جیلیں: اصلاح گاہ یا جرم کی تربیت گاہ؟

“جیل کی سلاخوں کے پیچھے صرف قیدی نہیں ہوتے، بلکہ کسی بھی ریاست کا انصاف، قانون، انسانیت اور نظام بھی قید ہوتا ہے۔”لاہور کی خاتون کرائم رپورٹر ثمینہ کی ایک ماہ قید کے بعد سامنے آنے والی روداد نے ایک بار پھر پاکستان کے جیل نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق جیلوں میں آج بھی طاقت، سفارش اور پیسے کا راج ہے۔ غریب قیدی بنیادی سہولتوں کو ترستے ہیں جبکہ بااثر افراد کے لیے جیل بھی آرام گاہ بن جاتی ہے۔ نئی آنے والی خواتین کو ذلیل کرنا، طبی سہولتوں کا فقدان، ناقص خوراک، گنجائش سے کئی گنا زیادہ قیدی، اور انسانی وقار کی پامالی—یہ سب ایسے حقائق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


اگرچہ یہ بیان ان کا ذاتی مشاہدہ ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مردوں کی بہت سی جیلوں کے بارے میں بھی اسی نوعیت کی شکایات اور مشاہدات سامنے آتے رہے ہیں۔
میں یہ سب صرف سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں لکھ رہا۔ مجھے بھی کوٹ لکھپت جیل میں تقریباً پچیس روز بطور سیاسی قیدی گزارنے کا موقع ملا۔ آج بھی وہ مناظر ذہن سے محو نہیں ہوئے۔


غسل خانوں کی ابتر حالت، بیت الخلاؤں پر دروازوں کا نہ ہونا، بدبودار کالے کمبل، ناقص اور غیر معیاری کھانا، ایسی چائے جسے دیکھ کر پینے کو دل نہ چاہے، اور بعض مقامات پر انتہائی غیر مہذب ماحول—یہ سب ایک ایسے نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں جو اصلاح سے زیادہ اذیت دیتا ہے۔


جیلوں میں آج بھی غیر رسمی نمبرداری نظام کئی مقامات پر طاقتور دکھائی دیتا ہے۔ طویل سزا یافتہ یا بااثر قیدی دوسروں پر اپنی دھونس جماتے ہیں۔ معمولی جرم میں گرفتار ہونے والا نوجوان اکثر ایسے ماحول میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ سزا کاٹنے کے بجائے جرائم کی نئی تربیت حاصل کرتا ہے۔ یہ کسی بھی مہذب ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔


میری آنکھوں دیکھا ایک باب
1999ء میں جب سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے بھارتی وزیراعظم واجپائی کے دورۂ لاہور کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تو لاہور میں ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے۔ اس وقت وزیراعظم میاں نواز شریف تھے۔


اس احتجاج کے دوران سینکڑوں نہیں بلکہ تیرہ سو سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔ لٹن روڈ پر شدید پولیس کارروائی ہوئی۔ دس سالہ بچوں سے لے کر اسی سالہ بزرگوں تک کو گرفتار کیا گیا۔ سفید ریش بزرگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، انہیں گھسیٹا گیا، ان کی داڑھیاں تک نوچی گئیں۔ ان مناظر کو بھلانا ممکن نہیں۔


بعد ازاں ہمیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ میرے ساتھ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظوروٹو* متصل بیرک میں موجود تھے۔ اسی جیل میں جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان سلیمان بٹ سابق ایم این اے ڈاکٹر نورالحق ۔سابق ایم پیباے حنیف چوہدری ۔ڈاکٹرکمال عثمان خان اسداللہ خان اور دیگر سیاسی کارکن بھی موجود تھے۔
ہمارے کمرے میں بیس افراد کی گنجائش تھی، مگر ستر سے زائد افراد کو اسی جگہ رکھا گیا، جبکہ بڑی بیرک میں تین سو سے زیادہ افراد موجود تھے۔ ایسے ماحول میں بیماری، بے چینی اور ذہنی دباؤ پیدا ہونا فطری بات ہے۔


پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ 1999 کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور بعد ازاں جنرل پرویزمشرف کے اقتدار سنبھالنے سے ملکی سیاست بدل گئی، مگر افسوس کہ جیلوں کے اندر کا نظام زیادہ نہ بدل سکا۔


اصلاحات کیوں ناگزیر ہیں؟
اگر جیل سے سزا یافتہ شخص پہلے سے زیادہ خطرناک مجرم بن کر نکلے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنا بنیادی مقصد حاصل نہیں کر سکی۔
اس لیے ضروری ہے کہ:


جیلوں میں صفائی، معیاری خوراک، صاف پانی، بہتر غسل خانے اور باوقار بیت الخلا فراہم کیے جائیں۔
پہلی بار گرفتار ہونے والوں، معمولی جرائم کے ملزمان اور خطرناک مجرموں کو الگ رکھا جائے۔
نمبرداری، بااثر قیدیوں اور غیر قانونی مراعات کے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
قیدیوں کو تعلیم، حفظِ قرآن، دینی و اخلاقی تربیت، فنی تعلیم اور نفسیاتی بحالی کے مواقع دیے جائیں۔


ماہرینِ نفسیات، علماء اور سماجی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ قیدی معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔
جیل عملے اور پولیس کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ تربیت کو لازمی بنایا جائے تاکہ قیدیوں کی عزتِ نفس محفوظ رہے۔
ملاقات کے لیے باوقار، صاف ستھرے اور سہولت سے آراستہ مقامات قائم کیے جائیں۔
عدالتوں میں مقدمات کے غیر ضروری التوا کا خاتمہ کیا جائے اور انصاف کو بروقت یقینی بنایا جائے۔


ریاست کے تین ستون، ایک ہی زنجیر
حقیقت یہ ہے کہ تھانہ، عدالت اور جیل ایک ہی نظامِ انصاف کی تین کڑیاں ہیں۔ اگر تھانے میں ظلم ہو، عدالت میں تاخیر ہو اور جیل میں اصلاح کے بجائے ذلت ہو تو پھر معاشرے میں انصاف نہیں بلکہ بے اعتمادی اور جرائم جنم لیتے ہیں۔


ہمیں یہ اصول نہیں بھولنا چاہیے کہ نفرت جرم سے ہونی چاہیے، مجرم سے نہیں۔ سزا ضرور ملنی چاہیے، خصوصاً قتل اور سنگین جرائم میں قانون پوری قوت سے نافذ ہونا چاہیے، لیکن ہر قیدی کی عزتِ نفس پامال کرنا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔
پاکستان کی جیلیں اگر واقعی اصلاح گاہیں بن جائیں تو ہزاروں لوگ جرم کی دنیا سے نکل کر معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر حالات یہی رہے تو جیلیں سزا سے زیادہ جرم کی تربیت گاہیں ہی ثابت ہوتی رہیں گی۔


اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت، عدلیہ، پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے ادارے اور سول سوسائٹی مل کر تھانوں، عدالتوں اور جیلوں میں ایسی اصلاحات کریں جو صرف فائلوں میں نہیں بلکہ قیدیوں کی زندگیوں میں بھی نظر آئیں۔ یہی ایک مہذب، منصف اور باوقار ریاست کی پہچان ہے۔