پاکستان کے شہروں میں جب بھی سیکیورٹی خدشات پیدا ہوتے ہیں، سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں، بازاروں کے شٹر گر جاتے ہیں اور زندگی جیسے رک سی جاتی ہے۔ حکومتی بیانات میں اسے“حفاظتی اقدام”کہا جاتا ہے، مگر اس بندش کے پیچھے ایک اور کہانی بھی ہے،وہ کہانی جو کسی پریس ریلیز میں نہیں آتی، وہ کہانی جو ایک غریب کے چولہے سے جڑی ہوتی ہے۔
لاک ڈاؤن کے اس ماحول میں سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو روز کماتا ہے اور روز کھاتا ہے۔ ایک مزدور جو صبح مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہے، ایک رکشہ ڈرائیور جو دن بھر کرایہ بنا کر شام کو گھر چلانے کا سامان لاتا ہے، ایک ریڑھی والا جو سڑک کنارے اپنی روزی کماتا ہے، ان سب کے لیے شہر کی بندش صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ زندگی اور بھوک کے درمیان لکیر بن جاتی ہے۔
جب شہر بند ہوتا ہے تو صرف دکانیں نہیں بند ہوتیں، بلکہ ہزاروں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ ایک دن کی بندش شاید کسی تنخواہ دار کے لیے معمولی ہو، مگر ایک دیہاڑی دار کے لیے یہی ایک دن پورے ہفتے کی مشکلات کا آغاز بن جاتا ہے۔ بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل۔ یہ سب مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر آمدن کا ذریعہ رک جاتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ سیکیورٹی کیوں ضروری ہے؟ یقیناً سیکیورٹی کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیکیورٹی کے نام پر پورے شہر کو بند کر دینا ہی واحد حل ہے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس سے خطرات کو بھی کنٹرول کیا جا سکے اور عوام کی زندگی بھی معمول پر رہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں آسان راستہ اختیار کیا جاتا ہے کہ پورا شہر بند کر دو۔ چاہے مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود ہو، اس کا بوجھ پورے شہر پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اسکول بند، کاروبار بند، ٹرانسپورٹ بند، گویا زندگی کا ہر پہلو مفلوج کر دیا جاتا ہے۔
اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہاں سیکیورٹی کے مسائل کا حل مختلف انداز میں نکالا جاتا ہے۔ بڑے ایونٹس یا خطرات کے باوجود پورے شہر کو بند نہیں کیا جاتا بلکہ مخصوص علاقوں میں سیکیورٹی سخت کی جاتی ہے۔ جدید کیمروں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور فوری ردعمل کے نظام کے ذریعے خطرات کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جبکہ باقی شہر اپنی معمول کی زندگی جاری رکھتا ہے۔
پاکستان میں بھی یہی ماڈل اپنایا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ سوچ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے“ٹارگٹڈ سیکیورٹی”کا نظام متعارف کروایا جائے، یعنی جہاں خطرہ ہو صرف وہی علاقہ محدود کیا جائے، پورا شہر نہیں۔ دوسرا، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ خطرات کو پہلے ہی ناکام بنایا جا سکے۔ تیسرا، انٹیلی جنس نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ بروقت معلومات کی بنیاد پر اقدامات کیے جا سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہر لاک ڈاؤن کا معاشی نقصان کتنا ہے۔ ایک دن کی بندش صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کی روٹی کا سوال ہے۔ اگر ریاست عوام کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بجائے مشکلات میں اضافہ کرے گی تو عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوتا جائے گا۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکیورٹی اور عوامی زندگی کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں خطرات کا مقابلہ بھی ہو اور معیشت بھی چلتی رہے۔ کیونکہ اگر چولہے بجھ گئے تو سیکیورٹی کے دعوے بھی عوام کے لیے بے معنی ہو جائیں گے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے وقت صرف سڑکوں کی خاموشی نہ دیکھی جائے بلکہ ان گھروں کی خاموشی بھی محسوس کی جائے جہاں بچوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آج کھانا کیوں نہیں پکاکیونکہ جب شہر بند ہوتا ہے تو صرف راستے نہیں رکتے،زندگیاں رک جاتی ہیں اور سب سے پہلے غریب کا چولہا بند ہوتا ہے۔
ضیا ء الرحمن ضیاءؔ