ایران امریکہ مذاکرات میں تعطل کے باوجود سکیورٹی ہائی الرٹ ہونےراستوں کی بندش جڑواں شہروں میں معمولات زندگی سنگین صورتحال اختیار کرنے لگے

راولپنڈی ایران امریکہ مذاکرات میں تعطل اور نئی تاریخ کا اعلان نہ ہونے کے باوجود بدستور سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے، راستوں کی جزوی بندش اور مال بردار گاڑیوں کے داخلے پر پابندی سے جڑواں شہروں میں معمولات زندگی سنگین صورتحال اختیار کرنے لگے جس سے راولپنڈی اسلام آباد میں پٹرول کی قلت کے ساتھ اشیائے خوردونوش کا بحران بھی تیز ہونے لگا جبکہ ہول سیلروں سے پرچون فروشوں تک ذخیرہ اندوزوں نے ہر چیز پر من مانے ریٹ مقرر کر دئیے جڑواں شہروں میں میٹرو اور گرین و پنک بس سروس

سمیت سرکاری سطح پر چلنے والی ٹرانسپورٹ کی مسلسل بندش سے شہریوں کی آمدورفت بھی اذیت ناک صورتحال اختیار کر گئی مال بردار گاڑیوں اور آئل ٹینکروں کے شہر میں داخلے پر پابندی اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل نہ ہونے سے جڑواں شہروں کے متعدد پٹرول پمپ بند ہو گئے آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نعمان بٹ نے حکومت سے راستہ نکالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے باعث ایسوسی ایشن کے معمولات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں راولپنڈی اسلام آباد میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی شدید متاثر ہے جبکہ انتظامیہ آئل

ٹینکرز کو روک کر انتظامیہ انتہائی ناروا سلوک کررہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ اور حکومت ہمارے لئے کوئی راستہ نکالے تاکہ سپلائی بروقت ممکن بنائی جاسکے انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں میں 50 فیصد پٹرول پمپ بند پڑے ہیں لہٰذا انتظامیہ ہمارے لئے کم سے کم ہمیں 4 گھنٹے کا راستہ دے تاکہ سپلائی بحال رہے اور جڑواں شہروں میں آئل ٹینکرز کی رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوں دوسری جانب ایران اسرائیل مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے باوجود اسلام آباد راولپنڈی میں 2 ہفتوں سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جڑواں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس بدستور تعینات ہے جبکہ میٹرو بس سروس

، گرین بس سروس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ فیض آباد اور پیرودھائی کے ٹرانسپورٹ اڈے بھی تاحکم ثانی بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اگرچہ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی دفاتر کھلے ہونے کے ساتھ اندرون شہر انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ بھی چل رہی ہے لیکن سرکاری نجی دفاتر میں کام کرنے والی خواتین سمیت جڑواں شہروں میں نوکری اور کاروبار کیلئے جانے والے لوگ بھی مشکلات کا شکار ہیں اسی طرح شہر میں پھلوں سبزیوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ کے سٹاک بھی محدود ہونے سے قلت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے عوامی حلقوں نے وفاقی و صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری حل نکالا جائے۔