پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں توانائی کا بحران محض ایک عارضی مسئلہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی کا بنیادی چیلنج بن چکا ہے۔ آئے روز پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قلت، لوڈشیڈنگ اور صنعتی سست روی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہمارا موجودہ توانائی نظام پائیدار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کب تک درآمدی تیل کے سہارے اپنی معیشت کو چلانے کی کوشش کرتا رہے گا، اور کب وہ حقیقی معنوں میں توانائی کے شعبے میں خود کفیل بن سکے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل اور ایل این جی پر منحصر ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں یا خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ حالیہ عالمی حالات—خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ درآمدی انحصار کسی بھی ملک کے لیے ایک مستقل خطرہ ہوتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے عارضی اور مہنگے حل اپنائے۔ کبھی فرنس آئل پر انحصار بڑھایا گیا، کبھی مہنگی ایل این جی درآمد کی گئی، اور کبھی شارٹ ٹرم پاور پلانٹس لگا کر مسئلے کو وقتی طور پر دبانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی مہنگی ہوئی بلکہ گردشی قرضے کا پہاڑ بھی کھڑا ہو گیا۔
ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنی توانائی پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دے اور ایسے راستے اختیار کرے جو اسے خود کفالت کی طرف لے جائیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے علاقائی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ ایران پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے اور دنیا کے بڑے تیل و گیس ذخائر رکھتا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ایران اپنا تیل مختلف راستوں سے فروخت کر رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہو سکتا ہے کہ وہ سستی توانائی حاصل کرے۔ زمینی بارڈر کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل نہ صرف لاگت کم کر سکتی ہے بلکہ سپلائی کو بھی مستحکم بنا سکتی ہے۔
اسی طرح روس بھی ایک اہم آپشن کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک پابندیوں کے باوجود روس سے سستا تیل خرید رہے ہیں اور اپنی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ پاکستان اگر متوازن خارجہ پالیسی اپنائے تو وہ بھی ایسے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اصل ضرورت جرات مندانہ فیصلوں اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ہے۔
تاہم اصل اور دیرپا حل درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک ایسا ملک ہے جہاں شمسی توانائی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ سال کے بیشتر حصے میں دھوپ کی موجودگی ہمیں یہ موقع دیتی ہے کہ ہم سولر انرجی کو بڑے پیمانے پر فروغ دیں۔ گھروں، صنعتوں اور زرعی شعبے میں سولر سسٹمز کا استعمال نہ صرف بجلی کی کمی کو پورا کر سکتا ہے بلکہ درآمدی ایندھن کی ضرورت کو بھی کم کر سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، ہائیڈرو پاور اور تھر کے کوئلے جیسے مقامی وسائل کو بھی بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان تمام ذرائع کو ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی توانائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ اضافی بجلی بھی پیدا کر سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلے شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنانا ہوگا۔ کرپشن، بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت، سرمایہ کاری کے مواقع اور پالیسیوں میں تسلسل بھی نہایت ضروری ہے۔یہ بھی اہم ہے کہ عوام کو اس عمل کا حصہ بنایا جائے۔ اگر حکومت سولر انرجی کے لیے آسان قرضے، سبسڈی اور ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرے تو لاکھوں گھر اپنی بجلی خود پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا بلکہ عوام کو بھی براہِ راست ریلیف ملے گا۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ توانائی بحران کا حل کسی ایک فیصلے یا ایک منصوبے میں نہیں بلکہ ایک جامع اور طویل المدتی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ ایران اور روس جیسے ممالک سے سستی توانائی حاصل کرنا ایک وقتی سہارا ہو سکتا ہے، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب پاکستان اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر خود کفالت حاصل کرے گا۔اگر ہم نے اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو توانائی بحران ہر آنے والے سال میں مزید شدت اختیار کرے گا۔ مگر اگر آج درست سمت میں قدم اٹھایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو کر ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد رکھ سکے گا۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ