پی ٹی آئی کے احتجاج کو پرامن قرار دینے کے دعوے غلط، ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے:فیصل کامران

لاہور(پنڈی پوسٹ نیوز)ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ 27 ستمبر اور 5 اکتوبر کے احتجاج کو پرامن قرار دینے کے دعوے غلط ہیں، تاہم پولیس کے سامنے آنے والی ایک مبینہ آڈیو کی تحقیقات سے مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔ڈی جی پی آر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے دعویٰ کیا کہ ایک آڈیو سامنے آئی ہے جس میں پی ٹی آئی سے وابستہ خاتون فاطمہ حیدر کی جانب سے 20 سے 30 افراد کو لانے اور انہیں مبینہ طور پر تربیت دینے سے متعلق گفتگو کی گئی ہے، پولیس نے آڈیو سے متعلق ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار شخص کا نام امین ہے اور اس کا تعلق ساہیوال سے ہے جب کہ وہ مبینہ طور پر مذکورہ خاتون کے خاندان کا ڈرائیور ہے، آڈیو گرفتار شخص کے موبائل فون سے ملی، جس کا فرانزک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے کرایا جائے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے دعویٰ کیا کہ پولیس اس بات کا بھی سراغ لگا رہی ہے کہ مبینہ طور پر افراد کو تربیت کہاں دی جا رہی ہے، باہر سے ایسے افراد کو لاہور لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے بارے میں مقامی پولیس کو پہلے سے علم نہ ہو۔

فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کا مقصد عوام کے سامنے یہ معلومات رکھنا ہے تاکہ پرامن احتجاج کے دعووں اور سامنے آنے والی اطلاعات میں موجود تضاد واضح ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم پولیس کے مطابق بعض سرگرمیاں پرامن احتجاج کے دائرے میں نہیں آتیں۔

دوسری جانب ڈیفنس اے تھانے کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنزنے بتایا کہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔فیصل کامران نے مزید کہا کہ متاثرہ خاتون کو لاہور کے مقامات سے واقفیت نہیں تھی، کیس پر سی سی ڈی، آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگ مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں جب کہ ایک گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔