(پنڈی پوسٹ نیوز)تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم نہیں دے سکتی، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق عدالتوں کو تفتیش کی مانیٹر یا سپروائزر کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے کی ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں، ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل ہوتیں تب بھی جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہوتا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل ہائیکورٹ کو جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اختیار یا لازمی قانونی ذمہ داری سے متعلق کوئی قانون پیش نہیں کرسکے، جاری تفتیش میں مداخلت کرکے عدالت تفتیش کار کا کردار اختیار نہیں کرسکتی۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کا ادارہ جاتی تخریب کاری کا مؤقف متنازع حقائق کا جائزہ لیے بغیر ثابت نہیں کیا جاسکتا، آئینی دائرہ اختیار میں ایسے متنازع حقائق کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو معاملے کی شفاف تفتیش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، قانون کے تقاضوں کے تحت دیگر قانون نافذ کرنے والے یا تحقیقاتی اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش میں خامیوں اور مبینہ تضادات کے باعث خاندان کا تفتیشی عمل پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، عدالت اپنے آئینی اختیار کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دے۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق دستیاب کارروائی کی آزادی ہوگی۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے 24 اگست کو سنگل ممبر کمیشن آف انکوائری تشکیل دینے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جوڈیشل کمیشن نے کارروائی بھی شروع کر دی ہے، اس لیے کمیشن کے قیام سے متعلق سوال اب غیر مؤثر ہوچکا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی خان کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کے اذیت ناک نقصان سے آگاہ ہے، تاہم ہمدردی کے جذبات کو قانون کے طے شدہ اصولوں پر غالب آنے نہیں دیا جاسکتا۔