ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی :الوداعی تقریب مسلم یوتھ یونیورسٹی

مسلم یوتھ یونیورسٹی،اسلام آباد میں جاپان روڈ پر واقع ایک نجی، خصوصی نوعیت کی تحقیقاتی جامعہ ہے، جو “MY University” کے منفرد اور معروف نام سے علمی و تعلیمی حلقوں میں اپنی ممتاز شناخت رکھتی ہے۔یہ   جامعہ مختلف شعبہ جات میں معیاری تعلیمی پروگرامز پیش کرتی ہے، جن میں بیچلر (BS) کی سطح پر کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، بین الاقوامی تعلقات، اسلامک اسٹڈیز، بزنس ایڈمنسٹریشن اور دیگر جدید علوم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی ماسٹر (MS/MPhil) اور ڈاکٹریٹ (PhD) کی سطح پر بھی متعدد تحقیقی اور تخصصی پروگرامز فراہم کرتی ہے، جن کا مقصد طلبہ میں علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

گزشتہ دنوں اس یونیورسٹی کے، شعبۂ علومِ اسلامیہ کے ایم فل تھرڈ سیمسٹر کے طلبہ و طالبات کی جانب سے یونیورسٹی سے رخصت ہونے والے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، شعبۂ علومِ اسلامیہ، ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی کے اعزاز میں انارکلی ریسٹورنٹ، بحریہ ٹاؤن میں ایک شاندار، پروقار اور یادگار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ محبت، خلوص، احترام اور علمی وقار سے آراستہ اس تقریب میں شعبۂ علومِ اسلامیہ کے ممتاز اساتذۂ کرام حافظ ڈاکٹر محمد رمضان، ڈاکٹر محبوب الرحمن، ایم فل اسلامک استڈیز  کے طلبہ و طالبات اور دیگر معزز مہمانوں نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے دوران علمی و فکری گفتگو، خوشگوار ماحول، باہمی محبت اور استاد و شاگرد کے مثالی تعلق نے محفل کو نہایت پُراثر، باوقار اور یادگار بنا دیا، جبکہ شرکاء نے ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی کی علمی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

پرتکلف ضیافت کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظ محمدعمیر الطاف کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حافظ ابو بکر عمران چشتی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی، معزز اساتذۂ کرام اور طلبہ و طالبات کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اساتذہ کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات کا اعتراف دراصل علم، تہذیب، کردار سازی اور اعلیٰ انسانی اقدار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی نے اپنے تدریسی دور میں نہ صرف علم منتقل کیا بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور تحقیقی رہنمائی بھی مثالی انداز میں انجام دی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محبوب الرحمن نے کہا کہ حقیقی طالبِ علم کبھی سیکھنے کا سفر ترک نہیں کرتا، بلکہ ایک استاد بھی پوری زندگی علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک منتقل کرنے کے عمل سے وابستہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمی دنیا میں کامیابی انہی افراد کا مقدر بنتی ہے جو عاجزی، مستقل مزاجی اور تحقیق کے ذوق کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنے اساتذہ کی تعلیمات، رہنمائی اور اعلیٰ اخلاق کو ہمیشہ اپنا مشعلِ راہ بنائیں، کیونکہ یہی اوصاف انہیں علمی و عملی میدان میں نمایاں مقام دلا سکتے ہیں۔

حافظ ڈاکٹر محمد رمضان نے اپنے خطاب میں تقریب کو طلبہ کی اپنے اساتذہ سے محبت، خلوص اور وابستگی کی خوبصورت مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ محض کلاس روم تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ زندگی بھر قائم رہنے والا روحانی، اخلاقی اور علمی تعلق ہوتا ہے۔ انہوں نے ایم فل کے طلبہ کو اپنے تحقیقی مقالات کی بروقت اور معیاری تکمیل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق میں مستند مراجع سے استفادہ، علمی امانت، تنقیدی بصیرت اور وقت کی پابندی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور معیاری تحقیق ہی کسی محقق کی حقیقی پہچان بنتی ہے۔

اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی نے طلبہ و طالبات کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی تقریب کو اپنی تدریسی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اساتذۂ کرام، منتظمین اور تمام طلبہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک استاد کے لیے اس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں ہو سکتا کہ اس کے شاگرد برسوں بعد بھی اسے محبت، احترام اور خلوص کے ساتھ یاد رکھیں۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے علم کی خدمت، معاشرے کی اصلاح اور امت کی فکری رہنمائی کا وسیلہ سمجھیں۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کو تحقیقی مقالات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے قیمتی مشورے دیتے ہوئے مسلسل مطالعے، علمی دیانت، تنقیدی فکر اور تحقیقی جستجو کو کامیاب علمی زندگی کی بنیاد قرار دیا۔

اس موقع پر ایم فل کی سٹوڈنٹ   آصفہ بشیر نے  بھی خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔تقریب کے اختتام پر ایم فل تھرڈ سیمسٹر کے گروپ کوآرڈینیٹر قاضی رضا احمد قریشی نے تقریب کے کامیاب انعقاد پر تمام اساتذۂ کرام، مہمانانِ گرامی اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات استاد اور شاگرد کے رشتے کو مزید مضبوط اور پائیدار بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے باہمی تعاون، نظم و ضبط اور اجتماعی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تقریب کو کامیابی سے ہمکنار کیا، جو ان کی تنظیمی صلاحیتوں کا بہترین ثبوت ہے۔

اگرچہ شعبۂ علومِ اسلامیہ کے معزز اساتذہ ڈاکٹر نجم الدین کوکب اور ڈاکٹر بشریٰ فرقان  نجی مصروفیات کے باعث تقریب میں شرکت نہ کر سکے، تاہم ان کی عدم موجودگی کو طلبہ و طالبات اور اساتذۂ کرام نے شدت سے محسوس کیا۔ مقررین نے ان کی علمی، تدریسی اور تربیتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں نہایت محبت اور عقیدت سے یاد کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

تقریب میں ایم فل اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ  علامہ غلام شبیر نظامی، علامہ  فیاض احمد، صاحبزادہ محمد ثوبان اشتیاق، ضیاءالصمد عثمانی،  مفتی  نعمان کاشر، حافظ بابر حسین ستی، میمونہ عرفان  ، مائرہ شان، عالیہ رسول (ایڈووکیٹ)  ، میمونہ سیفی، حمیرا خلیل، ، فرزانہ افضل، آمنہ یونس ،  عطیہ کنول  اور سعدیہ بی بی کے علاوہ  راقم  نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں بیگم ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی اور تظہیر رضا  دختر قاضی رضا احمد قریشی  کی شرکت بھی شرکاء کے لیے باعثِ مسرت رہی، جن کی موجودگی نے اس پروقار محفل کو مزید باوقار اور یادگار بنا دیا۔

تقریب کے اختتام پر معزز اساتذۂ کرام کو یادگاری تحائف پیش کیے گئے، جبکہ شرکاء نے ڈاکٹر محسن ضیاء قاضی کی علمی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی آئندہ علمی و عملی زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ محبت، احترام، علمی وقار اور خوشگوار ماحول سے آراستہ یہ الوداعی تقریب شرکاء کے لیے ایک یادگار، بامقصد اور دیرپا علمی و ادبی نشست ثابت ہوئی۔