مری میں بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم کی متاثرہ خاندان سے ملاقات،افسوس کا اظہار۔

مری(اویس الحق سے)دو روز قبل ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کشمیر پوائنٹ کے مقام پر خواتین سے ناروا سلوک کرنے کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم پاکستان شاید خاقان عباسی نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 17 اکتوبر کو ایک بہت دردناک واقعہ مری میں پیش آیا جس میں انتظامیہ کی بے حسی اور جارحانہ رویہ مری ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں دیکھا گیا کہ کس طریقے سے بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یہاں ان بچیوں کو تھانے میں لے جایا گیا،پرچے درج کئے گئے اور ان کے کپڑے پھاڑے گئے یہ سب رکارٹ کا حصہ ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان نے کہا کہ ہم صرف عزت چاہتے ہیں یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے یہاں ان کے ساتھ تمام سیاسی پارٹیاں موجود ہیں

انھوں نے کہا کہ حکومت اگر چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو ہم کہاں جائینگے؟اگر کوئی انکروچمنٹ کا معاملہ ہے تو وہ بیٹھ کر حل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ لوگوں نے گھروں پر حملہ آور ہوں ان کے گھروں کو توڑیں ان پر حملہ آور ہوں اور خواتین کی بے حرمتی کریں یہ معاملہ ہمیں کسی بھی حوالے سے قبول نہیں ہے امید کرتے ہیں اس حوالے سے انکوائری عمل میں لائی جائیگی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ بدنصیبی ہے کہ ملک کے جرنلسٹس اس قانون کا شکار ہیں جو ان کے تحفظ کےلئے بنایا گیا تھا اب ان کی آواز کو دبانےکےلئے استعمال کیا جا رہا ہے،اس لئے ارباب اختیارات و اقتدار کو اپنے گربان میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباس نے فورتھ شیڈول کے حوالے سے بتایا کہ مری میں ایسا کوئی شخض نہیں ہے جس پر یہ قانون لاگو ہو یہاں کوئی دہشت گرد نہیں ہے،انتظامیہ صرف یہاں کے لوگوں کی آواز کو دبانے کےلئے فورتھ شیڈول لگاتے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ ایسے قانون کی مری میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔