ایران اور امریکہ کے تعلقات طویل عرصے سے پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نسبتاً بہتر تھے، خاص طور پر جب ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم 1979 کے اسلامی انقلاب نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ اس انقلاب کی قیادت روح اللہ خمینی نے کی، جس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات منقطع ہو گئے۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور یرغمالی بحران نے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو مزید گہرا کر دیا۔
اس کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی مسلسل بڑھتی رہی۔ ایران نے اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری اور مزاحمت کو بنیادی اصول قرار دیا، جبکہ امریکہ نے ایران پر دہشت گردی کی حمایت اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ تو نہیں ہوئی، مگر پراکسی تنازعات، پابندیاں اور سفارتی دباؤ مسلسل جاری رہا۔
ایران کے جوہری پروگرام نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کو خدشہ تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف تھا کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ 2015 میں ایک اہم معاہدہ Joint Comprehensive Plan of Action طے پایا جس میں ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ یہ معاہدہ امید کی ایک کرن سمجھا جا رہا تھا۔
لیکن 2018 میں Donald Trump کی انتظامیہ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا اور ایران نے بھی مرحلہ وار معاہدے کی بعض شرائط سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اس دوران خلیج فارس میں کشیدگی، تیل بردار جہازوں پر حملے اور عسکری بیانات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں دونوں ممالک کے مفادات کا ٹکراؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے ممالک میں بالواسطہ طور پر دونوں طاقتیں مختلف گروہوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے، جبکہ ایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی تناظر میں 2020 میں امریکی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے حالات کو انتہائی کشیدہ کر دیا تھا۔
ایران کی جرات اور استقامت بھی اس پوری صورتحال کا اہم پہلو ہے۔ طویل اقتصادی پابندیوں، عالمی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باوجود ایران نے اپنی پالیسیوں میں خودمختاری کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔ ایرانی قیادت اور عوام اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی وقار اور آزادی کے لیے مشکلات برداشت کرنا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک جنگ کے لیے صرف جدید ہتھیار کافی نہیں ہوتے بلکہ حوصلہ، اتحاد اور غیرت بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی جذبے نے ایران کو داخلی دباؤ اور بیرونی چیلنجز کے باوجود قائم رکھا ہے۔
ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ بھرپور جواب دے گا۔ دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنائے گا۔ اس بیانیے نے دونوں ممالک کے درمیان طاقت کے مظاہرے کو بڑھایا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے عالمی اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، اور مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ اگر خلیج فارس میں کسی بڑے تنازعے کی صورتحال پیدا ہو جائے تو عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں پر پڑیں گے۔
عالمی برادری عموماً دونوں ممالک پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کریں۔ یورپی ممالک، روس اور چین جیسے بڑے عالمی کردار مختلف اوقات میں ثالثی کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے، بعض میں پیش رفت بھی ہوئی، مگر مکمل اعتماد کی بحالی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، جو امید کی علامت ہے۔
آخرکار یہ حقیقت واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جدید دور میں طاقت کا توازن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور عوامی حمایت سے قائم رہتا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ اپنے اختلافات کو مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حل کریں تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن و استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ مستقل امن کے لیے تصادم کے بجائے تدبر، حوصلہ اور سفارتکاری زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.