ضیاء مل رہی ہے آج کائنات کو
رضا مل رہی ہے آج کائنات کو
صدقہ اتارا جا رہا ہے حسینؑ کا
شفا مل رہی ہے آج کائنات کو
لئی خمسۃ کی صدائیں ہیں چار سو
دواء مل رہی ہے آج کائنات کو
چوُم کے علمدارؑ کو بولے ابو ترابؑ
وفا مل رہی ہے آج کائنات کو
بولے حسینؑ، اصغرؑ کا حلق دیکھ کر
بقاء مل رہی ہے آج کائنات کو
پھیلاؤ جھولیاں آج خوش ہیں پنجتنؑ
عطا مل رہی ہے آج کائنات کو
کتنی ہے معتبر عنبرؔ یہ گھڑی
دعا مل رہی ہے آج کائنات کو
(سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی‘پنجاب)