حمید علی
پاکستان اور چین کی دوستی محض سفارتی تعلقات یا سیاسی نعروں تک محدود نہیں بل کہ یہ باہمی اعتماد، احترام اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی داستان ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں مسلسل باہمی تعاون کیا ہے تاہم دوستی کی اصل خوب صورتی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کے ثمرات عام شہری کی زندگی میں بہتری لائیں۔ اسلام آباد میں پاک چین دوستی ہسپتال کا قیام اور جدید جنرل ہسپتال کے طور پر اس کی بحالی اسی جذبے کی مثال ہے۔
اس منصوبے کا پس منظر بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی داستان ہے۔ 2020ء میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کی لپیٹ میں تھی تو چین نے تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ اسی تعاون کے تحت اسلام آباد میں جدید آئسولیشن سینٹر قائم کیا گیا تاکہ کورونا کے مریضوں کو علیحدہ رکھنے اور ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد مل سکے۔ تاہم وبا کے خاتمے کے بعد اس کا استعمال محدود ہو گیا اور عمارت ایک عرصے تک مکمل طور پر فعال نہ رہ سکی۔

ضرورت تھی کہ اس طبی اثاثے کو غیر فعال رہنے دینے کے بجائے عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ حکومت پاکستان نے اسے جدید جنرل ہسپتال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمارت کو طبی تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے جدید آلات اور ضروری سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ بالآخر 29 اکتوبر 2026ء کو وزیراعظم شہباز شریف نے پاک چین دوستی ہسپتال کا باضابطہ افتتاح کیا اور اسے عوام کے لیے فعال کر دیا۔ یوں کورونا کے دنوں میں قائم عارضی طبی مرکز مستقل عوامی خدمت کے ادارے میں تبدیل ہو گیا۔
یہ ہسپتال 182 بستروں پر مشتمل ہے۔ اس میں آئی سی یو اور ایچ ڈی یو سمیت انتہائی نگہداشت کی سہولیات کے لیے مجموعی طور پر 50 بستروں کی گنجائش مختص ہے۔ یہ شعبے اہم ہیں کیوں کہ حادثات، پیچیدہ بیماریوں اور ہنگامی صورت حال میں مریضوں کو فوری نگہداشت درکار ہوتی ہے۔ ان سہولیات کی موجودگی علاج کا معیار بہتر بنانے اور قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
منصوبے کی نمایاں خصوصیت وزیراعظم کا یہ اعلان ہے کہ یہاں اسلام آباد سمیت ملک بھر سے آنے والے مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے گا اور ادویات بھی بلا معاوضہ ملیں گی۔ مہنگائی اور علاج کے بڑھتے اخراجات عام آدمی کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔ بہت سے خاندان بیماری کی صورت میں جمع پونجی خرچ کرنے کے باوجود مکمل علاج نہیں کروا پاتے۔ ادویات اور طبی ٹیسٹوں کے اخراجات بھی اہل خانہ کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔ ایسے میں مفت علاج کی سہولت عوامی فلاح کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ سہولت غریب طبقے کے لیے علاج تک رسائی آسان بنائے گی اور بیماری سے پیدا مالی دباؤ کم کرے گی۔
ہسپتال کے انتظامی اور عملی امور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کو سونپے گئے ہیں۔ یہ ادارہ فلاحی بنیادوں پر صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ سرکاری وسائل اور نجی شعبے کی انتظامی مہارت یکجا کرنے سے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ علاج کا معیار برقرار رہے، ادویات مسلسل دستیاب ہوں، طبی عملہ موجود رہے اور مریضوں کو عزت و احترام کے ساتھ سہولیات فراہم کی جائیں۔
پاکستان میں صحت کا شعبہ صرف نئے ہسپتال تعمیر کرنے سے مضبوط نہیں ہوگا۔ تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسوں کی دستیابی، جدید تشخیصی سہولیات اور مؤثر انتظامی نظام کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اکثر منصوبے افتتاح کے بعد توجہ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مشینری خراب ہوتی ہے، ادویات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور مریض مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس ہسپتال میں ایسی کوتاہیوں سے بچنا ہوگا تاکہ یہ محض افتتاحی خبر نہ بنے بل کہ عوام کے لیے امید کا مستقل مرکز ثابت ہو۔
اس ہسپتال کی بحالی قومی وسائل کے دانش مندانہ استعمال کی مثال ہے۔ کورونا کے دوران قائم عمارت کو غیر فعال چھوڑنے کے بجائے مستقل طبی ادارے میں تبدیل کرنا قابل تحسین اقدام ہے۔ پاکستان میں ایسے متعدد سرکاری اثاثے موجود ہیں جنہیں بہتر منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت سے عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو وقتی منصوبوں کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور پہلے سے موجود وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا چاہیے۔
پاک چین دوستی ہسپتال کا نام ایک پیغام دیتا ہے۔ دوستی کی مضبوطی کا اندازہ صرف معاہدوں اور سرکاری ملاقاتوں سے نہیں لگایا جاتا بل کہ اس کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ تعاون سے عام انسان کو کیا فائدہ پہنچا۔ اگر کسی بیمار کو بروقت علاج ملے، کسی غریب خاندان کو ادویات کے اخراجات سے نجات ملے اور کسی مستحق مریض کی زندگی بچ جائے تو یہی دوستی کا حقیقی اظہار ہے۔
یہ ہسپتال دونوں ممالک کے تعلقات کا قابل قدر نمونہ ہے۔ ضرورت ہے کہ بہترین انتظام، شفافیت اور مسلسل نگرانی کے ذریعے اسے مثالی طبی مرکز بنایا جائے۔ پاکستان کو ایسے منصوبوں کی ضرورت ہے جو عوام کی بنیادی مشکلات کم کریں اور ریاست کی فلاحی ذمہ داریوں کو عملی شکل دیں۔ دوستی کے چراغ اسی وقت روشن رہتے ہیں جب ان کی روشنی عام انسان کی زندگی تک پہنچتی ہے۔ پاک چین دوستی ہسپتال بھی اسی روشنی کا روشن استعارہ بن سکتا ہے۔