سہولت عیاشی مجبوری ایک ہی عمل کے تین مختلف نام ہیں گھر میں ایک چیز ایک سےزیادہ موجود ہونا سہولت ہے مثال کے طور کسی گھر میں ایک سے زیادہ گاڑیاں موجود ہوں تو یہ ایک سہولت ہے کہ کسی کو بھی ضرورت پڑی نکال لی اور اپنا کام کر کے واپس آ گیا اور یہی سہولت اکثر اوقات عیاشی کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے لوگوں کی اولادیں چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں گاڑیوں میں بازاروں میں گھومتے نظر آتے ہیں جن کو دیکھ کر بھی لوگ ان دیکھا کر دیتے ہیں جیسے یہ کوئی عام بات ہو یا یہ ان کا حق ہو کہ وہ ایک عورت ہو کر بھی گاڑی چلا سکتی ہے اور بغیر ضرورت گھوم پھر سکتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے شہر کلر سیداں اور گردونواح میں بھی عورتیں گاڑیاں چلاتی نظر آتی ہیں اچھی بات ہے عورت کا باپردہ گھر سے نکلنا گاڑی چلانا کوئی گناہ نہیں اور گاڑی والوں کو تو لوگ عرش سے اترا سمجھتے ہیں لیکن اس کے بالکل برعکس میرے تجزیہ میں آیا ہے کہ عورتیں اور لڑکیاں سکوٹیاں چلاتی ہوئی نظر آئیں جو یقینی طور پر کسی ایسے گھر سے ہیں جس گھر کا سربراہ کوئی مرد ہے ہی نہیں یا بسلسلہ روزگار علاقہ یا شہر سے باہر مقیم ہے ایسی عورتوں کو بازاروں میں اپنی روزمرہ ضروریات کے یے نکلنا پڑتا ہے
ایک ڈیڑھ ہفتہ میں میں نے اپنے شہر کلر سیداں بے شمار بچیوں اور بہنوں کو موٹر سائیکل چلاتے دیکھا خوشی ہوئی کہ لوکل ٹرانسپورٹ میں دھکے کھانے اور ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کی بری ری نظروں سے بہتر ہے کہ ان کو یہ سہولت میسر ہوئی
لیکن اس خوشی سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا جب کسی عورت کو ایسے جاتے دیکھا تو ساتھ ہی اوباش اور جاہل عوام کی نظروں کو ان کے تعاقب میں دیکھا
میں 2009سے لے کر آج تک برطانیہ کئی بار وزٹ کر چکا ہوں ننگے بدن کے ساتھ عورتوں کو بازاروں اور تفریحی مقامات پر گھومتے دیکھا مگر مجال ہے کہ کوئی نظر ان کی طرف اٹھی ہو لیکن ہم مسلمان اور بالخصوص پاکستانی اپنے ہی ملک میں اپنی ہی ماں بیٹیوں کے لیے ایسا گمان رکھتے ہیں جو شاید کفار بھی ہمارے لیے نہیں رکھتے
خدارا ان مجبور عورتوں اور بچیوں کی جان چھوڑ دیا کریں جو باامر مجبوری بازاروں میں آتی ہیں اور مجبوری میں ہی سکوٹر چلاتی ہیں اللہ کے لیےان کا احترام کریں ان کو راستہ دیں اور ان کو ایسے دیکھیں جیسے اپنی بہن بیٹیوں کو دیکھتے ہیں
ایک تو بحیثیت مسلمان بدنظری ایک گناہ ہے انکھ کے زریعے جو گندگی دل میں اترتی ہے تو اس گندے دل میں اللہ کبھی نہیں آتا اگر اپ چاہتے ہیں کہ اللہ اپ کے دل میں بھی گھر کر لے تو اس بدنظری سے بچیں اور اپنی جان بچائیں کیونکہ یہ واحد گناہ ہے جس کی وجہ سے اکثر غیرت کے نام پہ قتل ہوتے ہیں اور معاشرے میں خوف و حراس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے