اسلام آباد (پنڈی پوسٹ نیوز) ڈیری مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی کم کرنےکی تجویز سامنے آگئی ، تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جاسکے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیرِ صدارت ڈیری سیکٹر کو درپیش مسائل کے حل اور اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں شہزاد امین کی قیادت میں پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے وفد نے شرکت کی اور ڈیری سیکٹر کو درپیش ٹیکس اور ٹیرف چیلنجز سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لیے جینیاتی معیار کو بہتر بنانے اور کسانوں کو روایتی طریقہ کار سے نکال کر باقاعدہ کاروباری ماڈل کی طرف لانے پر زور دیا گیا
۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ڈیری سیکٹر کو ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں رانا احسان افضل کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے حتمی تجاویز تیار کریں۔
اجلاس میں ایک اہم تجویز پیش کی گئی کہ ڈیری مصنوعات پر نافذ 18 فیصد جی ایس ٹی میں کمی کی جائے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔
اس کے علاوہ بڑے شہروں میں پائلٹ منصوبوں کے ذریعے صرف پیسچرائزڈ اور پیک شدہ دودھ کی فروخت کو یقینی بنانے کی تجویز بھی دی گئی۔وزیر تجارت جام کمال نے کسانوں کے لیے مالی معاونت اور بینکنگ سہولتوں کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیری سیکٹر میں اصلاحات کے لیے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو خط لکھیں گے تاکہ وفاق اور صوبے مل کر اس شعبے کو منظم کر سکیں۔