سود اور سودی نظام کی تباہی

سود جسے عربی زبان میں رباکہاجاتاہے یہ ایسا بظاہر ناجائز منافع ہے جو کسی کو قرض دیکر اس سے اٹھایاجاتاہے اور اس کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ سود ایک ہلاکت کا سامان ہے‘ سود کالین دین کرنا اس پر گواہ بننا ناجائز اور حرام ہے۔ اسلام میں اس قبیح اور ناپسندیدہ کام کی ناصرف شدید مذمت بیان کی گئی ہے بلکہ اس سے بچنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ اس کے بدترین انجام سے ڈرایا بھی گیاہے یہاں تک کہ اس عمل کو اللہ اور رسول اللّہﷺ سے جنگ قرار دیاگیاہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود بقایا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم اہل ایمان ہو‘ اگر تم ایسا ناکرو گئے تو سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے‘ اگر توبہ کرلوگئے توتم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے‘ناتم کسی پر ظلم کرپاؤگئے اور ناہی تم پر ظلم ہونے پائے گا اگر تنگ دستی ہوتو مہلت کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو تو زیادہ بہتر ہے۔

تمارے لئے اگرتم کو خبر ہو دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اللّٰہ نے حلال کیاہے بیع کو اور حرام کیا ہے رباکو‘ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقہ میں مال مستحق کو بلا معاوضہ دیاجاتاہے اس کی مدد کی جاتی ہے اللہ رب العزت سے اس کااجروثواب لیاجاتاہے جبکہ سود سے اورسودی نظام سے دوسرے کے ساتھ ظلم کیاجاتا ہے‘ اللہ کے عذاب کو دعوت دی جاتی ہے‘ برکت ختم ہوجاتی ہے‘ ذلت مقدر بن جاتی ہے حتی کہ عزت بھی نیلام ہو جاتی ہے اور بعض اوقات انسان تنگ آکراپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے سود اللہ سے اعلان جنگ کے ساتھ ساتھ زنا سے بھی بدتر گناہ ہے۔ جہنم میں لے جانے والا عمل ہے انسانوں کے حقوق کی حق تلفی کا ذریعہ ہے۔کمزرو اور ضرورت مند پر ظلم ہے کمزرو کومزید کمزور کرنے والا خاموش قاتل ناقابل برداشت جرم ہے۔معاشرتی برائی کے ساتھ ساتھ لعنتی عمل ہے۔ دنیا وآخرت میں تباہی ذلت ورسوائی فقر وفاقہ کاسبب ہے‘ لعنت صرف سود لینے والے پر نہیں بلکہ سود دینے والے پربھی ہے۔

حضرت جابر فرماتے ہیں رسول اللّہﷺ نے سودکھانے والے پر سودکی تحریر لکھنے والے پر اورسود پرگواہ بننے والے پرلعنت فرمائی ہے اورفرمایایہ سب اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپرلازم کرلیا ہے چار قسم کے لوگ جنت میں داخل نا ہوں گے اورناہی جنت کی نعمتوں کاذائقہ چکھے گے ان میں سے ایک سود خور ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہﷺ نے ارشادفرمایا شب معراج میں ایک قوم پرسے میرا گزرہوا جن کے پیٹ بڑے بڑے مکانوں جیسے تھے ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے میں نے جبرائیل امین سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا یہ سود خور ہیں۔ سود کی لعنت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ یہ معاملہ صرف دو افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ سودی معاملات میں معاون بننے والے تمام افراد چاہے سود دینے والے لینے والے لکھنے والے اور گواہ بننے والے ہوں سب اللہ کی لعنت کے حقدار بنتے ہیں اور رحمت برکت اور سعادت سے محروم رہتے ہیں۔

حدیث مبارکہ میں آتاہے کہ رسول اللّہﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے سود لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے دوسری جگہ فرمایا چار شخص ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گئے ان میں سے ایک سودخور ہے اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے اور اس میں رہنے کے تمام طور طریقے سکھا دئیے ساتھ ہی معاشرے میں بڑھتی برائیاں اور ان کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کا طریقہ بھی سکھا دیاہے۔ اس معاشرے میں تباہی وعذاب کااسباب بننے گناہوں کابھی ذکرکردیا اللہ کی ناراضگی عذاب اور قہر برسنے کے تین اسباب ہیں سودخوری زنا بدکاری اور زکوٰۃ کی عدم ادائیگی۔ ایک حدیث میں ہے جب کسی قوم میں سود اور زنا عام ہو جائے تو تو وہ قوم اللہ کے عذاب کی مستحق بن جاتی ہے ہمارے معاشرے کی تباہی میں یہ دونوں بیماریاں عام ہیں جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں ہمارے معاشرے میں لوگوں نے کاروبار سود پرچلارکھے ہیں لوگوں کو اس میں جکڑ رہے ہیں ان کی زندگیاں تباہ کررہے ہیں جو لوگ اس سودی دلدل میں پھنس چکے ہیں ان کی عزت اور زندگی کادونوں کاجنازہ نکل رہاہے دنیا بھی اس بات کا مشاہدہ کر چکی ہے کہ اخلاقی ذہنی روحانی جسمانی انفرادی اور اجتماعی طور پر سودی نظام نے جس قدر معاشرے میں تباہی پھیلائی جس نقصان سے دوچار کیا قہر الٰہی کو دعوت دی اس کو الفاظ میں بیان کرنا اور اس کا ازالہ کرنا ناممکن ہے۔

سود اور سودی نظام نے معاشرے میں معاشی اقتصادی نقصان کے علاؤہ کچھ نہیں دیا ایک کھوکھلا معاشی ڈھانچاکھڑا کرکہ لوگوں کو دھوکہ دیا سودی نظام چلانے والے لوگ خود غرضی‘ لالچی‘ بے رحمی‘سنگدلی اور بداخلاقی میں تمام حدود پارکرچکے ہیں ان کو اس بات سے سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مجبور کاساتھ دیاجائے ان کی مدد کی جائے یا ان کو رعایت اور مہلت دی جائے بلکہ انکو لالچ نے اس قدر اندھاکردیا ہوتاہے کہ انہیں انسانیت سے زیادہ اپنا نفع نظرآتاہے۔ سودخور کواس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قرض لینے والا مجبور ہے نقصان سے دوچار ہے یا زندگی سے تنگ آچکاہے۔ خلاصہ یہی ہے کہ جب اللہ سے جنگ کرنے کیلئے کوئی بھی سود خور تیارہوجائے تو پھر دنیا میں اس کا انجام تباہی ذلت ورسوائی فقر وفاقہ عذاب غربت افلاس معاشی بحران معاشرتی بدحالی کی صورت میں سامنے آکرہی رہے گا بحیثیت مسلمان ہمیں اس گناہ سے بچناچاہیے ہرگز اس گناہ کا حصہ نہیں بننا چاہیے اگر اللہ نے کسی کو اسلام کی دولت کیساتھ ساتھ دنیا کی دولت بھی عطاء فرمائی ہے تو غرباء کو سود پر قرض دینے کی بجائے ویسے ہی مدد کی جائے یا جو قرض دیا ہے وہی واپس لیاجائے اس سے یقیناً عزت میں مال ودولت میں صحت وتندرستی میں اور زندگی میں برکت ہو گی ورنہ سودی نظام کا حصہ بننے والوں کیلئے اسلام نے واضح حکم بیان کردیاہے اب جس کا جو جی چاہے کرے چند دن کی زندگی کے بدلہ میں جنت کا حقدار بن جائے یا پھر اللہ سے اعلان جنگ کرتے ہوئے جہنم کا ایندھن بن جائے۔


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.