غزل


نہ بات تھی نہ شور تھا وہ بے سبب خفا ہوئے
خفا ہوئے تو اس طرح کہ راستے جدا ہوئے
جو پتھروں کا ڈھیر تھے جو ٹھوکروں میں تھے پڑے
تراش ان کی جب ہوئی تو سب کے سب خدا ہوئے
جو کہتے تھے خدا ہیں ہم جھکو ہمارے سامنے
خدا نے غرق کر دیا نوالہء قضا ہوئے
تھے جن کے فیصلے سبھی ضمیر بیچ کر غلط
کسی کی آہ بن گئے کسی کی بددعا ہوئے
جنہوں نے جان وار دی تھی کربلا کی ریت پر
شریعتیں بچا گئے وہ دین پر فدا ہوئے

اپنا تبصرہ بھیجیں