درخت،زندگی، ماحول اور تہذیب کا سبز سرمایہ

تحریر : حافظ نصرت علی خان


قدرتِ الٰہی کی بے شمار نعمتوں میں ” درخت” ایک ایسی نعمت ہیں جن کے بغیر زمین پر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ درخت نہ صرف ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ انسان، حیوانات اور پرندوں کی بقا کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ فارسی زبان کا لفظ ”درخت” اردو میں عام طور پر پیڑ یا شجر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ انگریزی میں اسے Tree کہا جاتا ہے۔ درخت ایک ایسا نباتاتی وجود ہے جس کا عموماً ایک مضبوط تنا ہوتا ہے جو اوپر جا کر مختلف شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ انہی شاخوں پر پتے، پھول اور پھل نمودار ہوتے ہیں۔ ماہرین نباتات کے مطابق ایک پودے کو درخت کہلانے کے لیے اس کی کم از کم اونچائی تقریباً 3 سے 6 میٹر ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔
درخت زمین کے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر دنیا سے درخت ختم ہو جائیں تو انسان سمیت تمام جانداروں کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
درختوں کا سب سے بڑا فائدہ آکسیجن کی فراہمی ہے۔ انسان اور دیگر جاندار سانس لینے کے لیے آکسیجن کے محتاج ہیں۔ درخت دن کے وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ یوں یہ فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی، گاڑیوں کے دھوئیں اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کے باعث فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں درخت ایک قدرتی فلٹر کا کردار ادا کرتے ہیں جو ماحول کو صاف اور صحت مند بناتے ہیں۔
درخت ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتے ہیں، گرمی کی شدت کم کرتے ہیں اور بارشوں کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں جس سے زمین کا کٹاؤ کم ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درخت لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب جیسے قدرتی خطرات کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
درخت انسانی زندگی کے معاشی پہلو سے بھی بے حد اہم ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی، کاغذ سازی، کشتیوں اور دیگر بے شمار مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے۔ بہت سے درخت قیمتی پھل فراہم کرتے ہیں جو انسانوں کے لیے غذائیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ اسی طرح بعض درختوں کے پتے، چھال اور جڑیں ادویات بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ یوں درخت انسانی معیشت کا ایک لازمی حصہ ہیں۔
پاکستان قدرتی حسن اور متنوع نباتاتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں مختلف اقسام کے درخت پائے جاتے ہیں جن میں چیڑ، انجیر،چنار، دیودار، چلغوزہ، پیپل، نیم، بکائن، کچنار، سنبل، املتاس، کیکر، پھلاہی، کاہو، دھریک اور ٹاہلی نمایاں ہیں۔ ان درختوں کی اپنی اپنی خصوصیات اور افادیت ہے۔
چنار کا درخت اپنی دلکش خوبصورتی اور گھنے سائے کی وجہ سے مشہور ہے۔ کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں یہ درخت سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ نیم کا درخت اپنی طبی خصوصیات کے باعث ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پتے، بیج اور چھال مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ املتاس اپنے سنہری پھولوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے جبکہ کچنار کے خوبصورت پھول بہار کی آمد کا پیغام دیتے ہیں۔
کیکر اور پھلاہی جیسے درخت پاکستان کے خشک علاقوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کم پانی میں بھی زندہ رہتے ہیں اور صحرائی و نیم صحرائی علاقوں میں ماحول کو بہتر بناتے ہیں۔ اسی طرح ٹاہلی اور دھریک اپنی مضبوط لکڑی کے باعث فرنیچر سازی اور دیگر تعمیراتی مقاصد میں استعمال ہوتے ہیں۔
پاکستان کا قومی درخت دیودار ہے جسے انگریزی میں Deodar Cedar کہا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام Cedrus deodara ہے اور یہ چیڑ کے درختوں کے خاندان Pinaceae سے تعلق رکھتا ہے۔ دیودار پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کا ایک عظیم اور شاندار درخت ہے۔ یہ عموماً 40 سے 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے اور اپنی مضبوطی، خوبصورتی اور خوشبو دار لکڑی کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔
دیودار کا لفظ سنسکرت کے الفاظ ”دیو” اور ”دار” سے مل کر بنا ہے جس کا مطلب ”خداؤں کا درخت” لیا جاتا ہے۔ یہ نام اس درخت کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں سوات، دیر، ایبٹ آباد، مری، گلیات اور آزاد کشمیر میں دیودار کے گھنے جنگلات موجود ہیں جو نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مقامی ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دیودار کی لکڑی انتہائی مضبوط، پائیدار اور خوشبودار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عمارت سازی، پلوں، فرنیچر، دروازوں، کھڑکیوں اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں دیودار کی لکڑی سے بنائی گئی بہت سی عمارتیں آج بھی اپنی مضبوطی کے باعث قائم ہیں۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ غیر قانونی کٹائی، آبادی میں اضافہ، شہری توسیع اور ایندھن کے لیے لکڑی کے بے دریغ استعمال نے جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم 25 فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہئیں، مگر پاکستان میں یہ شرح اس سے کہیں کم ہے۔ جنگلات کی کمی کے باعث موسمیاتی تبدیلی، گرمی کی شدت، سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آج دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم غیر متوقع ہو چکے ہیں اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان تمام مسائل کا ایک مؤثر اور قدرتی حل شجرکاری ہے۔ ایک درخت اپنی پوری زندگی میں سینکڑوں کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اسلام بھی درخت لگانے اور ماحول کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ قرار دیا ہے۔ حدیث مبارکہ کے مطابق اگر کوئی شخص درخت لگاتا ہے اور اس سے انسان، جانور یا پرندہ فائدہ اٹھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شجرکاری نہ صرف قومی بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔
انجیر کا پودا (درخت) عموماً گرم اور معتدل آب و ہوا والے علاقوں میں اچھی نشوونما پاتا ہے، پاکستان میں انجیر کے درخت نسبتاً خشک اور گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں، خصوصاً بلوچستان، خیبر پختون خواہ کے بعض پہاڑی اور نیم خشک علاقے، کوئٹی، زیارت اور پشاور کے علاقوں میں پایا جاتا ہے، یہ گرمی برداشت کر لیتا ہے لیکن شدید ٹھنڈ اور کہر سے متاثر ہو سکتا ہے، اچھی نکاسی والی زمین میں بہتر پیداوار دیتا ہے، کم پانی میں بھی نسبتاً اچھی نشوونما پا لیتا ہے، اٹک یا گردونواح کی آب و ہوا عموماً انجیر کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے، بشرطیکہ پودے کو ابتدائی چند سال مناسب پانی اور نگہداشت فراہم کی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور عام شہری مل کر شجرکاری کی مہمات میں حصہ لیں۔ ہر شخص اگر سال میں کم از کم ایک یا دو درخت بھی لگائے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرے تو ملک میں سبز انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور پرورش بھی ضروری ہے تاکہ وہ تناور درخت بن کر معاشرے کو فائدہ پہنچا سکیں۔
درخت درحقیقت زمین کا حسن، ماحول کا تحفظ، معیشت کی ترقی اور انسانی صحت کی ضمانت ہیں۔ یہ قدرت کی خاموش نعمت ہیں جو بغیر کسی صلے کے انسانیت کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر ہم ایک بہتر، سرسبز اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں درختوں کی قدر کرنا ہوگی، جنگلات کو محفوظ بنانا ہوگا اور شجرکاری کو قومی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ یہی آنے والی نسلوں کے لیے ہمارا بہترین تحفہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔