گوجرانوالہ (پنڈی پوسٹ نیوز)گوجرانوالہ میں پھوپھی کے ہاتھوں تین سالہ بچی کے قتل کی لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف اور غم کی فضا پیدا کر دی۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کو اس کی اپنی پھوپھی نے قتل کیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کے والد بسلسلہ روزگاربیرونِ ملک مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنی تین سالہ بیٹی کو پرورش کے لیے پاکستان میں اپنی غیر شادی شدہ بہن اور بھائی کے پاس چھوڑ رکھا تھا۔
کچھ عرصہ بعد بچی کی پھوپھی نے اپنے بھائی کو بتایا کہ اس کے لیے آسٹریلیا سے شادی کیلئےرشتہ آیا ہے ، لڑکے والے اسے دیکھنے آنے والے ہیں میں بچی کی ذمہ داری مزید ادا نہیں کر سکتی۔تاہم بیرون ملک سے آئے بڑے بھائی نے کہا کہ بچی تم سے بہت مانوس ہے اس لیے جب تک بچی بڑی نہیں ہو جاتی تمہاری شادی ممکن نہیں۔ انہوں نے رشتے کیلئے آئے لڑکے کو بھی گھر سے بےعزت کرکے واپس بھیج دیا۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد بہن اور بھائیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ ملزمہ نے یہ سوچ کر انتہائی قدم اٹھایا کہ بچی کی موجودگی اس کی شادی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
تحقیقات کے مطابق ایک دن موقع پا کر ملزمہ نے بچی کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا اور لاش گھر میں چھپا دی۔ بعد ازاں بچی کے لاپتا ہونے پر اس کے والد اور چچا نے محلے میں تلاش شروع کی جبکہ پولیس کو بھی اطلاع دی گئی۔
پولیس کی کارروائی کے دوران گھر کے قریب پچھلی گلی سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی تفتیش اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے پولیس کو ملزمہ پر شبہ ہوا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ بچی کی وجہ سے اس کی شادی میں تاخیر ہو رہی تھی اسی وجہ سے اس نے یہ ہولناک جرم کیا۔