28 صفر کا مرکزی جلوس چوہڑ ہرپال راولپنڈی سے برآمد ہونے کے بعد سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدی پہنچ کر اختتام پذیر ہو گیا ہزاروں عزاداروں کی شرکت۔

راولپنڈی(اویس الحق سے)28 صفر وصال حضرت محمدؐ اور شہادت امام حسن مجتبیٰؑ کا مرکزی جلوس تابوت،ذوالجناح وعلم حضرت عباس علمدار عزاخانہ سید کرم حسین شاہ پشاور روڈ چوہڑ ہڑپال سے برآمد ہوا۔ایسے میں مختلف گھروں سے برآمد ہونے والے جلوس بھی چوہڑ چوک پہنچ کر مرکزی جلوس میں شامل ہو گئے۔مرکزی جلوس کی قیادت سجادہ نشین دربارسخی شاہ پیارا سید قاسم علی شاہ، ٹی این ایف جے کے مرکزی نائب صدر باوا سید فرزند علی شاہ کاظمی، سیکرٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی کی زیر نگرانی برآمد ہوا۔جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا علمدار شہید چوک پہنچا جہاں عزاداروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے زنجیرزنی اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے زبردست الفاظ میں محمد و آل محمدؐ کو خراج عقیدت پیش کیا۔جہاں ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمگسار دیکھائی دیا۔

ٹی،این،ایف،جے کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسوہ رسولؐ خدا اور سیرت حضرت امام حسنؑ امن کے قیام کا بہترین درس دیتا ہے،یوم شہادت پر امت مسلمہ،میڈیا، سب خاموش ہیں جس سے افسوس ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق،ایران جانیوالے زائرین کی سہولت کیلئے حکومت ٹی این ایف جے کی مشاورت سے خصوصی پلان تشکیل دے،حکومت کی جانب سے زائرین پر زمینی سفر پر پابندی غیر قانونی اقدام تھا جس میں زائرین کا اربوں روپے کے نقصانات ہوئے ہیں، زائرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کے مخدوش حالات کو جواز بنا کر حکومت نے زائرین کے زمینی سفر پر پابندی عائد کر کے زائرین کو شدید مشکلات اور تکالیف سے دوچار کر دیا ہے، اس اقدام سے ریاست کی کمزوری کا تاثر پیدا ہوا ہے جو کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ایسے میں زائرین کیلئے متبادل سفری ذرائع کا بندوبست کرے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کرے۔

انہوں نے کہا عزاداری و زیارات عبادات ہے جس پر کسی پابندی کو قبول نہیں کریں گے،حکومت عوام کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے، کوئٹہ تافتان بارڈر پر زائرین کے مسائل آمد و رفت کو تر جیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، صوبہ پنجاب میں انتظامیہ کی جانب سے چاردیواری کے اندر عزاداری پر قدغن کا نوٹس لیں، کرسی آنی جانی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عزاداری ہمیں جان سے پیاری ہے یہ وطن ہمیں عزیز ہے،عزاداری امام حسینؑ غیرت و حمیت کا درس دیتی ہے جس پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

مرکز تشیع کی پالیسی اور ضابطہ عزاداری کے مطابق آٹھ ربیع الاول تک عزاداری کو ہر شے پر ترجیح دی جائیگی،8ربیع الاوّل تک جاری رہنے والے شہادت امام حسن عسکری ؑ اور ایام عزا کے الوداعی پروگراموں میں خصوصی سیکورٹی انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ ملک میں قیام امن کا ایک ہی راستہ ہے کہ حسینیت کا علم تھام لیا جائے،پاک فوج کے خلاف نفرت ابھارنا وطن عزیز کے خلاف سازش ہے، پاک وطن کی حفاظت کی ضمانت ذکر حسین ہے جس پر کوئی سودے بازی نہیں کی جاے گی۔

مرکزی ماتمی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا دربار سخی شاہ پیارا کاظمی المشہدی پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

اس موقع پر ہر سال کی طرح اس سال بھی عزاداروں کےلئے ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کیلئے ابراہیم اسکاؤٹس کی جانب سے میڈیکل کیمپ جبکہ عزاداروں کی سہولت کیلئے مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور مختار جنریشن کی جانب سے سبیل حسینی اور استقبالیہ عزاداری کیمپ لگایا گیا تھا۔مختار فورس کے جوان تمام راستے جلوس کے ہمراہ سیکورٹی فرائض سرانجام دیے جبکہ مختار فورس کے رضاکاران نے مجلس عزا میں سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیے۔