شمالی کوریا اور روس کا بڑ ھتا ہو ا اتحادتجا ر ت اور سیا حت کیلئے نیا رستہ کھول دیا گیا

(پنڈی پوسٹ نیوز)شمالی کوریا اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سڑک پل کا افتتاح کردیا، جسے دوطرفہ شراکت داری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق نیا پل دریائے تومین پر تعمیر کیا گیا ہے اور موجودہ ’فرینڈ شپ برج‘ کے قریب واقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان موجود فرینڈ شپ برج ریلوے پل ہے، جسے جنگِ کوریا کے بعد 1959ء میں تعمیر کرکے آمدورفت کے لیے کھولا گیا تھا۔

روسی وزیراعظم میخائل مشوستین نے نئے پل کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے فروغ میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع سے تجارت، معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ روزگار اور سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق نئے پل پر تعمیراتی کام گزشتہ سال اپریل میں شروع ہوا تھا۔ اس منصوبے پر 2024ء میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے شمالی کوریا کے دورے کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا اور روس کے درمیان یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے بھی پیر کے روز مشترکہ فوجی مشق ’فریڈم ایج‘ کا انعقاد کیا۔ تینوں ممالک کے مطابق یہ مشق دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیتوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری ہے۔