کہاوتیں

٭آٹے میں نمک کے برار
آتے میں نمک کا بلکل ہی مزہ نہیں ہوتا اسی حوالے سے اگر کوئی خصوصیت کسی چیز میں برائے نا م ہو تو اس اس کو آٹے میں نمک کے برابر کہتے ہیں
٭آٹے دال کا بھاوُ معلوم ہونا
حقیقت حال معلوم ہونا۔سر پر سے کسی کا سایہ فیض اٹھ جانے کے بعد صحیح حالات معلوم ہونے کی وعیددی جائے تب بھی یہ کہاوت بولی جاتی ہے
٭آٹے کا چراغ
آتے کا دیا بنایا جائے تو اس کی طرف سے فکر رہتی ہے کے گھر میں چوہے کھا جائیں گے اور باہر کو اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی مناسبت سے اگر کسی چیز پر سب کی ہی بری نظر ہو اور اس کی حفاظت مشکل ہو جائے تو یہ کہاوت کہتے ہیں (محمد ادیب)

اپنا تبصرہ بھیجیں