
آج سے تقریباً ساٹھ برس پہلے زندگی اتنی تیز رفتار نہیں تھی۔ وسائل محدود تھے اور لوگ انہی میں گزر بسر کرلیا کرتے تھے۔ تعلیم عام نہیں تھی۔ بچہ چلنے پھرنے کے قابل ہوتا تو والدین اسے اپنے ساتھ کاموں میں لگا لیتے اور عموماً باپ کا پیشہ ہی بیٹے کا مستقبل بن جاتا۔ پانچویں جماعت پاس کرلینا کافی سمجھا جاتا، مڈل تک پہنچنا بڑی بات تھی اور اگر کوئی بچہ میٹرک کرلیتا تو والدین فخر سے سب کو بتاتے پھرتے تھے۔
ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے والدین اور خاندان پر خصوصی کرم فرمایا۔ میرے والد محمد افسر صاحب پاکستان آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ گاؤں کی زندگی اور زمینداری آسان نہیں تھی، لیکن والدین نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ خود محنت کریں گے مگر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم ضرور دلوائیں گے۔
میرے بڑے بھائی طالب حسین مرزا صاحب نے اپنی ذہانت اور محنت سے سب کو متاثر کیا۔ انھوں نے ہر جماعت میں نمایاں پوزیشن حاصل کی، آٹھویں جماعت کے اسکالرشپ امتحان میں کامیابی حاصل کی اور میٹرک میں ہائی فرسٹ ڈویژن کے ساتھ اسکالرشپ بھی حاصل کی۔ انھی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے میرے ویر طارق محمود مرزا صاحب نے بھی تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج میں اپنے اسی ویر کی زندگی کے چند اوراق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جو میرے لیے ہمیشہ ایک مثال، ایک سائباں اور ایک رہنما رہے ہیں۔
طارق محمود مرزا یکم جون 1961ء کو گاؤں کھرالی، موضع مغل متیال، تحصیل گوجر خان میں محمد افسرمرزا کے گھر پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول کھرالی کھینگر سے حاصل کی۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ تیسری جماعت میں تھے تو ان کے اساتذہ ، انھیں پانچویں جماعت کا امتحان دلوانا چاہتے تھے، کیونکہ وہ پانچویں جماعت تک کی کتابیں زبانی یاد کرچکے تھے۔ تاہم کم عمری کی وجہ سے انھیں اگلی جماعت میں بھیجنا ممکن نہ ہوا۔ بعدازاں انھوں نے پانچویں جماعت کے امتحان میں تحصیل گوجر خان کی سطح پر اسکالرشپ حاصل کی۔
چھٹی جماعت میں وہ گورنمنٹ ہائی اسکول کونتریلہ میں داخل ہوئے اور وہاں بھی ہر جماعت میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ اسکول میں انھوں نے لائبریری کے تالے کھلوائے، کتابوں پر جمی گرد صاف کی اور دستیاب کتابوں کا بھرپور مطالعہ کیا۔ یہی شوق آگے چل کر ان کی علمی و ادبی زندگی کی بنیاد بنا۔
زندگی ابھی ان کے لیے ایک بڑا امتحان لے کر آنے والی تھی۔ 1974ء میں ہمارے والد صاحب وفات پاگئے۔ اس وقت طارق محمود مرزا ساتویں جماعت میں تھے اور میں بھی کم عمر تھا۔ بڑے بھائی طالب حسین مرزا صاحب پاکستان نیوی میں اپرنٹس شپ اختیار کرچکے تھے۔ والد کی وفات کے بعد طارق بھائی نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں، والدہ محترمہ کا سہارا بنے اور اپنی تعلیم کے ساتھ میری تعلیم کا بھی خیال رکھا۔
ساتویں جماعت سے میٹرک تک انھوں نے والد صاحب کی چھوڑی ہوئی زمینوں کی دیکھ بھال کی، زمینداری کے کام کیے اور والدہ کے ساتھ مل کر گھر سنبھالا۔ ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور میری پڑھائی پر بھی توجہ دی۔ 1977ء میں انھوں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ ملک کے سیاسی حالات اور امتحانات کے غیر یقینی شیڈول کے باوجود اپنی جماعت میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور میٹرک میں ہائی فرسٹ ڈویژن حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کی ذہانت کے ساتھ محنت، حوصلے اور ذمہ داری کے احساس کا ثبوت تھی۔
میٹرک کے بعد وہ کراچی چلے گئے، جہاں ڈاکیارڈ کی اپرنٹس شپ سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ دن کے وقت ڈاکیارڈ میں اپرنٹس شپ کرتے اور شام کو علامہ اقبال کالج میں تعلیم جاری رکھتے۔ اسی کالج سے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ اپرنٹس شپ مکمل ہونے پر نیوی ڈاکیارڈ میں عملی خدمات انجام دینے لگے۔ ملازمت کے ساتھ کراچی یونیورسٹی میں شام کی کلاسوں کے ذریعے ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیا اور یہ امتحان بھی فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔
ڈاکیارڈ میں اپرنٹس شپ سمیت تقریباً دس سال کراچی گزارنے کے بعد انھیں سلطنتِ عمان کے محکمۂ دفاع میں ملازمت مل گئی۔ وہاں چار برس قیام کیا۔ کراچی میں ملازمت کے زمانے ہی سے وہ رسائل و جرائد میں مضامین لکھ رہے تھے، اور عمان میں بھی ان کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ یوں عملی زندگی کی مصروفیات ان کے علمی و ادبی ذوق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
ان کی خواہش تھی کہ آسٹریلیا یا یورپ میں مستقل سکونت اختیار کریں۔ انھوں نے آسٹریلیا کے لیے درخواست دی، مطلوبہ امتحانات اور دیگر مراحل مکمل کیے اور جولائی 1994ء میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آسٹریلیا منتقل ہوگئے۔ یہاں ان کے سامنے نئے اہداف تھے: خاندان کو مستحکم کرنا، بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا اور ایک نئی سرزمین پر اپنے لیے مقام بنانا۔ انھوں نے محنت اور مستقل مزاجی سے ان ذمہ داریوں کو نبھایا۔
آسٹریلیا میں انھوں نے ایک بڑی کمپنی کی فرنچائز حاصل کی اور اس کے تحت بیک وقت تین چار بڑے کاروباری مراکز قائم کیے۔ کاروبار میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ خاندان کے دوسرے افراد کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی۔ خاندان سے باہر بھی جہاں ممکن ہوا، ضرورت مندوں کا ہاتھ تھاما۔
کاروباری مصروفیات کے باوجود انھوں نے اردو صحافت سے اپنا تعلق برقرار رکھا اور آسٹریلیا سے ایک ہفت روزہ اردو اخبار جاری کیا، جو کئی برس تک شائع ہوتا رہا۔ مطالعے کا شوق بھی ہمیشہ قائم رہا۔ پاکستان آتے تو بڑی تعداد میں کتابیں، ناول اور افسانوں کے مجموعے ساتھ لے جاتے۔ بچپن سے کتابوں سے پیدا ہونے والی محبت وقت کے ساتھ ان کی ادبی زندگی کا مستقل حصہ بن گئی۔
انھیں سیروسیاحت کا بھی بچپن ہی سے شوق تھا۔ یورپ کے سفر کے بعد ان کی پہلی کتاب ’’خوشبو کا سفر‘‘ شائع ہوئی، جسے دوست پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ جو خاصا مقبول ہوا۔ اس کے بعد ان کا افسانوی مجموعہ ’’تلاشِ راہ‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ 2013ء میں اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے روحانی سفر کے مشاہدات کو ’’سفرِ عشق‘‘ کی صورت میں قلم بند کیا، جو ادارہ معارف اسلامی کے تحت شائع ہوئی۔ ان کا تصنیفی سفر آگے بڑھتا رہا اور آج الحمدللہ وہ سات کتابوں کے مصنف ہیں۔ سفرنامہ نگاری، افسانہ، کالم نگاری اور تحقیق سے ان کی دلچسپی ان کی ہمہ جہت شخصیت کی عکاس ہے۔
آسٹریلیا میں انھوں نے کاروبار کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی میں بھی نمایاں شناخت قائم کی۔ اردو زبان و ادب کے فروغ اور علامہ اقبال کے افکار کو عام کرنے کے لیے کام کیا اور ادبی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ پاکستان سے آسٹریلیا آنے والی اہم شخصیات اور سفارتی نمائندوں کے ساتھ ان کے روابط بھی ان کی سماجی و ادبی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔
میرے ویر کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو خاندان سے ان کی غیرمعمولی وابستگی ہے۔ ترقی اور کاروباری کامیابی کے باوجود انھوں نے اپنے رشتوں اور ذمہ داریوں کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ فروری 2003ء میں ہماری والدہ محترمہ کی وفات نے انھیں شدید صدمہ پہنچایا۔ وہ تقریباً ایک ماہ پاکستان میں قیام کے بعد آسٹریلیا واپس چلے گئے، لیکن ان کا دل اپنے بھائیوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ جڑا رہا۔ انھوں نے بڑے بھائی محمد اسلم مرزا صاحب اور ان کے بچوں کی ضروریات کا خیال رکھا اور گاؤں کی مسجد، قبرستان اور جنازہ گاہ کے لیے بھی خاموشی سے تعاون کرتے رہے۔ ان کی خواہش ہوتی کہ گاؤں کے کسی فرد کو ضرورت پیش آئے تو اس کی مدد کی جائے، مگر اس انداز میں کہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
اگست 2017ء میں کمانڈر طالب حسین مرزا صاحب کی وفات کے بعد ان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔ انھوں نے اپنا کاروبار ختم کردیا تاکہ خاندان کے معاملات پر توجہ دے سکیں۔ بڑے بھائی کی بیوہ اور بیٹیوں کی سرپرستی بھی انھوں نے اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کی۔ یہ ان کے لیے محض خاندانی فرض نہیں بلکہ محبت اور وفاداری کا تقاضا تھا۔
میری اہلیہ ان کی لاڈلی بہن ہیں اور ان کی ضروریات و فرمائشوں کا خیال رکھنا میرے ویر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھی میری اہلیہ کی شکایت پر مجھے ان سے ڈانٹ بھی کھانی پڑتی ہے، مگر اس ڈانٹ میں بھی محبت اور اپنائیت ہوتی ہے۔ میرے بچے جب یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم تھے تو ان کے تایا ابو ان کی ضروریات اور مسائل سے باخبر رہتے تھے۔ بعض باتیں جو بچے مجھ سے کھل کر بیان نہیں کرپاتے تھے، اپنے تایا ابو سے بلاجھجک کہہ دیتے تھے۔ یہ اعتماد برسوں کی شفقت اور حسنِ سلوک سے پیدا ہوتا ہے۔
آج کاروبار ختم کرنے کے باوجود انھوں نے خاندان کی سرپرستی اور ضرورت مندوں کی مدد کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔ سیروسیاحت اور تصنیف و تالیف بھی جاری ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک شفیق باپ، مہربان بھائی، ذمہ دار سرپرست اور مخلص دوست کے اوصاف جمع ہیں۔ وہ کالم نگار، افسانہ نگار، مصنف اور دانشور ہونے کے ساتھ خاندان کے لیے محبت اور اعتماد کا مضبوط سہارا بھی ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت اور آسٹریلیا میں طویل قیام کے باوجود ان کا اپنے دین اور تہذیبی بنیادوں سے تعلق مضبوط ہے۔ قرآنِ کریم اور سیرتِ نبوی ﷺ سے ان کی وابستگی ان کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ وہ اپنی مٹی کو نہیں بھولے۔ اپنے اسکول، اساتذہ، گاؤں اور لوگوں سے ان کا تعلق برقرار ہے۔ میری خالہ جی تعظیم اختر حیات کے بھی وہ لاڈلے بیٹے ہیں اور اپنی دو تایا زاد بہنوں کے لاڈلے بھائی۔ ان کے لیے یہ رشتے زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
ہم دونوں بھائیوں کے درمیان محبت کا رشتہ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ میرے لیے وہ صرف بڑے بھائی نہیں، میرے ویر، میرے سائباں اور میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔ وہ میرے بچوں کے شفیق تایا ابو اور بھائی طالب حسین مرحوم کی بیٹیوں کے لیے ایک مہربان باپ کی طرح سہارا ہیں۔ ان کی محبت اور سرپرستی نے ہمارے خاندانی رشتوں کو مضبوط رکھا ہے۔
جب میں اپنے ویر کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جس نے کم عمری میں مشکلات کا سامنا کیا، تعلیم کے لیے مسلسل محنت کی، گھر کی ذمہ داریاں اٹھائیں، بیرونِ ملک اپنا مقام بنایا، کاروبار میں کامیابی حاصل کی اور پھر بھی کتاب و قلم سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ انھوں نے زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل کیں، لیکن رشتوں کی قدر، اپنی مٹی سے محبت اور دوسروں کے کام آنے کے جذبے کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
میرے نزدیک طارق محمود مرزا نوجوانوں کے لیے اس اعتبار سے رول ماڈل ہیں کہ ان کی زندگی محنت، تعلیم، مستقل مزاجی اور احساسِ ذمہ داری کی عملی مثال ہے۔ کامیابی صرف دولت، شہرت یا عہدے کا نام نہیں؛ اپنے لوگوں کا سہارا بننا، اصولوں پر قائم رہنا اور اپنی صلاحیتوں سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی کامیابی ہے۔ میرے ویر کی زندگی میں یہ تمام پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسا محبت کرنے والا اور شفیق بھائی عطا کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ویر کا سایہ ہم سب پر تادیر قائم رکھے، ان کے علم و قلم میں برکت دے اور انھیں ہمیشہ اپنے خاندان، دوستوں اور چاہنے والوں کے لیے محبت اور آسودگی کا سبب بنائے۔
آمین ثم آمین۔