آپریشن بنیان مرصوص اور پاکستان کی برتری

10 مئی 2025 پاکستان کی عسکری، سفارتی اور قومی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ایک ذمہ دار اور خوددار قوم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔“آپریشن بنیان مرصوص”محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کے صبر، حکمت، اتحاد اور طاقت کا عملی اظہار تھا۔یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا جب بھارت کی جانب سے مسلسل جارحیت، میزائل حملوں اور ڈرون کارروائیوں نے خطے کو ایک خطرناک صورتحال کی طرف دھکیل دیا۔ پاکستان کے اہم فضائی اڈوں نور خان، مرید کے اور رفیقی ایئربیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر پاکستان کے دفاعی نظام نے بیشتر حملے ناکام بنا دیے۔ اس کے بعد پاکستان نے“آپریشن بنیان مرصوص”کے تحت بھرپور جوابی کارروائی کی۔
“بنیان مرصوص”قرآنِ مجید کی اس تعبیر سے لیا گیا ہے جس کا مفہوم“سیسہ پلائی ہوئی دیوار”ہے، یعنی ایک ایسی مضبوط قوت جو اتحاد اور استقامت کی علامت ہو۔ پاکستان نے اس نام کو صرف ایک فوجی اصطلاح کے طور پر نہیں بلکہ قومی جذبے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اس آپریشن میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی عسکری برتری کی صورت میں سامنے آئی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے بھارت کے جدید طیاروں کو نشانہ بنایا اور کئی اہم فوجی تنصیبات کو کامیابی سے ٹارگٹ کیا۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط رکھا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گالیکن پاکستان کی کامیابی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ اصل کامیابی اس کی سیاسی اور سفارتی حکمتِ عملی تھی۔ جہاں بھارت کی کوشش تھی کہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کیا جائے، وہیں پاکستان نے تحمل، ذمہ داری اور سفارتکاری کے ذریعے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ عالمی طاقتوں نے فوری جنگ بندی پر زور دیا اور پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ امریکہ، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا۔
پاکستان نے اس پورے بحران میں ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کا کردار ادا کیا۔ اگر پاکستان چاہتا تو جذباتی ردعمل دے سکتا تھا، مگر اس نے ہر مرحلے پر صبر اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے پاکستان کو صرف ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا۔اس آپریشن نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی کہ پاکستان کی عسکری تیاری اور دفاعی صلاحیت کسی سے کم نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، مربوط حکمتِ عملی اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت نے دشمن کے بڑے دعووں کو کمزور کر دیا۔ خاص طور پر پاکستان ایئر فورس کی کارکردگی نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کی۔
اس موقع پر پاکستانی قوم کا اتحاد بھی قابلِ ذکر رہا۔ سیاسی اختلافات، داخلی مسائل اور معاشی مشکلات کے باوجود پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ یہی قومی یکجہتی دراصل پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ دشمن شاید ہتھیاروں کا اندازہ لگا سکتا ہے، مگر قوم کے حوصلے اور جذبے کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس کامیابی سے کیا سبق حاصل کرے؟ سب سے اہم سبق یہ ہے کہ قومی استحکام صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ معاشی مضبوطی، سیاسی استحکام اور سفارتی حکمت سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پا لے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی مواقع میں بھی تبدیل کرے۔ چین، خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنا کر پاکستان خود کو خطے کی تجارتی اور توانائی راہداری بنا سکتا ہے۔ توانائی بحران، ڈالر پر انحصار اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کا حل علاقائی تعاون اور خودمختار پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔
10 مئی 2025 نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ تو کمزور ہے اور نہ ہی تنہا۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جو صبر بھی جانتی ہے، حکمت بھی رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی طاقت کا بھرپور استعمال بھی کرنا جانتی ہے۔آپریشن بنیان مرصوص دراصل صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک قومی پیغام تھاکہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار کے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ