اتحاد امت کی ضرورت واہمیت

آج دنیابھر میں مسلمان اکثریت میں ہونے کہ باوجود مظلومیت کا رونا رو رہیں ہیں مسلکی اعتبار سے دیکھیں قومی اعتبار سے دیکھیں مؤمنون اخوۃ کے اعتبار سے دیکھیں یاپھر عالمی سطح پر دیکھیں ہر اعتبار سے مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد کی کمی دیکھنے میں نظرآتی ہے اگر اجتماعی طور پر دیکھیں تو انکے پاس قدرتی وسائل کا ناختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہے مضبوط ممالک ناقابل یقین دفاعی سسٹم موجود ہے قابل فخر افواج سمیت دیگر بےشمار قدرتی وسائل انکے پاس ہیں لیکن جہاں مظلوم مسلمان موجود ہے۔

انکے لئے یہ کچھ بھی کرنے کی یاپھر کچھ بھی کہنے کی جرآت نہیں کرتے یہ وہی مسلمان ہیں جنکاروشن ماضی ہے انکے کردار اور کارنامے رہتی دنیاتک سنہرےحروف میں یادگار ناقابلِ یقین ناقابل شکست اور ناقابل فراموش حروف میں لکھے جاتے رہیں گئے یہ وہ مسلمان ہیں جوتعداد میں کم ہونے کہ باوجود دشمن پر ہمیشہ بھاری ثابت ہوئے تاریخ میں اسکی بےشمار مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے اپنے مظلوم مسلمانوں کی بہن بھائیوں کی مدد کرنے کےلئےاس وقت کے بڑے سے بڑے کفار سے ٹکر لی ان کے مظبوط قلعوں کوکفارکے لشکر سمیت پاش پاش کیاانکےبلندوبالا برج کو غرور وتکبر کو پل بھرمیں زمین بوس کیا یہ وہی مسلمان ہیں ۔

جنہوں نے بدر خندق فتح مکہ خیبر حنین یرموک قادسیہ اندلس قیصر و کسری عرب و عجم یورپ و ایشیاء جیسی جنگوں میں اپنا لوہا منوایا یہ وہی مسلمان جوایک مسلمان بہن کی آوازپر لبیک کہتے ہوئےسمندرکاسینہ چیرتےہوئےمددکرنےعرب سے عجم تک پہنچ گئے 17 سال کے محمد بن قاسم نے اپنی مظلوم بہن کی آواز پر لبیک کہا یہ وہی مسلمان جو کفار کا غرور وتکبر خاک میں ملانےکاعبور رکھتےتھے جن میں سیدنا صدیق اکبر ؓ سیدنا فاروق اعظم ؓ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما حضرت خالد بن ولید راضی اللہ عنہ صلاح الدین ایوبی رح نورالدین زنگی رح سلطان عبد الحمید رح طارق بن زیاد رح سمیت دیگر نامور جرنیل شامل ہیں۔

یہ وہی مسلمان ہیں جنہوں نے دشمن تک پہنچ کر اندلس کے ساحل پر طارق بن زیاد کی قیادت میں اپنی کشتیاں جلا دی تھیں یہ وہی مسلمان جنہوں نےرومیوں سےکہاتھاہماری تعداد پرناجانا ہم موت سے اتنی محبت کرتے ہیں جتنی تم زندگی سے کرتے ہو یہ وہی مسلمان جو مسجد اقصیٰ کےلئےاپناسب کچھ قربان کرنےکو تیار رہتے تھے یہ وہی مسلمان تھے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین فلسطین توکیا ایک انچ بھی جگہ دینے کوتیارناتھے یہ وہی مسلمان تھے جنکی شہادت کےبعدبھی کفار پر ہیبت رعب اور دبدبہ طاری رہتا یہ وہی مسلمان تھے جنہوں نے ایک لمحہ بھی بزدلی نہیں دکھائی یہ وہی مسلمان تھے جنکے سامنے غازی اور شہادت کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ ناہوتاجنکی ہیبت سے کفار میلوں دور نام سنتے ہی لرزنا شروع ہو جاتے انکے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی لیکن آج دنیا بھر کے مسلمان جس دکھ درد تکلیف پریشانی مصیبت قید کےدور سےگذر رہےہیں۔

جس مظلومیت بھری زندگی میں جی رہے ہیں اسکی زمہ داری تمام مسلمانوں پربھی عائد ہوتی ہےکہ انہوں نےاپنامقام بھلادیا اپنے آباؤاجداد کی لازوال قربانیوں کو فراموش کردیا دین اسلام کی تعلیمات کو بھلادیا جسکی وجہ سےآج غالب آنے کی بجائے مغلوب بن گئےپورا کفرایک ہوکر متحدہوکر اسلام کو اور مسلمانوں کومٹانےکی بھرپور مذموم کوشش کررہاہےلیکن مسلمان غفلت کی نیند سوئے ہیں کفار کا بس نہیں چل رہا نہیں کہ پل بھرمیں وہ مسلمانوں کاخاتمہ کردیں وہ اس طلوع سحر کاشدت سے انتظار کررہے ہیں۔

جب روئے زمین پر کوئی بھی کلمہ گو مسلمان باقی نارہےوہ اس بات سے غافل ہیں کہ جب روئے زمیں پر کوئی بھی مسلمان باقی نہیں رہےگاتویہ زمین بھی باقی نارہےگی بلکہ قیامت قائم کی جاچکی ہوگی لیکن وہ اپنےمن کو فرضی تسلی دے رہےہیں اور دنیامیں ظلم وستم جبروتشدد قتل و غارتگری کا بازار گرم کئےہوئےہیں جہاں بھی مسلمان کمزور بیں بےبس نظر آتے ہیں پورا کفر اپنی پوری شدت سے وہاں حملہ آور ہوتاہےاور پل بھرمیں وہاں ممنوعہ ہتھیاروں کا بےدریغ استعمال کرتے ہوئے وہاں دہشت پھیلانےاور قبضہ کرنے کی پوری کوشش کرتاہے۔

اسکی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں مثال کے طور پر سرخ ریچھ جب روس سے لیکر افغانستان تک مسلمانوں کاقتل عام کرتے پہنچا برما یمن عراق مصر افغانستان فلسطین انڈیا اور کشمیر سمیت دنیابھرمیں بسنے والے مسلمان اور ان پرظلم کرنےوالے قابض وقاتل ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح واضح ہیں اس سےبھی بڑھ کر بھارت پاکستان پرحملہ آوار ہوتاہےلیکن یہاں سے منہ کی کھانی پڑتی ہے اسی طرح آج پوری دنیامیں فلسطین کے مظلوم مسلمان یہود ونصاریٰ کےظلم وستم جبروتشدد قتل و غارتگری کا شکار ہونے میں پہلے نمبر پر ہیں۔

لیکن جہاں جس ملک میں مسلمان اپنی دفاعی نظام مضبوط کئے ہوئے ہیں وہاں ان مسلمانوں کے ساتھ وہی مسلمان کے قاتل کفار دوستی کا ہاتھ بڑھا کر مسلمانوں کو کمزور کرنےکی بھی کوشش کرتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو یہود ونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے صرف مسلمان کو مسلمان کا بھائی کہا گیاہےقرآن مجید میں ہے۔

مسلمان آپس میں بھائی ہیں حدیث شریف میں آتا ہےکہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی حصہ میں تکلیف ہوتی ہے توپورا جسم تکلیف میں مبتلاء ہوجاتاہےآج دنیا بھر کہ مسلمان خاص طور پر فلسطین سمیت مشرق وسطی کے مسلمان جس دکھ درد تکلیف سے گزر رہےہیں کیاہم نےاس تکلیف کواپنی تکلیف سمجھا ہمارے اندر وہ حوصلہ نہیں کہ ہم ان پر ہونے والے مظالم کو مکمل سن سکیں انکی ہمت جرآت وبہادری شجاعت اور استقامت کاکیاعالم ہوگا کہ وہ اس کا تن تنہا مقابلہ کررہے ہیں مسلمانوں پرظلم وستم ڈھانےمیں تمام کفار کا اتحاد ہے ۔

لیکن انکے مقابلہ میں مسلمانوں کااتحاد نہیں آج غزہ کے مظلوم مسلمانوں کےلئے کوئی بھی شخص اظہار ہمدردی یا اظہار یکجتی کے لئےسمندر کی بےرحم لہروں سے ٹکراتے ٹکراتے فلسطین کی طرف روانہ بھی ہو جائے تو اسرائیل انہیں بھی اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے گرفتار کرلیتاہے پہلے انکو ڈرایا جاتاہے ان پر ڈراون اٹیک ہوتے ہیں ان پر کیمیکل پھینکا جاتاہے انہیں خوفزدہ کیاجاتاہےجب دیکھتاہے کہ یہ لوگ احساس ہمدردی کا عزم لئےآگےبڑھ رہے ہیں تو ان کو گرفتارکر لیا جاتا ہے۔

انکے قبضے سے امدادی سامان بھی لےلیاجاتاہے انہیں بھی ناحق قید کرلیاجاتاہے دنیامیں اتنا بڑا ظلم ہورہاہےآئے روز اس ظلم میں شدت آرہی ہے لیکن مسلمان اب بھی غفلت کی نیند سوئے ہیں ضرورت اس امر کی ہےکہ تمام عالم اسلام کا اتحاد و اتفاق ہو جائے دنیابھرکہ مظلوم مسلمانوں کی بروقت مدد کی جائے مظلوم مسلمان کو بچانےکےلئےہرممکن کوشش کی جائے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو تنہاء محسوس نا کرے ناہی وہ کمزور سمجھے جب اتفاق و اتحاد کی فضاء قائم ہو گی تو دنیا میں کسی کو بھی مسلمان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرآت نہیں ہوگی یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ساری دنیا کے مسلمان ایک ہو جائیں