پاکستان کی مساجد میں محراب نویسی کا اعزاز گوجرخان کے رہائشی رحمت علی کو حاصل ہوا

فیصل عرفان

گوجر خان میں کینوس محراب نویسلک بھر کی مساجد کے محرابوں کی خطاطی پہلے پتھر اور ماربل پر کی جاتی تھی۔2020ء کے آغاز میں تحصیل گوجر خان کے گاؤں ہرنال سے تعلق رکھنے والے خط ثُلث کے ماہر خطاط رحمت علی نے ریلوے سٹیشن گوجر خان پر قائم مسجد میں پہلی بار کینوس(سوتی کپڑا) پرخطاطی کر کے اس طرز کی محراب نویسی کی بنیاد رکھی،اسکے بعدرحمت علی گوجر خان میں ہی دیگر پانچ مساجد کی اسی طرز پر محراب نویسی بھی کر چکے ہیں۔

جس مسجد میں یہ محراب نویسی کرنی ہو اس مسجد کے محراب کی پیمائش کر کے کینوس پر ثُلثِ جلی (خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ؐمیں اسی خط میں خطاطی ہوئی ہے)سے خطاطی کی جاتی ہے۔بعد ازاں خطاطی سے مزین اس کینوس کو محراب میں چسپاں یا فکس کر دیا جاتا ہے۔

اس طرز کی محراب نویسی میں مسجد انتظامیہ کی خواہش یا وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے جیسے روغنیات یا سپیشل ڈسٹ گولڈ یا پھر 24قیراط سونے کے اوراق اس خطاطی میں چسپاں کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کم قیمت سونے کے ذریعے یہ خطاطی کی جاتی ہے۔

یہ کینوس محراب نویسی کسی بھی رنگ میں کی جاسکتی ہے لیکن عمومی طور پر سیاہ کینوس پر سنہری رنگ یا پھر سبز کینوس پر ہلکا سنہری رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔یہ خطاطی کا مشکل ترین مرحلہ ہے اس میں پہلے الفاظ کی کمپوزیشن کی جاتی،پھر انکولائن میں لکھا جاتا،پھر اسکو کینوس پر منتقل کیا جاتا،پھر رنگ کیاجاتا اور پھر آخری مرحلے میں ان الفاظ پر گولڈڈسٹ یا گولٖ لیف استعمال ہوتا ہے۔

عام فہم زبان میں الفاظ پر سونے کا پانی چڑھایا جاتا یا پھر سونے کے اوراق چسپاں کیے جاتے ہیں، پانچ سے چھ بار الفاظ کو لکھائی کے مراحل سے گزارنا پڑتا ہے۔رحمت علی کا دعویٰ ہے کہ اس طرز کی محراب نویسی اور کمپوزیشن پہلی بار انہوں نے ہی کی ہے،مساجد میں یہ محراب نویسی ملک بھر میں پہلے کہیں بھی نہیں ہوئی،

یہ اعزاز گوجر خان اور میرے حصے میں ہی آیا ہے،2020ء سے تاحال(14مارچ2026تک)اس طرز کی محراب نویسی رحمت علی ہی کررہے ہیں۔ رحمت علی روایت کرتے ہیں کہ ”استاد محترم محمدعلی زاہد سے جب خطِ ثُلث سیکھا تواللہ پاک کی طرف سے ہی میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کینوس پر جلی حروف میں اگر خطِ ثُلث کی خطاطی ہوسکتی ہے تو کیوں نہ اس کینوس کو مساجد کی محرابوں پرہونیوالی خطاطی کیلئے رواج دیا جائے“(رحمت علی،راقم سے ٹیلی فونک گفتگو،ہرنال،13مارچ2026) محرابوں کے علاوہ قرآنی آیات اور درود شریف پر مشتمل کینوس خطاطی کے یہ نمونے مساجد کے مرکزی ہالوں اور اندورنی داخلی دروازوں پر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں۔بڑکی جدید کے محلہ ماسٹراں کی جامع مسجد نورانی میں بھی آویزاں کچھ کینوس خطاطی کے نمونوں کی لکھائی اور کمپوزیشن رحمت علی نے کی ہے جبکہ کینوس پر برش سے منتقلی عبدالرحمن تابانی نے کی ہے۔

مشمولہ۔زیر طبع کتاب “خوش نویسان گوجرخان”


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.