محنت کش کا ادھورا خواب

یکم مئی کا دن دنیا بھر میں محنت کشوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں یہ دن زیادہ تر رسمی تقاریب اور بیانات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مزدور آج بھی اُن بنیادی حقوق سے محروم ہے جن کے لیے کبھی اس نے قربانیاں دی تھیں۔
ہمارے معاشرے کا یہ خاموش طبقہ صبح سے شام تک مسلسل محنت کرتا ہے۔ کوئی اینٹیں اٹھاتا ہے، کوئی کھیتوں میں ہل چلاتا ہے، کوئی فیکٹریوں میں مشینوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ان سب کا مقصد صرف ایک ہے: اپنے خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست۔ مگر مہنگائی کی بے قابو لہر نے اس خواب کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ اجرت اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مزدور کی زندگی کو ایک کٹھن امتحان میں بدل چکا ہے۔


افسوسناک امر یہ ہے کہ مزدور نہ صرف مالی مشکلات کا شکار ہے بلکہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔ اس کے بچے اکثر اسکول جانے کے بجائے کم عمری میں ہی محنت کی مشقت اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بیمار ہونے کی صورت میں مناسب علاج میسر نہ ہونا ایک اور المیہ ہے جو اس طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔


یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کی ترقی کا پہیہ دراصل مزدور کے ہاتھوں سے ہی چلتا ہے۔ سڑکیں، عمارتیں، کارخانے اور کھیت اسی کی محنت کا نتیجہ ہیں۔ مگر بدقسمتی سے وہی مزدور معاشی اور سماجی انصاف سے دور کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کی محنت کا اعتراف تو کیا جاتا ہے، مگر عملی اقدامات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
یکم مئی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے محنت کش کو اس کا حق دیا؟ کیا ہماری پالیسیاں واقعی اس کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدور کو صرف زبانی ہمدردی نہیں بلکہ عملی سہارا فراہم کیا جائے۔ مناسب اجرت، صحت کی سہولتیں، بچوں کے لیے تعلیم اور کام کے محفوظ حالات ہر مزدور کا بنیادی حق ہیں۔ جب تک یہ حقوق یقینی نہیں بنائے جاتے، ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔


آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کوشش کریں گے جہاں محنت کو عزت دی جائے، مزدور کو انصاف ملے اور وہ بھی باوقار زندگی گزار سکے۔ کیونکہ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ہر فرد، خصوصاً محنت کش، خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرے۔