
گزشتہ روز چیف ایڈیٹر پنڈی پوسٹ عبدالخطیب چوھدری سے ان کے نو تعمیر شدہ دفتر میں ملاقات ہوئی تو خیال آیا عصر حاضر میں معمولات زندگی کو نبھانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں کہ فنون لطیفہ کی جانب طبعیت مائل ہو یا شوق صحافت کو پروان چڑھایا جائے مگر یہ اچھوتا خیال یا انہونی بات نہیں آخر یہ معاملہ مجھ جیسوں کے ساتھ بھی ہوا تو ہے حیرت ہوتی ہے عبدالخطیب چوھدری کی شخصیت کو دیکھ کر کہ جنہوں اپنے ساتھ ساتھ اپنے جیسے جانے کتنوں کا “بیڑا “پار لگانے کا “بیڑا” اٹھا رکھا ہے عبدالخطیب چوہدری نے نہ صرف حلقہ صحافت میں منفرد مقام پایا ہے بلکہ انہوں نے اپنی محنت، دیانت داری اور مستقل مزاجی سے کاروباری دنیا میں بھی نمایاں ترقی کی۔ ان کی شخصیت اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر کوئی خلوص نیت سے سفر آغاز کرے عزم، اصول اور لگن کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھے تو اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ لگ بھگ ایک دہائی قبل انہوں نے ہفت روزہ “پنڈی پوسٹ” کے نام سے اخبار کا آغاز کیا، جو وقت کے ساتھ مقامی صحافت میں ایک معتبر آواز بن گیا۔ اس پلیٹ فارم کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ ایک جانب تو مقامی سطح پر صحافتی فورم میسر آیا تو دوسری جانب عبدالخطیب چوہدری نے سکہ بند صحافیوں کے ساتھ نئے لکھاریوں کو بھرپور مواقع فراہم کیےاور ان کی رہنمائی کی عبدالخطیب چوہدری کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی شرافت، عاجزی اور خلوص ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب صحافی اور کاروباری شخصیت ہیں بلکہ ایک ایسے انسان بھی ہیں جو دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی جدوجہد، اصول پسندی اور خدمتِ خلق کی عملی تصویر ہے، بلا شبہ لکھاریوں کی نئی پیڑھی کے لئے ان کی شخصیت مشعلِ راہ ہے۔