
انسانی شخصیت کی تشکیل اس کے ابتدائی چند برسوں میں ہوجاتی ہے اس زندگی میں استاد کا درجہ ایک مینارہ نور کا سا ہوتا یے جو نہ صرف علم کی روشنی تک پہنچاتا ہے بلکہ از کی اپنی شخصیت طالب علموں کے لیے قابل قدر نمونہ ہوتی ہے استاد گویا ایک ایسا چراغ ہوتے ہیں جن سے دوسرے چراغ روشن ہوتے ہیں ۔جن معاشروں میں اساتذہ کو عزت وتکریم کو لازم۔سمجھا جاتا ہے وہ معاشرے نہ صرف ترقی کی معراج پاتے ہیں بلکہ وہ معاشرے ا ۔اخلاقیات عقل اور شعور بھی پاتے ہیں کیونکہ علم اور فراست زندگی کے وفا دار ساتھی ہوتے ہیں اور یہ ساتھی استاد کے مرہون منت ہوتے ہیں یہ کبھی دغا نہیں دیتے ۔استاد انسان کو ذہانت اور علم کے عطیے بخشتا ہے
استاد کا مقام بہت اعلی اور ارفع ہے لیکن افسوس کہ ہمارے سماج میں استاد کی وہ عزت وتکریم نہیں جو دیگر ممالک میں ہے یہاں استاد کو ایک عام سا سرکاری ملازم ہی تصور کیا جاتا ہے ۔جس کے مظاہرے ہم شب وروز دیکھتے مندرہ تھانے بارے سامنے آنے والی ایک رپورٹ نے معاشرے میں استاد کے مقام کی لاعملی کو واضع کیا ہے ۔
سامنے آنے والی خبر کے مطابق سکھو میں کسی اسکول کے طالب علم کی نازیبا وڈیو بارے کسی کیس میں مندرہ پولیس کی جانب سے نامزد ملزمان کے بجائے اسکول کے استاد کو تھانے لاکر کئی گھنٹے لاک اپ کیے رکھا خبر میں تھانے کے نذیر نامی ایک سب انسپکٹر کی استاد سے بدتمیزی اور تھانے کے ھیڈ محرر آصف سرچ وارنٹ کے بغیر استاد کے جا گھنسے کی غیرقانونی غیرآئینی حرکت بارے بتایا گیا
خبر میں بتایا گیا کہ طالب علم وڈیو کیس میں ملزمان کے بجائے اسکول ٹیچر کو حراست میں لیا گیا جبکہ نامزد،ملزمان کو ضمانت کروانے کی مہلت فراہم۔کی گئی خبر میں ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ تذلیل کا نشانہ بننے والے استاد کا اس معاملے اور ملزمان سے کہیں دور کا بھی تعلق نہیں لیکن استاد کو گھنٹوں حوالات میں بند رکھا گیا ۔کسی استاد کے ساتھ پولیس کا ایسا رویہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس مادر پدر آزاد ہے یقیناََ پولیس کے یہ سورما بھی کسی استاد سے ہی پڑھے ہوں گے ۔انہیں اس مقام اور مرتبے تک پہنچانے میں بھی یقیناً کسی استاد کا ہی ہاتھ ہوگا ۔لیکن وردی کی طاقت نے انہیں استاد کی عزت وتکریم کی سوچ سے بے بہرہ کردیا.
انہیں یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ قانون کے طے شدہ قوائد کو توڑیں جیسے چاہیں بغیر وجہ گرفتار کرلیں وردی کے زعم میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں ۔ہمارا نظام ایسا ہے کہ اہلیت ۔کردار اور قابلیت کے بجائے محض قرعہ اندازی سے لوگ بھرتی کرلیے جاتے ہیں انسان اشرف المخلوقات تو ہے لیکن جب وہ اپنی ذات سے گرجاتا ہے تو حیوان سے بدتر ہوجاتا ہے قانون کے محافظوں کا ہی محافطت ہے مگر یہاں قانون کی آبرو اپنے ہیں رکھوالوں کے ہاتھوں خطرے میں ہے ۔