کاوسی یا کاسبی ، کوئ ذات نہیں لیکن برصغیر میں اس سے کیوں کمتر سمجھا جاتا ہے ؟

تحریر: پروفیسر محمد حسین
تاریخی اور سماجی تناظر میں “کاسبی” جس کو عام الفاظ میں “کاسوی” بھی کہا جاتا ہے کوئی مخصوص نسلی یا خاندانی ایک الگ “قوم” نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے جو روایتی طور پر مختلف ہنر مند اور پیشہ ور طبقوں کے لیے بولی جاتی ہے۔


یہ عربی زبان کا لفظ “کسب” ہے جس کے معنی کمائی، ہنر، پیشہ یا محنت کے ہیں۔ وہ لوگ جو روایتی طور پر مختلف فنون، دستکاری، کاریگری یا روزمرہ کے پیشے (جیسے لوہار، ترکھان، جولاہا، موچی یا دیگر ہنر مند طبقے) سے وابستہ ہوتے ہیں، انہیں تاریخی طور پر پنجابی معاشرے میں “کاسبی” یا پیشہ ور طبقے کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ کوئی ایک مخصوص نسلی قبیلہ یا ذات نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف ہنر مند برادریوں کے لیے ایک مجموعی سماجی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔


برطانوی دورِ حکومت کے دوران پنجاب کے قبائلی اور ذات پات کے ریکارڈز میں ان برادریوں کو ان کے الگ الگ پیشوں کے نام سے درج کیا گیا، اور مجموعی طور پر محنت کش یا کاریگر طبقے کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا تھا۔پرانے دیہی نظام میں گاؤں کی سطح پر جو لوگ کسانوں کی مدد کے لیے اوزار بناتے، کپڑے بنتے یا دیگر خدمات انجام دیتے تھے، وہ اس وسیع پس منظر کا حصہ تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ اب روایتی ذات پات کا یہ ڈھانچہ بہت حد تک ختم ہو چکا ہے۔ آج کل اس پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ تعلیم، جدید تجارت، نوکریوں اور مختلف صنعتوں کا حصہ بن چکے ہیں اور پنجاب کے طول و عرض میں آباد ہیں۔ایک عام غلط فہمی اور لفظی الجھن ہمارے معاشرے میں انسان کی شناخت کا سب سے پہلا اور بڑا پیمانہ اس کی ذات پات یا قبیلہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی سے ملاقات ہو یا رشتہ داروں کا تذکرہ چھڑے، سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے، “آپ کا تعلق کس ذات یا قوم سے ہے؟ اس سوال کے جواب میں لوگ فخر سے یا روایتی مجبوری کے تحت اپنی اپنی قوموں کے نام گنواتے ہیں۔ لیکن اس ناموں کی طویل فہرست میں جب کوئی ایسا لفظ سامنے آتا ہے جو دراصل کسی کی نسلی شناخت نہیں بلکہ اس کے ہنر اور پیشے کی عکاسی کرتا ہے، تو عجیب سی الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔


ایسا ہی ایک لفظ ہمارے ہاں “کاسبی” (جسے عام بول چال میں کبھی کبھی کاسوی یا اس سے ملتے جلتے تلفظ سے پکارا جاتا ہے) استعمال کیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ معاشرے کے ایک نادان طبقے نے اس لفظ کو بھی ایک مخصوص “ذات” یا “قوم” سمجھ رکھا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ “کاسبی” کوئی نسلی قبیلہ، خاندانی شجرہ یا ذات نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً “کسب” (ہنر، مزدوری اور محنت) سے نکلا ہوا ایک فلسفہ اور ایک ایسا اعزازی لقب ہے جو انسانی محنت اور کاریگری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔


آج ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس لفظ کی اصل روح کو سمجھیں، اس کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں اور اس فرسودہ سوچ کو بالائے طاق رکھ دیں جو محنت کش طبقے کو ایک الگ یا کمتر ذات کے خانے میں قید کرتی ہے۔
سب سے پہلے اس لفظ کی جڑوں کو ٹٹولنا ضروری ہے۔ عربی زبان کا مادہ “ک س ب” ہے، جس سے “کسب” اور “کسبِ معاش” جیسے الفاظ جنم لیتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے “کسب” کے معنی ہیں: کمائی کرنا، محنت کرنا، ہنر سیکھنا، روزگار کمانا اور اپنے بازوؤں کی طاقت سے رزق حلال تلاش کرنا۔


اسلامی اور اخلاقی فلسفے میں “کسب” کو انتہائی بلند مقام حاصل ہے۔ وہ شخص جو اپنے ہاتھوں کی محنت سے کماتا ہے، اسے روایتی طور پر “کاسب” کہا جاتا ہے، اور اس سے جڑا ہوا طبقہ “کاسبی” کہلاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی ، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے ۔ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے(صیحح بخاری 2072) اس کا مطلب یہ ہوا کہ کاسبی کوئی خون کا رشتہ یا پیدائشی قوم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عمل کا نام ہے۔ جو بھی انسان محنت کرتا ہے، کوئی ہنر جانتا ہے، لوہا پیٹتا ہے، لکڑی تراشتا ہے، کپڑا بنتا ہے، مٹی کے برتن بناتا ہے یا کسی بھی قسم کی جسمانی یا فکری محنت سے معاشرہ چلاتا ہے، وہ لغوی اور عملی طور پر ایک “کاسب” ہے۔


قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں محنت کش کی عظمت کو بار بار اجاگر کیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے مزدوری کی، بکریوں کو چرایا اور تجارت میں حصہ لیا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے محنت کرنے والے کے ہاتھ چوم کر یہ اعلان فرمایا کہ “الکاسب حبیب اللہ”(ہنر مند اور محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے)۔ اس فلسفے کے تحت “کاسبی” کوئی کمتر یا الگ تھلگ ذات نہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک ایک محبوب ترین عمل سے جڑا ہوا لقب ہے۔
اگر ہم برصغیر بالخصوص پنجاب کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہاں ایک انتہائی منظم دیہی معیشت موجود تھی جسے”سیپ کا نظام” یا روایتی دیہی اشتراکیت کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں گاؤں کے اندر مختلف برادریاں اپنے اپنے پیشے اور ہنر کے حساب سے ذمہ داریاں نبھاتی تھیں۔اس روایتی ڈھانچے میں کسان زمین سے اناج اگاتا تھا۔لوہار زراعت کے اوزار بناتا اور مرمت کرتا تھا۔ترکھان ہل اور بیلیاں تیار کرتا تھاجولاہا کپڑا بنتا تھاکمہار مٹی کے برتن فراہم کرتا تھا۔جو شخص بال تراشتا ہے، حجامت کرتا ہے اور داڑھی بناتا ہے، اسے نائی یا حجام کہا جاتا ہے۔ یہ ایک پیشہ ہے، اور اس پیشے سے تعلق رکھنے والا شخص کسی بھی برادری سے ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص پیشے کے لحاظ سے نائی ہے، تو ضروری نہیں کہ وہ برادری کے لحاظ سے بھی نائی ہو۔ اسی طرح نائی برادری سے تعلق رکھنے والا ہر شخص حجامت کا کام نہیں کرتا۔


برطانوی دورِ حکومت میں جب ہندوستان کی مردم شماری اور بندوبستِ اراضی کا کام شروع ہوا، تو انگریز افسروں نے انتظامی سہولت کے لیے مقامی لوگوں کی ذاتوں اور پیشوں کو ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ اس عمل کے دوران، وہ تمام خاندان جو صدیوں سے کسی نہ کسی ہنر یا پیشے سے وابستہ تھے، انہیں معاشرتی درجہ بندی میں ایک الگ خانے میں رکھ دیا گیا۔ بدقسمتی سے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پیشورانہ شناختوں کو مستقل ذاتوں میں تبدیل کر دیا گیا، حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ سب لوگ اپنی اپنی ہنر مندی کی بنیاد پر “کاسبی” کہلاتے تھے۔پنجاب کے لوک ادب، وارث شاہ کی ہیر، اور بابا بلھے شاہ کی شاعری میں بھی اس محنت کش طبقے کی عظمت کا ذکر ملتا ہے۔ صوفی بزرگوں نے ہمیشہ ذات پات کے بتوں کو پاش پاش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خدا کے ہاں انسان کی عزت اس کے نسب سے نہیں بلکہ اس کے عمل اور محنت سے ناپی جاتی ہے۔
“کاسبی” کو قوم سمجھنے کا سماجی المیہ


یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا فکری زوال ہے کہ ہم نے ہر اس شخص کو جو کسی ہنر سے وابستہ ہے، ایک مخصوص “ذات” کا نام دے کر اسے معاشرے کے ایک خاص کونے میں دھکیلنے کی کوشش کی۔
ہمارے ہاں یہ تصور عام کر دیا گیا کہ فلاں قوم کا کام صرف مزدوری کرنا ہے اور فلاں قوم کا کام صرف حکمرانی کرنا ہے۔ یہ تقسیم نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کے بھی سراسر خلاف ہے۔جب آپ کسی کے ہنر کو اس کی ذات بنا دیتے ہیں، تو آپ دراصل اس کی محنت اور صلاحیت کو ایک محدود دائرے میں قید کر دیتے ہیں۔ذات پات کا یہ نظام معاشرتی تفریق کو جنم دیتا ہے، جس سے اونچ نیچ کا وہ فرسودہ احساس پروان چڑھتا ہے جو ایک ترقی یافتہ معاشرے کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔


یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کوئی بھی بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ کسی ذات یا پیشے کا ہنر لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ وہ بڑا ہو کر جو علم حاصل کرتا ہے، جو ہنر سیکھتا ہے اور جس محنت سے اپنی روزی روٹی کماتا ہے، وہ اس کا “کسب” بنتا ہے۔ لہذا، کاسبی کوئی پیدائشی لیبل نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسان کی کمائی اور اس کی کاریگری کا اعزاز ہے۔
آج اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں دنیا اتنی آگے نکل چکی ہے کہ اب ذات پات کے پرانے خول ٹوٹ رہے ہیں۔ آج ترقی کا پیمانہ کسی کا خاندانی شجرہ نہیں ہے، بلکہ اس کی قابلیت، اس کا ہنر، اس کی تعلیم اور اس کی تخلیقی صلاحیت ہے۔آج کا “کاسب” صرف وہ روایتی کاریگر نہیں رہا جو گاؤں کے کسی کونے میں بیٹھ کر ہل بناتا تھا، بلکہ آج کا کاسبی ہر وہ شخص ہے جو آئی ٹی (IT) کے میدان میں کوڈنگ کرتا ہے، کوئی انجینئر ہے جو پل بناتا ہے، کوئی ڈاکٹر جو جانیں بچاتا ہے، کوئی آرٹسٹ جو شاہکار تخلیق کرتا ہے، یا کوئی بھی ایسا انسان جو اپنی محنت سے معاشرے کی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے۔اس جدید معیشت میں ہر وہ شخص جو اپنی مہارت فروخت کرتا ہے، وہ درحقیقت ایک جدید دور کا “کاسب” ہے۔


مغرب سے لے کر مشرق تک، آج ہنر مند انسان کو سب سے زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جرمنی، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ڈگریوں سے زیادہ اہمیت ہنر (Skill) کو دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اگر اب بھی ہم کاسبی کو کوئی حقیر یا الگ ذات سمجھیں گے، تو ہم خود کو فکری پسماندگی میں دھکیل رہے ہوں گے۔
اس تمام بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ ہمیں اپنی سوچ کی سمت کو درست کرنا ہوگا۔جب ہم کسی کو “کاسبی یا کاسوی” کہیں، تو ہمارے ذہن میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہم اس کی کسی ذات کا نہیں بلکہ اس کے ہنر اور محنت کا ذکر کر رہے ہیں۔


معاشرے میں یہ کلچر پروان چڑھانا ہوگا کہ محنت کرنے والا کوئی بھی شخص چھوٹا نہیں ہوتا۔ دنیا کا ہر وہ انسان جو حلال رزق کے لیے پسینہ بہاتا ہے، وہ قابلِ احترام ہے۔ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پر کرنی چاہیے کہ وہ انسان کو اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور ہنر سے پرکھیں۔
کاسبی کوئی گوت، قبیلہ یا نسلی شناخت نہیں ہے—یہ ایک فکری حقیقت ہے، یہ محنت کا استعارہ ہے، اور یہ اس ہنر کا نام ہے جو انسان کو معاشرے میں باعزت مقام دلاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں ذات پات کے کھوکھلے غرور سے نہیں بلکہ اپنے ہنر، محنت اور سائنسی و فکری صلاحیتوں سے بنتی ہیں۔


زرا سوچئے، آئیےاس فرسودہ سوچ کو دفن کر دیں جو ہنر کو ذات کے ترازو میں تولتی ہے۔ ہر اس شخص کو سلام پیش کریں جو اپنے بازوؤں کی طاقت اور اپنے دماغ کی صلاحیت سے رزقِ حلال کماتا ہے، کیونکہ یہی اصل “کاسب” ہے اور یہی اس کی حقیقی عظمت ہے۔