رہی ہے۔ ٹریکر کے ذریعے گاڑی کی نقل و حرکت معلوم کرنے اور متعلقہ ٹریکر انتظامیہ سے رابطہ کرنے پر پتا چلا کہ گاڑی جڑانوالہ روڈ کی طرف جا رہی ہے۔

میاں ریحان اشرف گاڑی کا سراغ ملنے پر وہاں پہنچے تو مبینہ طور پر گاڑی نظر آ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب گاڑی لے جانے والے ملزمان کو معلوم ہوا کہ مالک ان کے سامنے آ گیا ہے تو انہوں نے فائرنگ کر دی۔ ایک گولی میاں ریحان اشرف کی گردن پر لگی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

یہ واقعہ محض ایک گاڑی کی چوری یا ڈکیتی کی واردات نہیں بلکہ ایک قیمتی انسانی جان کے ضیاع کا دردناک سانحہ ہے۔ ایک خاندان کا سہارا، ایک معصوم بچے کا شفیق باپ اور ایک نوجوان کاروباری شخصیت اپنے اہلِ خانہ کو ہمیشہ کے لیے سوگوار چھوڑ گیا۔واقعے کی مکمل تفصیلات، ملزمان کی شناخت اور واردات کے تمام پہلوؤں کی تصدیق متعلقہ اداروں کی تفتیش سے ہونی چاہیے، تاہم اس سانحے نے شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ تشویش ضرور پیدا کر دی ہے۔

چناب کلب جیسے مقام کے قریب واردات، انتظامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ چناب کلب فیصل آباد کے معروف مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں شہر کے کاروباری، سماجی اور دیگر اہم حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد آتے جاتے ہیں۔ ایسے مقام کے قریب گاڑی چوری ہونے اور پھر گاڑی کے تعاقب کے دوران فائرنگ سے ایک شہری کی جان چلے جانے کا واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کیا پارکنگ میں گاڑیوں کی حفاظت کے مناسب انتظامات موجود تھے؟ کیا مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام کام کر رہا تھا؟ کیا شہر کی اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے اقدامات کافی ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب شہری انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو اپنی تحقیقات اور عملی اقدامات کے ذریعے دینے چاہییں۔
کسی بھی معاشرے میں شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر شہری اپنی گاڑی پارک کرنے، اہلِ خانہ کے ساتھ کسی تقریب میں شرکت کرنے یا اپنی ملکیت کی حفاظت کے لیے بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ صورتِ حال یقیناً توجہ اور اصلاح کی متقاضی ہے۔

فیصل آباد کی تاجر برادری اور شہریوں میں تشویش فیصل آباد پاکستان کا اہم صنعتی اور تجارتی مرکز ہے۔ یہاں کے صنعت کار، تاجر، مزدور اور کاروباری طبقے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس شہر کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل اسی وقت ممکن ہے جب شہریوں کو امن، تحفظ اور قانون کی بالادستی کا یقین ہو۔میاں ریحان اشرف کی المناک موت پر تاجر برادری، وکلا، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی افسردگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ یہ سانحہ ایک خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے شہر کے لیے دکھ اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

ایک معروف صنعت کار کے نوجوان صاحبزادے کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے نے عام شہریوں کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک شہری اپنی گاڑی کی بازیابی کے لیے خود جائے اور اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے تو عام آدمی اپنے تحفظ کے لیے کس پر اعتماد کرے؟اس موقع پر ضروری ہے کہ واقعے کو محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اس کے اسباب، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ خامیوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔

میاں محمد اشرف قادری کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ میاں محمد اشرف قادری فیصل آباد کی معروف کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے حلقۂ احباب میں ایک شریف النفس، دین دار، ملنسار اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے والے انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ دیرینہ تعلق اور دوستی رکھنے والے افراد ان کی شرافت، خدمتِ خلق اور اچھے اخلاق کے معترف ہیں۔

ایسے والد کے لیے اپنے جوان سال بیٹے کی جدائی کا صدمہ کس قدر گہرا ہوگا، اس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے کبھی اپنے کسی عزیز کو اس طرح کھویا ہو۔ اولاد والدین کے لیے زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے، اور جوان بیٹے کی اچانک موت والدین کی زندگی میں ایسا خلا پیدا کر دیتی ہے جسے الفاظ سے بیان کرنا ممکن نہیں۔

میاں محمد اشرف قادری صاحب اور ان کے تمام اہلِ خانہ کے دکھ میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے دلوں کو سکون نصیب کرے۔شفیق باپ سے محروم ہونے والے بچوں کا دکھ میاں ریحان اشرف کی وفات کا سب سے زیادہ دردناک پہلو ان کے اہلِ خانہ اور معصوم بچوں کی محرومی ہے۔ ان کی بیوہ، والدہ، دیگر اہلِ خانہ، اکلوتے صاحبزادے محمد ابراہیم اور صاحبزادی کے لیے یہ جدائی ایک ایسا دکھ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔

بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جانا زندگی کی ان محرومیوں میں سے ہے جن کا احساس وقت گزرنے کے ساتھ بھی باقی رہتا ہے۔ آج محمد ابراہیم اور ان کی بہن اپنے شفیق باپ سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، ان کی بہترین تربیت اور مستقبل کے تمام مراحل میں آسانیاں پیدا فرمائے اور خاندان کو اس صدمے سے سنبھلنے کی ہمت عطا کرے۔ختمِ قل اور ایصالِ ثواب کی محفل میں سوگوار ماحولمرحوم میاں ریحان اشرف کے ختمِ قل اور ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ اپنے دوست میاں حسنین غفار صاحب کی اطلاع پر میں کنال پارک میں واقع جمسا ہاؤس پہنچا، جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے۔ ہر طرف غم، افسردگی اور سوگ کی کیفیت نمایاں تھی۔

ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے موجود تھے۔ نمازِ عصر ادا کی جا رہی تھی، جبکہ محفل میں آخرت کی فکر، زندگی کی حقیقت، صبرِ جمیل اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ایسے مواقع انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی رونقیں، دولت، کاروبار اور کامیابیاں سب عارضی ہیں۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر انسان نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ تاہم جب کسی نوجوان کی زندگی اس طرح اچانک ختم ہو جائے تو اس کا دکھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہ اپنے پیچھے والدین، بیوہ اور کم سن بچوں کو چھوڑ جائے۔

پولیس اور انتظامیہ سے انصاف کی توقعاس دلخراش واقعے کے بعد متعلقہ پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ مبینہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، واردات میں استعمال ہونے والے طریقۂ کار کا جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ گاڑی چوری کرنے والے عناصر کس طرح اس واردات میں ملوث ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ شہر کی اہم شاہراہوں، پارکنگ مقامات اور کاروباری مراکز میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام، بروقت پولیس رسپانس اور شہریوں کے تحفظ کو مؤثر بنایا جانا چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ پولیس حکام عوام کو تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ رکھیں، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی امید اور شہریوں کو قانون کی عمل داری کا یقین حاصل ہو سکے۔میاں ریحان اشرف کی المناک موت کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں، لیکن انصاف کی فراہمی، ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام وہ اقدامات ہیں جو اس سانحے کے بعد ناگزیر ہو چکے ہیں۔

دعا اور پیغام آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت میاں ریحان اشرف کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بیوہ، والدہ، بچوں، بالخصوص محمد ابراہیم اور ان کی بہن، اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ میاں محمد اشرف قادری صاحب اور ان کے خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔
میاں ریحان اشرف! آپ کی جدائی ایک خاندان کا ہی نہیں، آپ سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کا دکھ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔