دھندہ تا ٹھیکریاں روڈ، علاقائی ترقی کی شہہ رگ



وقار احمد اعوان



کسی بھی علاقے کی سماجی و معاشی ترقی کا اولین زینہ اس کا نظامِ آمدورفت ہوتا ہے۔ سڑکیں محض گاڑیوں کے گزرنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ تہذیبوں، معیشتوں اور انسانوں کو جوڑنے والا ایک اہم وسیلہ ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ایک عمومی مسئلہ ہے، وہیں سڑکوں کی عدم دستیابی یا خستہ حالی زندگی کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے۔ ایسا ہی ایک اہم مسئلہ تحصیل گوجر خان اور راولپنڈی کی سرحد پر واقع ٹھیکریاں تا دھندہ سڑک کی صورت میں موجود ہے، جو آج علاقے کے عوام کیلئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

دھندہ تا ٹھیکریاں تقریباً چھ کلومیٹر طویل راستہ ہے جو اگرچہ جغرافیائی اعتبار سے زیادہ طویل نہیں مگر اپنی اہمیت کے اعتبار سے کسی شاہراہ سے کم نہیں۔ ایک نہایت اہم رابطہ سڑک ہے جو تحصیل راولپنڈی کے دیہات دھندہ، برجی، لڈوا، ٹھلہ کلاں، ٹھلہ خورد، رنوترہ، حکیمال، رائیکا میرا، مہوٹہ موہڑا، پنڈوری، جھنگی دائم، بینس اور چک بیلی خان کو تحصیل گوجرخان کے چوان، بجاڑ، ٹھیکریاں، گورسیاں، مغل، پنجگراں خورد، سود بڈانہ، ٹانویں، جاتلی، بھامنڑیں، راماں اور ان سے ملحقہ درجنوں دیہاتوں سے براہِ راست جوڑتی ہے۔ یوں یہ سڑک نہ صرف دو تحصیلوں کے درمیان مختصر ترین اور اہم زمینی رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ وسیع علاقے کے ہزاروں مکینوں کے لیے آمدورفت، کاروبار، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات تک رسائی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔اس کے علاوہ گاؤں کالے گجراں، نتھیا گلباز، ایسر، چکی اور ماچھیا کا فاصلہ گاؤں ٹھیکریاں اور اس کے ملحقہ دیہات سے بھی اس سڑک کے ذریعے بہت کم ہو جاتا ہے، جس سے ان علاقوں کے مکینوں کے لیے آمدورفت آسان، مختصر اور وقت کی بچت کا باعث بنتی ہے۔ یہ راستہ دو تحصیلوں گوجر خان اور راولپنڈی کے پچاس سے زائد دیہاتوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ان دیہاتوں کے ہزاروں مکینوں کا روزمرہ کا آمدورفت، کاروبار، تعلیم، علاج معالجہ اور سماجی تعلقات اسی سڑک پر منحصر ہیں۔ بدقسمتی سے یہ اہم راستہ آج بھی ناپختہ حالت میں ہے جس میں بڑے بڑے  پتھر، گڑھے پڑے ہوئے ہیں جبکہ یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بارشوں کے موسم میں تو صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے، جب کیچڑ اور پانی جمع ہونے سے اس پر چلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

اس سڑک کی خستہ حالی کے نقصانات صرف وقتی تکلیف تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سب سے نمایاں نقصان چک بیلی خان جیسے ابھرتے ہوئے تجارتی مرکز کو پہنچ رہا ہے۔ چک بیلی خان اپنی منڈیوں، کاروباری سرگرمیوں اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کی بدولت پورے علاقے میں اہمیت رکھتا ہے لیکن بہتر سڑک کی عدم موجودگی اس کی مکمل تجارتی صلاحیت کو ابھرنے نہیں دیتی۔ اگر یہ سڑک پختہ ہو جائے تو نہ صرف چک بیلی خان کی تجارتی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ گرد و نواح کے دیہاتوں کے لوگ بھی اپنی مصنوعات زیادہ آسانی سے منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔

مزید برآں، اس سڑک کی تعمیر سے علاقے کے عوام کو طویل سفر سے نجات مل جائے گی۔ فی الحال لوگ متبادل راستے استعمال کرنے پر مجبور ہیں جو نہ صرف طویل تر ہیں بلکہ ایندھن اور وقت کا بھی بے جا ضیاع کرتے ہیں۔ بہتر سڑک کی تعمیر سے نہ صرف عام شہریوں کا سفری خرچ کم ہوگا بلکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چھوٹی گاڑیاں، ویگنیں اور لوڈنگ رکشے چلانے والے افراد اس سہولت سے براہِ راست مستفید ہوں گے، جس کا مثبت اثر پورے علاقے کی معیشت پر مرتب ہوگا۔

تعلیمی میدان میں بھی اس سڑک کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ علاقے کے طلبہ و طالبات اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے ہیں۔ ،خستہ حال سڑک کے باعث اکثر انہیں تاخیر، مشکلات اور بعض اوقات حادثات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پختہ سڑک کی تعمیر سے تعلیمی اداروں تک رسائی آسان ہو جائے گی، جس سے تعلیمی شرح میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

سماجی اور مذہبی اعتبار سے بھی یہ راستہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مختلف دیہاتوں کے لوگوں میں باہم رشتے داریاں، شادی بیاہ، سماجی تقریبات اور مذہبی اجتماعات میں شرکت اسی راستے کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ سڑک کی خستہ حالی ان تعلقات میں دوری پیدا کر سکتی ہے جبکہ بہتر سڑک آپس میں میل جول، بھائی چارے اور باہمی تعاون کو فروغ دے گی۔ سیاسی و انتظامی اعتبار سے بھی حکومتی نمائندوں اور انتظامیہ کی علاقے تک رسائی آسان ہو گی، جس سے مسائل کے حل کی رفتار میں بہتری آئے گی۔

یہ بات قابلِ تشویش ہے کہ اتنی اہمیت کے باوجود یہ سڑک اب تک محکمہ شاہرات کی ترجیحات میں شامل نہیں ہو سکی۔ علاقے کے عوام برسوں سے اس سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز پر توجہ نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے نیک شگون نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام، عوامی نمائندے اور محکمہ شاہرات اس سڑک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ترقیاتی منصوبوں میں شامل کریں۔ چھ کلومیٹر کی یہ سڑک اگر تعمیر ہو جائے تو درجنوں دیہاتوں کے ہزاروں افراد کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ یہ محض ایک سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کا عمل ہوگا۔

علاقے کے عوام، سماجی رہنما اور نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے جائز مطالبے کو منظم انداز میں اٹھائیں اور متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔ بہتر مستقبل کے لیے بہتر سڑکیں ناگزیر ہیں، اور ٹھیکریاں تا دھندہ سڑک کی تعمیر اس سمت میں پہلا اور سب سے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔