ہمارے معاشرے میں کرپشن کی کئی شکلیں موجود ہیں، لیکن سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اب بعض جگہوں پر رشوت کو ایک معمول کی بات سمجھا جانے لگا ہے۔ کسی سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے جانے والا شہری جب دیکھتا ہے کہ اس کی فائل کئی دنوں، ہفتوں یا مہینوں سے رکی ہوئی ہے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص اضافی رقم دینے پر آمادہ ہو جائے تو اسی کام کو جلد مکمل کرنے کی راہ نکل آتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس رقم کو اکثر رشوت کہنے کے بجائے ’’چائے پانی‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، جیسے اس معمولی سے لفظ کے استعمال سے ناجائز کام بھی جائز بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی شہری کو اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑے تو اسے سہولت کہا جائے یا بدعنوانی؟
یہ مسئلہ صرف پیسے لینے والے فرد تک محدود نہیں بلکہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جو ایسے رویوں کو پنپنے کا موقع دیتا ہے۔ جب کسی ادارے میں کام میرٹ، قواعد اور مقررہ وقت کے مطابق ہونے کے بجائے ذاتی تعلقات یا اضافی ادائیگی سے ہونے لگے تو انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایک عام شہری جو اپنی محدود آمدن میں گھر کا خرچ پورا کرتا ہے، بچوں کی فیس ادا کرتا ہے اور بجلی و گیس کے بل بھرتا ہے، وہ پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر اسے کسی سرکاری دستاویز، اجازت نامے یا دوسری بنیادی سہولت کے لیے بھی اپنی جیب سے غیر ضروری رقم دینا پڑے تو یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ریاستی اداروں کا مقصد شہریوں کی خدمت کرنا ہے، نہ کہ ان کی مجبوریوں کو اضافی آمدن کا ذریعہ بنانا۔
’’چائے پانی‘‘ جیسے الفاظ بظاہر بے ضرر محسوس ہوتے ہیں، لیکن بعض حالات میں یہی الفاظ رشوت کے اصل مفہوم کو چھپانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جب کسی غیر قانونی ادائیگی کو تحفہ، مٹھائی، چائے یا پانی کے اخراجات قرار دیا جاتا ہے تو اس کے ذریعے ایک غلط عمل کو معاشرتی قبولیت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ کسی ادائیگی کی حقیقت کا تعین اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے مقصد اور حالات سے ہوتا ہے۔ اگر رقم اس لیے دی جا رہی ہے کہ کوئی ملازم اپنے فرائض کی ادائیگی تیز کرے، فائل آگے بڑھائے یا شہری کو اس کے جائز حق تک رسائی دے، تو اس عمل پر سنجیدگی سے سوال اٹھانا ضروری ہے۔ سرکاری ملازم کو اپنے فرائض انجام دینے کی تنخواہ پہلے ہی دی جاتی ہے؛ اس لیے ان فرائض کی انجام دہی کے بدلے غیر ضروری رقم کا مطالبہ عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس رویے کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے معاشرے میں دو طرح کے شہری پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک وہ جو قانون کے مطابق اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، تمام ضروری دستاویزات مکمل کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کا کام مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہو گا۔ دوسرے وہ جو اضافی رقم دے کر اپنے کام کو ترجیح دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایمانداری سے کام کرنے والے افراد خود کو نقصان میں محسوس کرنے لگتے ہیں، جبکہ پیسے یا سفارش کی طاقت رکھنے والوں کو فائدہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف میرٹ کے اصول کو کمزور کرتی ہے بلکہ لوگوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتی ہے کہ اس معاشرے میں حق حاصل کرنے کے لیے اصولوں پر قائم رہنا کافی نہیں۔ جب یہ سوچ عام ہو جائے تو قانون کی بالادستی اور اداروں کی ساکھ دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
کرپشن کے اس نظام کا نقصان صرف ایک شہری کی جیب تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت اور انتظامی کارکردگی پر بھی پڑتے ہیں۔ جب اداروں میں کام کرنے کے لیے غیر رسمی ادائیگیوں کی توقع پیدا ہو جائے تو کاروباری افراد کے اخراجات بڑھتے ہیں، سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے اور عوام کا سرکاری نظام سے تعلق کمزور پڑتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروباری شخص اگر ہر مرحلے پر اضافی رقم دینے پر مجبور ہو تو اس کے لیے اپنا کاروبار بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کم آمدن والے شہری ان اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتے اور بعض اوقات اپنے جائز کام کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں سہولت، انصاف اور مواقع سب کے لیے یکساں نہیں رہتے۔ ترقی یافتہ معاشرے محض بلند عمارتوں اور جدید سڑکوں سے نہیں بنتے، بلکہ وہاں قانون کی یکساں عمل داری اور عوام کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف کرپشن کے خلاف تقاریر کرنے یا چند افراد کو موردِ الزام ٹھہرانے میں نہیں، بلکہ مؤثر احتساب اور شفاف طریقہ کار قائم کرنے میں ہے۔ سرکاری اداروں میں ہر کام کے لیے واضح مدت مقرر ہونی چاہیے، فائل کی پیش رفت کا ریکارڈ دستیاب ہونا چاہیے اور شہریوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی درخواست کس مرحلے پر ہے۔ جہاں ممکن ہو، درخواستوں اور ادائیگیوں کا عمل آن لائن بنایا جائے تاکہ شہریوں اور اہلکاروں کے درمیان غیر ضروری رابطے کم ہوں۔ اگر کسی کام میں تاخیر ہو تو اس کی وجہ بتانا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ شکایات کے نظام کو بھی فعال اور قابلِ اعتماد بنایا جائے تاکہ شہری خوف یا مایوسی کے بغیر اپنی شکایت درج کروا سکیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے؛ کسی بااثر شخص یا اہلکار کو محض تعلقات کی بنیاد پر جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی رویوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ اگر ہم خود کسی کام کو جلد کروانے کے لیے غیر قانونی رقم دینے کو معمول سمجھیں، دوسروں کو رشوت دینے کا مشورہ دیں یا ایسے عمل کو ’’چائے پانی‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دیں تو ہم نادانستہ طور پر اسی نظام کو مضبوط کرتے ہیں جس کی شکایت کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض شہری اپنی مجبوریوں کے باعث ایسی ادائیگی کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں، اس لیے سارا بوجھ عوام پر ڈالنا درست نہیں۔ اصل ذمہ داری ان افراد اور اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں یا بدعنوانی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔ شہریوں میں قانونی آگاہی، ایمانداری کی تربیت اور شکایت درج کرانے کے محفوظ ذرائع کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اسی طرح میڈیا کو بھی ایسے مسائل کو ذمہ داری سے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ عوامی بحث محض الزامات تک محدود نہ رہے بلکہ اصلاحات کی طرف بڑھے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ رشوت کا نام بدل دینے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر کسی شہری کو اپنا جائز کام کروانے کے لیے اضافی رقم دینی پڑتی ہے اور اس رقم کو ’’چائے پانی‘‘ کہا جاتا ہے تو اصل سوال یہ ہے کہ ایسا نظام کیوں موجود ہے جہاں معمول کے فرائض کی انجام دہی بھی غیر رسمی ادائیگی سے مشروط ہو جاتی ہے؟ ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے میں شہری کو اپنی درخواست جمع کرواتے وقت یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ کام کے لیے کتنے اضافی پیسے درکار ہوں گے۔ اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا، اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے گی اور اس کا حق کسی ناجائز مطالبے کے بغیر اسے ملے گا۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب ’’چائے پانی‘‘ کے نام پر ہونے والی ناجائز وصولیوں کو معمول سمجھنے کے بجائے ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے، اداروں کو جواب دہ بنایا جائے اور ایمانداری کو کمزوری نہیں بلکہ معاشرتی طاقت سمجھا جائے۔ کیونکہ کرپشن کا خاتمہ صرف رقم لینے والے ہاتھ کو روکنے سے نہیں، بلکہ اس سوچ کو بدلنے سے ممکن ہے جو ناجائز ادائیگی کو ایک عام روایت بنا دیتی ہے۔